غزل
کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا
آگ میں جلنا تھا جتنا جل گیا
آگ پہلے سوکھے پتوں میں لگی
اور پھر جنگل گھنا سا جل گیا
کس قدر حدت مری خواہش میں تھی
ہاتھ میں آتے ہی پیسا جل گیا
میں نے دیکھا راکھ ہوتی آنکھ سے
ایک بچے کا کھلونا جل گیا
سید انورجاویدہاشمی،کراچی
غزل
سبھی مصروف ہیں دنیا تجھے اپنا بنانے میں
سو ہم بھی منہمک رہتے ہیں اک قصّہ بنانے میں
بنانا چاہتا تو کوزہ گر کیا کچھ بنا دیتا
یقینا مصلحت ہوگی ہمیں ایسا بنانے میں
جسے خوش قامتی پر ناز ہو وہ آئینہ دیکھے
کیا کرتا نہیں تا خیر آئینہ بنانے میں
رکھے نقاش ِ فطرت اپنے کارندوں کو سرگرداں...
غزل
تشنگی وہ تھی کہ سیرابی کا چہرہ جل گیا
میں لب دریا جو پہنچا سارا دریا جل گیا
اب نئے منظر میں بیٹھا ہوں ارادوں کے بغیر
جستجو کی سانس کیا پھولی کہ سینہ جل گیا
میں خزاں کا آئینہ تھا اپنی ویرانی سے خوش
تم نے مجھ میں باغ ڈھونڈا، میرا صحرا جل گیا
کیا بیاں ہو اک تعلق ختم ہوجانے کا حال...
اجازت ہو تم ہم بھی یہاں کچھ ارسال کرتے ہیں ۔
یاد کرو کیا میں نے کہا تھا آج محبت ہے کہ نہیں
کروٹ کروٹ آنکھ میں آنسو دل میں ندامت ہے کہ نہیں
( 1970ء، برش قلم، محبوب خزاں، 34 )
جی ہاں ’’نجومی ‘‘ میاں نے جو اب تک ا ن کی شخصیت میں دیکھا ’’ پیشن گوئی ‘‘ بتا کر ’’ داد ‘‘ سمیٹ رہے ہیں ،
جیسے اسلام آباد میں ایک ’’ بابا ‘‘ نے مشرف کے جانے کو اپنے چلوں کا کارنامہ لکھا تھا ۔۔ ہاہا ہاہاہ ۔
بہت شکریہ وارث صاحب ۔۔
اس ربط پر آپ دیکھ سکتے ہیں یہ ’’ فسوس الحکم ‘‘ کی تلاش پر کیا نتائج سامنے آتے ہیں ۔
حتیٰ کہ ایران کی ویب سائٹ پر بھی مجھے محی الدین عربی کی کتاب کا نام ’’ فسوس الحکم ‘‘ ہی ملا ۔۔ اب چونکہ وضاحت ہوچلی ہے ۔ لہذا میں اسے ’’ ٍفصوص ‘‘ کردیتا ہوں ۔واللہ اعلم بالصواب۔ دراصل...
لکہ ونہ مستقیم پہ خپل مقام یم
کہ بہار را باندے راشی کہ خزاں
(رحمان بابا)
ترجمہ: میں ایک درخت کی طرح اپنے مقام پر مستقل کھڑا ہوں ، چاہے مجھ پر بہار آئے کہ خزاں ۔