نامعلوم قاری نے لائبریری سے حاصل شدہ کتاب 25 سال بعد واپس کردی

کیا آپ کے پاس بھی لائبریری کی کوئی کتاب موجود ہے؟ :)

  • ہاں

    Votes: 5 20.0%
  • نہیں

    Votes: 20 80.0%
  • یاد نہیں

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    25

نبیل

تکنیکی معاون
اردو ڈیجیٹل لائبریری کے حوالے سے کام کا آغاز اردو ویب کے آغاز کے ساتھ ہی ہو گیا تھا اور کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا تھا، اگرچہ وقت کے ساتھ اس کی رفتار کافی سست پڑ گئی۔ میرے خیال میں نئے دور کے حوالے سے اس پر ایک مرتبہ دوبارہ سے برین سٹارمنگ کی جانی چاہیے۔ ایک اوپن سورس لائبریری سوفٹویر کی ضرورت ہے جو ڈیسک ٹاپ، ویب اور موبائل ورژنز میں دستیاب ہو اور جس میں آن لائن کے ساتھ ساتھ آف لائن پڑھنے کے سہولت بھی دستیاب ہو۔ اس میں یونیکوڈ کے ساتھ ساتھ تصویری متن پر مبنی مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔
 

فاخر رضا

محفلین
کتابوں اور لائبریری سے میری بھی لاتعداد یاد یں وابستہ ہیں:

بچپن میں پہلے چھوٹی چھوٹی کہانیاں اور پھر عمران سیریز کے ناولز کرائے پر لے کر پڑھتا رہا۔ کرایہ عام طور پر ایک دن کا ہوتا تھا اور کبھی کوئی کتاب نہیں رکھی۔

کالج کے زمانے میں سیالکوٹ میونسپل (علامہ اقبال ) لائبریری، پاکستان نیشنل سینٹر لائبریری (جو بند ہو چکی ہیں)، اسلامیہ کالج لائبریری اور مرے کالج لائبریری میری پسندیدہ جگہیں تھیں۔ وہاں بیٹھ کر بھی مطالعہ کرتا تھا اور کتابیں ایشو بھی کرواتا تھا، کبھی کوئی کتاب نہیں رکھی لیکن کچھ خراب ضرور کیں(سائنسدانوں اور مشاہیر کی تصاویر پھاڑ کر اپنے کمرے میں لگا لیتا تھا)، اس بنا پر جرمانے بھی ادا کیے۔

کالج میں ہی اپنے ایک فزکس کے پروفیسر صاحب کی ایک کتاب پہلے ان سے لے کر پڑھی، اور پھر واپس کر کے چرا لی۔ انہوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے چشم پوشی کر لی۔

سیالکوٹ میں کالج کے ایک دوست نے کتابوں سے میری دوستی دیکھ کر مجھے ایک آفر دی جس سے میں انکار نہ کر سکا۔ کہنے لگا، بیس پچیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے لیے منہ ماری کرتے ہو، میں تمھیں پچاس فیصد ڈسکاؤنٹ پر کتابیں مہیا کروں گا بس کتاب پسند کرو اور مجھے بتا دو۔ کئی ایک کتابیں اس چور بازاری میں حاصل کیں، اللہ معاف کرے۔

