نتائج تلاش

  1. کاشفی

    تنہا تنہا راتوں میں نیند نہیں آتی ہے

  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بچوں کو ماں کی گود بھی مکتب سے کم نہیں اس مدرسے میں حاجتِ لوح و قلم نہیں (پنڈت بشن نراین در)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اثر ہو سننے سے کانوں کو یا نہ ہو لیکن جو فرض تھا وہ ادا کرچکی زبان اپنا (پنڈت بشن نراین در)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جب نہ سوجھی راہِ حق گم گشتگانِ دہر کو شیخ کوئی ہوگیا کوئی برہمن ہوگیا (پنڈت بشن نراین در)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نیّتِ پاک ہی کافی ہے طہارت کے لئے نہ وضو چاہیئے زاہد نہ تیمم مجھ کو (پنڈت بشن نراین در)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وہ اور ہیں جو پیتے ہیں موسم کو دیکھ کر آتی رہی بہار میں توبہ شکن ہوا (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دیکھنے والوں سے انداز کہیں چھپتے ہیں ہم کو پردے میں نظر آتی ہے صورت اچھی (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بڑا مزا ہے جو محشر میں ہم کریں شکوہ وہ مِنّتوں سے کہیں چُپ رہو خدا کے لئے (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    زباں سے کر لیا بھی وعدہ تونے تو یقیں کس کو نگاہیں صاف کہتی ہیں کہ دیکھو یوں مکرتے ہیں (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    زاہد کو بندگی کا نتیجہ تو مِل گیا گردن خمیدہ یادِ الہٰی میں رہ گئی (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خبر سُن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کیا بادہء گلگوں سے مسرور کیا دل کو آباد رکھے داتا ساقی تری محفل کو (آتش)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جاتے تھے مُنہ چھپائے ہوئے میکدے کو ہم آتے ہوئے اُدھر سے کئی پارسا ملے (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  14. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    داغ کہتے ہیں جنہیں دیکھئے وہ بیٹھے ہیں آپ کی جان سے دُور آپ پہ مرنے والے
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    لطف ہے میں بھی شبِ وصل کہیں چھُپ رہتا آدمی اُن کا مری ٹوہ میں گھر گھر پھرتا (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وعدے پہ مرے اُن کے قیامت کی ہے تکرار اور بات ہے اتنی کہ اِدھر کل ہے اُدھر آج (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہائے کہنا وہ کسی بُت کا دمِ نظارہ آنکھ بھر کر ہمیں دیکھے تو بس اندھا ہوجائے (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وہ شرمائی ہوئی آنکھیں، وہ گھبرائی ہوئی باتیں نکل کر گھر سے وہ گھِرنا ترا اُمیدواروں میں (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  19. کاشفی

    تاسف م م مغل کی بیٹی فاطمہ کی صحت و تندرستی کے لیے دعا کی درخواست

    اللہ رب العزت شفا عطا فرمائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین
  20. کاشفی

    ادبی لطائف

    ایک مرتبہ کا ذکر ہے لیکن مشاعرہ کی صحبت تھی۔ نسیم(پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی) بھی وہاں موجود تھے۔ شیخ ناسخ نے ان کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ پنڈت صاحب ایک مصرع کہا ہےدوسرا مصرعہ نہیں سُوجھتا کہ پورا شعر ہو جائے۔ اُنہوں نے جواب دیا، فرمائیے۔ ناسخ نے مصرعہ پڑھا۔ ع “شیخ نے مسجد بنا مسمار بُت خانہ...
Top