نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش

ایک احساس برائے نقد و تبصرہ

نظم: ٹوٹا ہوا تارا
٭
رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سو
دور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوا
دل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنے
اور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروں
باتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میں
شاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائے
یا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب مل جائے
اسی اثناء میں یہ تاریکیِ شب چھٹ جائے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
 
دل کرنا بچگانہ یا کولوکیل سا محاورہ لگتا ہے ۔ دل کہتا ھے ہو سکتا ھے ۔ نیز یہاں تو کا لفظ تنہائی کا شکار ھے ۔
دل یہ کہتا ھے ۔ ہونا چاہیئے بقیہ تاثر سے ہم آہنگ کرنے کے لیے۔
۔۔۔
پوچھ لوں کی جگہ سبب بھی پوچھوں بہتر ھوگا۔
۔۔
اور اس اثنا کی جگہ اسی اثنا بہتر ھو گا۔
یہ میرا ذاتی تاثر ھے ۔ ویسے مختصر بیان میں اچھی تخلیق ھے ۔
 
آخری تدوین:
دل کرنا بچگانہ یا کولوکیل سا محاورہ لگتا ہے ۔ دل کہتا ھے ہو سکتا ھے ۔ نیز یہاں تو کا لفظ تنہائی کا شکار ھے ۔
دل یہ کہتا ھے ۔ ہونا چاہیئے بقیہ تاثر سے ہم آہنگ کرنے کے لیے۔
۔۔۔
پوچھ لوں کی جگہ سبب بھی پوچھوں بہتر ھوگا۔
۔۔
اور اس اثنا کی جگہ اسی اثنا بہتر ھو گا۔
یہ میرا ذاتی تاثر ھے ۔ ویسے مختصر بیان میں اچھی تخلیق ھے ۔
توجہ پر شکرگزار ہو عاطف بھائی۔
تمام توجہات درست ہیں۔ البتہ سبب بھی پر دل مطمئن نہیں، باقی دونوں قبول۔ :)
 
واہ واہ واہ! بہت خوب تابش بھائی ! خوبصورت نظم ہے ، پسند آئی ۔ بہت اعلیٰ
خوبی اس نظم کی یہ ہے کہ پہلے مصرع نے جو منظر کشی کی ہے وہ آخر تک نظم کے ماحول کو قائم رکھے ہوئے ہے اور سماں باندھے ہوئے ہے ۔ بہت خوب!
ایک بات براہِ نقد و نظر یہ ہے کہ افق پر ٹوٹتا ہوا تارا تو ہوسکتا ہے لیکن ٹوٹا ہوا تارا نہیں ۔ تارا تو ٹوٹ کر خاک پر گرجاتا ہے ، آسمان پر نہیں رہتا ۔ ( عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وغیرہ) ۔ میری ناقص رائے میں اسے یوں کرلیں: دور افق پر کوئی تارا ہے مگر بجھتا ہوا
نظم کے عنوان کو البتہ تبدیل نہ کریں ۔ میری رائے میں یوں کرنے سے نظم کے بنیادی خیال اور مجموعی تاثر پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ستارے کی بجھنے ، ٹوٹنے اور بکھرنے کی تمام کیفیات کا احاطہ بھی ہوجاتا ہے اور نظم معنوی طور پر بھی درست ہوجاتی ہے۔
 
ایک بات براہِ نقد و نظر یہ ہے کہ افق پر ٹوٹتا ہوا تارا تو ہوسکتا ہے لیکن ٹوٹا ہوا تارا نہیں ۔ تارا تو ٹوٹ کر خاک پر گرجاتا ہے ، آسمان پر نہیں رہتا ۔ ( عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وغیرہ) ۔ میری ناقص رائے میں اسے یوں کرلیں: دور افق پر کوئی تارا ہے مگر بجھتا ہوا
سمجھ لیں ٹوٹ چکا ہے، ابھی زمین تک پہنچنے میں وقت تو لگے گا۔ :)
آپ کی رائے سر آنکھوں پر۔ بجھتا ہوا پر دل نہیں مان رہا اور ابھی دل کی سن رہا ہوں۔ :)
 

عاطف ملک

محفلین
بہت خوبصورت احساسات کو انتہائی عمدگی سے نظم کیا ہے تابش بھائی۔نظم بہت پسند آئی۔ثبوت حاضر۔
ایک بار پھر بہت سی داد قبول کیجیے۔
 
رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سو
دور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوا
دل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنے
اور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروں
باتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میں
شاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائے
یا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب مل جائے
اسی اثناء میں یہ تاریکیِ شب چھٹ جائے

٭٭٭

بہت عمدہ!!!
 

جاسمن

مدیر
آہ!
اتنی پیاری، مختصر اور جامع نظم۔
دل میں اتر گئی۔ سارا منظر آنکھوں کے سامنے ہے اور یہی لگتا ہے کہ یہ نظم میری بھی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت ہی خوب تابش بھائی!

یہ غالباً اُن دنوں پوسٹ ہوئی ہے جب ہم محفل پر نہیں آ رہے تھے۔

ماشاءاللہ!

بہت سی داد اور مبارکباد قبول کیجے۔
 

سیما علی

لائبریرین
تابش میاں ۔۔۔
ماشاءاللّہ بہت کمال ،بے انتہا اعلیٰ منظر کشی ۔ترتیب سے پروئے ہوئے احساسات۔۔
بہت ساری دعائیں ۔۔۔۔
 
بہت خوبصورت احساسات کو انتہائی عمدگی سے نظم کیا ہے تابش بھائی۔نظم بہت پسند آئی۔ثبوت حاضر۔
ایک بار پھر بہت سی داد قبول کیجیے۔
بہت شکریہ
شکریہ
آہ!
اتنی پیاری، مختصر اور جامع نظم۔
دل میں اتر گئی۔ سارا منظر آنکھوں کے سامنے ہے اور یہی لگتا ہے کہ یہ نظم میری بھی ہے۔
شکریہ بہن
بہت ہی خوب تابش بھائی!

یہ غالباً اُن دنوں پوسٹ ہوئی ہے جب ہم محفل پر نہیں آ رہے تھے۔

ماشاءاللہ!

بہت سی داد اور مبارکباد قبول کیجے۔
آداب
تابش میاں ۔۔۔
ماشاءاللّہ بہت کمال ،بے انتہا اعلیٰ منظر کشی ۔ترتیب سے پروئے ہوئے احساسات۔۔
بہت ساری دعائیں ۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر
 
Top