میرا خیال ہے کہ ہر ادبی تنقید کا تخلیق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تخلیق کے لئے لازم ہے کہ کچھ نئی بات کہی جائے سو اگر لگے بندھے طریقے سے کسی ادبی تحریر کی تنقید کا فرض ادا کر دیا جائے تو ایسی تنقید تخلیق کے زمرے میں کیسے جگہ بنا سکتی ہے۔
بددیانتی کے بارے میں ہمارے شعور و ادراک کو مزاحیہ سیاسی پروگراموں کے ذریعے بڑی کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
ٹی وی پر "ہم سب اُمید سے ہیں" اور اس قبیل کے دیگر پروگرامز میں چوبیس گھنٹے ہمیں سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی بددیانتی پر ہنسنا سکھایا گیا۔ اب ہم بڑی سے بڑی بات کو بھی ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔...
بجا فرمایا۔۔۔!
ہمارے آج کے لیڈرز کی تقریر کچھ اس قسم کی ہوا کرتی ہے۔
"آج کی عوام باشعور ہے۔ اب وہ سوشل میڈیا پر آواز اُٹھاتی ہے۔ آج کی عوام کو دبایا نہیں جا سکتا۔۔۔ !" وغیرہ وغیرہ
سمجھ نہیں آتا کہ اس بات پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔
لمحہء فکریہ والے دور سے بھی ہم آگے آ گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ جیسے سب کسی نشے میں دُھت ہیں، جو تھوڑا بہت دیکھ سن رہے ہیں اُن کے بھی اعصاب اس قابل نہیں کے ردِ عمل ظاہر کر سکیں۔
قوم بے حسی، لا علمی، لا تعلقی اور خوش گمانی کے ملے جُلے تاثرات لیے ایک عجیب ہی شے بن گئی ہے۔
عام آدمی کے اختیار میں کچھ...
مزید سنیے! پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کےجن کا کام حکومت سمیت بہت سے معاملات کو ریگولیٹ کرنا ہے، اُنہیں حکومت نے ایک حکم نامے کے تحت اپنے وزراء کے تحت کر دیا۔ یعنی جانچ پڑتال کرنے والے اب چوروں کو رپورٹ کیا کریں گے۔ اوگرا، پیمرا، نیپرا، پی ٹی اے وغیرہ اب حکومت کو کسی بات پر پابند نہیں کر سکتے بلکہ...
عجیب معاملات ہیں ایک طرف تو ہر تیسرے ماہ ایمنسٹی اسکیم نکال کر ٹیکس چوروں کے کالے دھن کو پاک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری طرف آئے دن روز مرہ کی اشیائے صرف اور بجلی گیس وغیرہ پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بیرونی قرضے اس طرح لیے جاتے ہیں کہ اُنہیں اپنی کامیابی بتایا جاتا...
شنید ہے کہ پاکستانی حکومت نے صکوک بانڈز کے عوض جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ، نیشنل موٹرویز اور ہائی ویز، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے اثاثے رہن رکھ دیے ہیں۔
مزید متعلقہ روابط:
اول
دوم
سوئم
اور بے تحاشہ خبریں اس ضمن میں جا بجا بکھری پڑی ہیں۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا :eek:
لوگ ہیں اور ہے افسانہ ہمارا
آپ اُنہیں جانتے تو ہوں گے۔
یوں تو اُن کے بارے میں جاننے کے لئے استخارہ تجویز کیا گیا ہے لیکن استخارے میں عموماً ہاں یا نہ کے اشارے ملا کرتے ہیں سو اگر آپ اُن کے حوالے سے کسی تامل، تذبذب، تردد، تکلف وغیرہ وغیرہ کا شکار ہیں اور ایک چھوٹی سی ہاں یا نہ آپ کے ذہن کو...