میچز کے آغاز تو 18 دسمبر سے ہونا ہے۔
لیکن شاہینو نے پہلے ہی اتنی سرخیاں بنا لی ہیں کہ دھاگہ ابھی ہی کھولنا پڑا۔۔۔
 
سب سے پہلے تو شاہین 55 رکنی دستہ لیکر کیوی لینڈ پر یلغار کرنے پہنچ گئے۔ جس میں 40 کھلاڑی اور 15 جی ہاں 15 لوگوں کا سٹاف ہے۔
پھر اس پر وہاں پہنچ کر کرونا پروٹوکولز کی ہرگز پروا نہ کی۔ اور اس پر 6 کھلاڑیوں کا کرونا پازیٹیو آ گیا ہے۔ جن میں 4 ایکٹو ہیں اور دو ہسٹوریکل۔
اب کیوی انتظامیہ کہہ رہی کہ قرنطینہ میں بھی آپ پریکٹس وغیرہ کی اجازت نہیں ہے۔
 
دیگر ٹیموں کے عام دوروں اور افراد کی تعداد کا کیا موازنہ ہوتا ہے ؟

کرونا کی وجہ سے مقامی ٹیمز سے پریکٹس میچز نہیں ہو رہے تو پریکٹس میچز کے لئے بھی اپنی ٹیم لے جانی پڑ رہی ہے۔ اسلئے فی الوقت 25 کھلاڑیوں کا دستہ تو نارمل ہے ساتھ 6-7 ممبر سٹاف کے کر لیں۔ لیکن چالیس کھلاڑی اور 15 سٹاف تو بہت ہی انہونی بات ہے۔
لیکن اسکی ایک توجیہہ یہ سامنے آئے ہے کہ شاید پاکستان شاہینز نے الگ سے میچز کھیلنے ہیں۔ لیکن وہ کنفرم نہیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو اتنا بڑا دستہ لیجانا سراسر غلط فعل ہے۔

ویسے اس سے مجھے یاد آیا کہ 2016 اولمپکس میں تو ہم نے کوالیفائی ہی نہیں کیا تھا الحمدللہ ۔لیکن 2008 اور 2012 میں ہاکی ٹیم کے 16 پلئیرز کے ساتھ آفیشلز کا 7-9 رکنی دستہ شامل تھا۔۔۔
 
دو دن سے پڑھ پڑھ کر سر ہی دھن رہا ہوں کھانے لیتے وقت ماسک نہیں، لابیز میں گپیں لگا رہے ہیں۔

سات ہو گئے۔

یہ پڑھیں اور سر دُھنیں۔

Seventh Pakistan team member tests positive for Covid-19 in New Zealand - Sport - DAWN.COM

ایسا ہی سوچتے رہے تو پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ بدر بھی ہو سکتی ہے
 

شمشاد

لائبریرین
یہ 55 لوگوں کا دستہ کھیلنے کے لیے گئے ہیں یا ان سے لڑنے بھڑنے کے لیے گئے ہیں؟
 

زیک

تقریباً غائب
دس کووڈ کیس پاکستانی ٹیم میں اور اس عرصہ میں پورے ملک نیوزی لینڈ میں تیس چالیس کیس (یہ معلوم نہیں کہ نیوزی لینڈ حکومت کی گنتی میں پاکستانی ٹیم شامل ہے یا نہیں)
 
Top