جوش نُور رگوں میں دوڑ جائے، پردہء دل جَلا تو دو - جوش ملیح آبادی

کاشفی

محفلین
غزل
جوش ملیح آبادی

نُور رگوں میں دوڑ جائے، پردہء دل جَلا تو دو
دیکھنا رقص پھر مرا، پہلے نقاب اُٹھا تو دو

رنگ ہے زرد کیوں مرا، حال ہے غیر کس لئے؟
ہو جو بڑے ادا شناس اس کا سبب بتا تو دو

میرے مکاں میں تم مکیں، میں ہوں‌مکاں سے بے خبر
ڈھونڈ ہی لوں گا میں تمہیں، مجھ کو مرا پتا تو دو

ہو، کہ نہ ہو مجھے سُکون، یہ تو خدا کو علم ہے
نزع میں آکے سامنے ناز سے مُسکرا تو دو

لطف نہیں، جفا سہی، زیست نہیں، قضا سہی
غمزہء ناروا سہی، عشق کا کچھ صلا تو دو

تم کو غرورِ ناز ہے، تم ہو تغافل آشنا
اچھا اگر یہ بات ہے، دل سے مجھے بھُلا تو دو

اِس سے تمہیں غرض نہیں، پھلنے لگے، کہ جَل اُٹھے
نخلِ حیاتِ جوش پر برقِ نظر گرا تو دو
 
Top