ایک مراسلہ جو وہاں لگایا کہ یہ لڑی مقفل تھی ۔۔ سو اب یہاں دیکھیں :
صاحبان و صاحبات ! آپ وضاحتوں کے پھیرے لگائیں یا معذرت کے چکر۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ :
ہزار حرف برہنہ ہیں کوئی کیا لکھے ----------------------- امیرِ شہر کو القاب سے ذرا پہلے
کہ میرے نزدیک سب ہی ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔...
صاحبان و صاحبات ! آپ وضاحتوں کے پھیرے لگائیں یا معذرت کے چکر۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ :
ہزار حرف برہنہ ہیں کوئی کیا لکھے ----------------------- امیرِ شہر کو القاب سے ذرا پہلے
کہ میرے نزدیک سب ہی ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔ دودھ کادھلا کوئی بھی نہیں ۔ہم ( عوام ) صرف ان کی انا اور موشگافیوں کا...
شکریہ جناب اچھا اندازِتحریر ہے ۔ میں آ پ کے بلاگ پر پڑھ چکا تھا ۔ یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ سلسلہ جاری رکھیں۔
آپ کی دیگر تحاریر اس بات کی غماز ہیں کہ یہ طرزِ تحریر اور تحریر آپ ہی کی ہے ۔ انجن اور رنگ کی ترکیب خوب وضع کی تھی جناب نے ۔۔ ’’ خدا یہ جنوں کا سلسلہ آباد رکھے ‘‘ ایک اچھے نثر...
نعت، بھجن
کون ہے فرماں روا ئے عالم
اور کون ہے اس جگت کا پرت پالن،
یہاں راج ہے کام کرودھ کا ہے لوبھ موہ ہنکارکا
یہ کیا رچنا رچی ھے آخر
اور یہ کیا کھیل ہے کرتار کا
گُرو دت سنگھ،کتاب محمدﷺ کی سرکار صفحہ ۔۔۔۴۳
بشکریہ فائزہ ہاشمی ( دختر نیک اختر جناب سید انور جاوید ہاشمی)
سَمت [مضامین] جاوید اختر بھٹی ملتان
ملتان کے ایک جوان ِ رعنا بقول ڈاکٹر انور سدید جن کے جوان کاندھے پر ایک بوڑھے مردِ دانش کا سر رکھا ہوا ہے ،انھوں نے تنقیدی، تحقیق ،افسانہ اور اخباری کالم لکھ کر نام پیدا کیا اور سب سے اہم یہ کہ انھوں نے مجلسی اور تہذیبی زندگی کی ناہموایوں پر نکتہ آرائی...
مُٹھّی بھر جیون
زندگی کے دُکھوں سے شاعری کشید کرنے والے،خاک اوڑھ کر سونے والے کی چمکتی یادوں کا سرمایہ ہے 18جون1953ءکو خاک ِ شمس پر جنم لینے والے رنج و آلام کی گرد کو حرز جاں بنائے ملتان کے سرد و گرم چشیدہ وسیم قیصر مٹھی بھر جیون گزارکے۱۱دسمبر۲۰۰۲ءکو اسی خاک کو اوڑھ کر سوگئے اور اپنی چمکتی...