کاشفی

محفلین
غزل
(سیّد مومن حسین شعلہ کراروی)
مشاعرہ طرحی ماہنامہ نخشب مصری باغ ۲۵جولائی۱۹۵۳
نام لےکرجو ترا آگ سے کھیلا ہوگا
ہاتھ میں اس کےچراغ ید بیضا ہوگا

رشتۂ عمرجوٹوٹا بھی تو پھرکیا ہوگا
فکر امروز نہ اندیشۂ فردا ہوگا

نالہ سنجیٔ عنادل وہی سمجھا ہوگا
آشیاں جس نےاجڑتےہوئےدیکھا ہوگا

اتنا ہی حسن کا انداز جفا ہوگا پست
جتنا معیار وفا عشق کا اونچا ہوگا

راہ الفت میں قدم رکھنےسےپہلےاےدل
کچھ تو دستور محبّت کوسمجھنا ہوگا

کچھ وہی سمجھےگا دنیا کےنشیب اورفراز
زندگی کے جوہراک موڑ سےگزراہوگا

محفل افروزغزل تم نے پڑھی جوشعلہ
آتش بغض و حسد سے عدو جلتا ہوگ
تعارفِ شاعر: ربط
 
Top