غزل
(جوش ملیح آبادی)
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر
تم اور مان جاؤ شرارت کئے بغیر؟
اہلِ نظر کو یار دکھاتا رہِ وفا
اے کاش ذکرِ دوزخ و جنت کئے بغیر
اب دیکھ اُس کا حال، کہ آتا نہ تھا قرار
خود تیرے دل کو جس پہ عنایت کئے بغیر
اے ہمنشیں محال ہے ناصح کا ٹالنا
یہ، اور یہاں سے جائیں...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
ہٹ گئے دل سے تیرگی کے حجاب
آفریں اے نگاہِ عالم تاب
آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں
مشورے دے کے ہٹ گئے احباب
کیا قیامت تھی صبر کی تلقین
اور بھی رُوح ہوگئی بیتاب
بارے اُٹھے تو ناصحِ مشفق!
ہاں کدھر ہے صراحیء مئے ناب
ہاں اثر اب ہوا محبت کا
ہم سے آنے لگا ہے اُن کو...
غزل
جوش ملیح آبادی
"کیوں چُپ ہیں سب، مریضِ محبت کو کیا ہوا؟"
اُن کا یہ پوچھنا تھا کہ محشر بپا ہوا
زحمت نہ ہو تو در پہ ذرا چل کے دیکھ لو
آیا ہے کوئی اپنا پتا پوچھتا ہوا
یہ میرا ذوقِ بادہ کشی، اور یہ تشنگی!
معبود! تیری شانِ کریمی کو کیا ہوا؟
اک تم کہ اہلِ دل کی نظر پر چڑھے ہوئے
اک میںکہ...
غزل
(سید احمد علی شمیم عشرت گیاوی)
فروغِ حسن عروجِ شباب دیکھے کون
یہ دوپہر کا چڑھا آفتاب دیکھے کون
فراقِ یار کے جینے سے موت اچھی ہے
یہ روز روز کا رنج و عذاب دیکھے کون
اٹھایا میں نے تو عیش و نشاط روز وصال
شب فراق کا رنج و عذاب دیکھے کون
انہیں نظر ہی نہیں حال زار پر میرے
یہ...
سلام
جوش ملیح آبادی لکھنوی
طبع میں کیا، تیغِ بُرّان میں روانی چاہیئے
گل فشانی تا کُجا، اب خون فشانی چاہیئے
بستہء زنجیرِ محکومی! خبر بھی ہے تجھے؟
مہرومہَ پر تجھ کو عزم حکمرانی چاہیئے
مرقدِ شہزادہء اکبر سے آتی ہے صدا
حق پہ جو مٹ جائے، ایسی نوجوانی چاہیئے
شاہ فرماتے ہیں "جا لے جا...
ناخُدا کہاں ہے ؟
جوش ملیح آبادی
خبر لو آسودگانِ ساحل! کہ سامنے مرگِ ناگہاں ہے
چھِڑی ہوئی دیر سے لڑائی زبوں عناصر کے درمیاں ہے
تمام دُنیا عرق عرق ہے، تمام ہستی رواں دواں ہے
حقیر تِنکے کی طرح کشتی کبھی یہاں ہے کبھی وہاں ہے
کوئی خدا کے لیے بتاؤ کہ ناخُدا کون ہے، کہاں ہے؟
غضب کے گِرداب...
کب تک
جوش ملیح آبادی
رہے گی اہلِ جفا پر تری عطا کب تک
بنے رہیں گے الہٰی! یہ بُت خدا کب تک
لیے رہے گا دکھانے کو منہ میں گُلدستے
زبوں شعار حکومت کا اژدھا کب تک
کمندِ فکر میںاُلجھا کے ہنسے والوںکو
زبانِ علم کہے گی گرہ کُشا کب تک
کوئی بتاؤ یہ پیرانِ دامن آلودہ
بنے رہیںگے جوانانِ پارسا کب تک...
غزل
(جناب حکیم آزاد انصاری صاحب)
وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے
باقی بھی ہو، شکیب کا یارا کہیں جسے
وہ درد دے کہ درد تمنّا کہیں جسے
وہ دکھ عطا ہو، عین مداوا کہیں جسے
سُن مجھ سے سُن، وہ کیا ہے؟ فقط ربط حسن و عشق
اس دہر کی حقیقت کبریٰ کہیں جسے
اے مرکز اُمید! خبر لے، کہ مٹ چلی...
تجلّیاتِ فروغ
(جناب محمد حنیف صاحب فروغ )
مرتے دم تم نے اگر شکل دکھائی ہوتی
کچھ مرے جینے کی صورت نکل آئی ہوتی
داورِ حشر کو کچھ اور گماں ہوجاتا
تم نے محشر میں اگر دیر لگائی ہوئی
ہوکے برہم صفت ابر رُلایا برسوں
ہنس کے بجلی دل عاشقی پہ گرائی ہوتی
دل انساں سے نکل کر وہ سماتا اس میں...
