کاشفی

محفلین
غزل
جوش ملیح آبادی

اُن سے جا کر صبا یہ کہہ پیغام
نیند راتوں کی ہوگئی ہے حرام

اے فدا تجھ پہ دین و دل میرا
جلوہ گستر ہو میرے ماہِ تمام

یہ چلا کون اُٹھ کے پہلو سے؟
دل کی بستی میں پڑ گیا کُہرام

جتنے آشفتہ حال شہر میں ہیں
جوش کو مانتے ہیں اپنا امام
 
Top