جذباتِ عالیہ
(حضرت امجد حیدر آبادی)
کام، کب حسبِ مُدّعا نہ ہوا
اُس کے فضل و کرم سے کیا نہ ہوا
ہم تو اک بار اُس کے ہوجائیں
وہ، ہمارا ہوا ، ہوا نہ ہوا
ڈھونڈتا ہوں میں ہر نفس اُس کو
اک نفس مجھ سے جوجُدا نہ ہوا
اب سویرے حضور جاگے ہیں
قافلہ، رات ہی روانہ ہوا
کیا مِلا وحدتِ وجودی سے
بندہ،...
لاَ اِلٰی ھَوٰلاَءِ وَلاَالیٰ ھوٰ لاَء
از:
حضرت امجد حیدرآبادی
کامل نہ جہالت ہے، نہ آگاہی ہے
سودا ئے گدائی، نہ سر شاہی ہے
سر ڈھانکتا ہوں، تو پاؤں کھل جاتے ہیں
کیا جامہء زندگی کی کوتاہی ہے
یہ نقشِ حیات، موت سے بدتر ہے
ہر سانس میں اک چھپا ہوا خنجر ہے
رباعی
سانچے میں اجل کے...
غزل
(جناب صفی اورنگ آبادی)
چل دیا وہ رشکِ مہ، گھر اپنا سونا ہوگیا
"چار دن کی چاندنی تھی پھر اندھیرا ہوگیا!"
پوچھتے کیا ہو کہ تیرا حال یہ کیا ہوگیا؟
تم نہ جانو توخدا جانے مجھے کیا ہوگیا!
عاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہوگیا!
قطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہوگیا!
ان کا دامن کیا...
غزل
(جناب محمد جمیل خاں صاحب کوکب شاہجاں پوری)
اللہ اللہ، یہ حجاب کا رنگ!
روکشِ مہر ہے نقاب کا رنگ
اے تری شان یہ نقاب کا رنگ
زرد ہوتا ہے آفتاب کا رنگ
کس قدر شوخ ہے شباب کا رنگ
عرقِ رخ میں ہے شراب کا رنگ
لطف کس طرح دے شباب کا رنگ
کہ تصّور میں ہے حباب کا رنگ
پرتو عارضِ درخشاں...
غزل
(جناب محمد جمیل خاں صاحب کوکب شاہجاں پوری)
اللہ اللہ، اثر ناصیہ فرسائی کا!
داغِ سجدہ ہے کہ نقشہ تری رعنائی کا
عالم آئینہ ہے اُس محوِ خودآرائی کا
کیا تماشہ ہے؟ تماشہ ہے تماشائی کا!
دم بدم کیوں نہ بڑھے ذوق جبیں سائی کا
ذرّہ ذرّہ میں ہے عکس اس کی خود آرائی کا
خود نمائی کی کوئی...
دُنیا
(جناب تلوک چند محروم)
نقش برسطح آب ہے دُنیا
بلکہ موجِ سراب ہے دُنیا
ایک حالت پہ رہ نہیں سکتی
پیکرِ انقلاب ہے دُنیا
شبِ غفلت ہے زندگی اپنی
اس میں نیرنگِ خواب ہے دُ نیا
چند روزہ ہے اور فانی ہے
پھر بھی کیا لاجواب ہے دُنیا
ہوشیار اس سے بچ کے رہتے ہیں
کہ نہایت خراب ہے...
وارداتِ قلب
(از جناب ماسٹر محمد حسین ، اسلامیہ کالج لاہور )
ماخذ: رسالہ مخزن جنوری 1930- ایڈیٹر : ابوالاثر حفیظ جالندھری
وہی زندہ رہے جو عشق کے مارے نکلے
اس سمندر میں جو ڈوبے وہ کنارے نکلے
مجھ کو چھوڑا تھا کہ ارباب وفا ملتے ہیں
وہ کسی کے نہ ہمارے نہ تمہارے نکلے
اس سے کیا جان سے...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ)
جھوٹا نکلا قرار تیرا
اب کس کو ہے اعتبار تیرا
دل میں سو لاکھ چٹکیاں لیں
دیکھا بس ہم نے پیار تیرا
دم ناک میں آرہا ہے اپنے
تھا رات یہ انتظار تیرا
کر جبر جہاں تلک تو چاہے
میرا کیا اختیار تیرا
لپٹوں ہوں گلے سے آپ اپنے
سمجھوں ہوں کہ ہے کنار تیرا...
غزل
(مصحفی)
خاموش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے
دعویٰ نہیں کرتا کوئی موزوں مرے آگے
دانش پہ گھمنڈ اپنی جو کرتا ہے بہ شدّت
واللہ کہ وہ شخص ہے مجنوں مرے آگے
لاتا نہیں خاطر میں سُخن بیہودہ گو کا
اعجاز میسحا بھی ہے افسوں مرے آگے
میں گوز سمجھتا ہوں سدا اُس کی صدا کو
گو بول اُٹھے ادھی کا چوں چوں...
غزل
(قطب شاہ)
سونے میں دیکھیا کہ پیتا ہوں میں شراب
عاشقاں کا دل ہوا ا س سے کباب
حور کھولے روز شیخاں پاس تھے
آبجاوے میرے میخانہ رباب
میرے بت کو پوجتے سارے بتاں
سبھی رما لاں کہو اس کا جواب
شکر و شکرو شکر لاکھاں شکر ہے
میری مجلس کوں ملک نا دیکھیں خواب
عاشقاں کے شعر تھے جگ مگ...