کالج ہی کے دنوں میں میری چونکہ ایک چھوٹی موٹی لائبریری اپنی بھی بن چکی تھی اور جو دوست بھی آتا تھا شوق شوق میں دو تین کتابیں اٹھا کر لے جاتا تھا سو میں نے ایک "پالیسی" بنائی کہ دوستوں سے کہہ دیا کہ ایک وقت میں ایک ہی کتاب دونگا، پڑھ لو، واپس کر دوتو دوسری لے جاؤ۔ اس طرح میں نے سوچا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہی کتاب کا نقصان ہوگا۔ لیکن دوست بھی شاید خرانٹ تھے ، بڑی بڑی کتابیں اٹھانے لگے اور میں انکار بھی نہ کر سکا۔ ایک کلیات فراز اٹھا کر لے گیا۔ میں اس پر انا للہ پڑھ چکا تھا لیکن نہ جانے اس کے دل میں کیا آیا کہ دس بارہ سال بعد کلیات واپس کر دیئے۔ لیکن کم و بیش بیس بائیس سال ہو گئے، ہنری کسنجر کی "ڈپلومیسی" ابھی تک واپس نہیں ملی۔ :)
میرے بھائی کے دوست میری نئی کلیات فراز لے گئے اور پی گئے کئی دفعہ کہنے کے باوجود واپس نہیں کی. انہیں اللہ ہی سمجھے اور سمجھ رہا ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
میری بیس پچیس کتابیں آج تک مجھے واپس نہیں مل سکیں۔ ایک کتاب کی سخت ضرورت پڑی۔ دوست کے سامنے روزانہ ہاتھ جوڑتی تھی کہ اللہ کے نام پر واپس کر دو پر لاتی ہی نہیں تھی۔ پھر ایک دن اس نے کہا کہ خود ہی گھر سے آکر لے جاو۔ جب اس کے گھر پہنچی تو وقت کی کمی کے باعث کہا کہ نیچے آکر دے دو۔ اس نے گیلری سے کتاب پھینک دی۔ وہ دن آج کا دن پھر کسی کو کوئی کتاب نہیں دی۔
فرق نہیں دوستی کا خاتمہ ہو گیا۔ گھر پہنچتے ہی ہر جگہ سے خاتون کو بلاک کر دیا تھا :blushing:
یہ بھی درست ہے، دوستوں سے اگر کتاب کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے تو اسے اپنی "توہین" خیال کرتے ہیں۔

خیر آپ خوش قسمت ہیں کہ کتاب واپس ملنے کے بعد دوستی ختم ہوئی، میری کئی دوستیاں کتاب واپس نہ ملنے کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
میرے بھائی کے دوست میری نئی کلیات فراز لے گئے اور پی گئے کئی دفعہ کہنے کے باوجود واپس نہیں کی. انہیں اللہ ہی سمجھے اور سمجھ رہا ہے
لاہور ہاسٹل کے دنوں میں میرے دوستوں نے میری ایک سالگرہ پر مل ملا کر "علی پور کا ایلی" تحفے میں دے کر مجھ سے ٹریٹ لی۔ اگلے ہی دن ایک فیصل آباد کے دوست اٹھا کر لے گئے کیونکہ ابھی میں کوئی اور کتاب پڑھ رہا تھا، ایک ہفتے میں واپس کرنے کا وعدہ چوبیس پچیس سال بعد بھی وفا نہیں ہوا۔ :)
 

اے خان

محفلین
بچپن سے مطالعے کا شوق ہے. لیکن آج کل عجیب کیفیت کا شکار ہوں. پہلے پہل میں جو بھی کتاب پڑھ لیتا تو وہ میرے ذہن میں نقش ہوجاتا لیکن آج کل جو بھی کتاب پڑھ لیتا ہوں پھر یاد نہیں رہتی یاد کرنے کے لیے پھر صفحات دیکھنے پڑتے ہیں.
مجھے جو بھی کتاب پسند آجائے تو اگر پیسے ہو خرید لیتا ہوں.
اللہ کا کرم ہے کہ گورنمنٹ لائبریری نزدیک ہے اکثر وہاں سے کتاب ایشو کر کے پڑھتا ہوں. بہت ہی اچھی لائبریری ہے.
 
بچپن سے مطالعے کا شوق ہے. لیکن آج کل عجیب کیفیت کا شکار ہوں. پہلے پہل میں جو بھی کتاب پڑھ لیتا تو وہ میرے ذہن میں نقش ہوجاتا لیکن آج کل جو بھی کتاب پڑھ لیتا ہوں پھر یاد نہیں رہتی یاد کرنے کے لیے پھر صفحات دیکھنے پڑتے ہیں.
مجھے جو بھی کتاب پسند آجائے تو اگر پیسے ہو خرید لیتا ہوں.
اللہ کا کرم ہے کہ گورنمنٹ لائبریری نزدیک ہے اکثر وہاں سے کتاب ایشو کر کے پڑھتا ہوں. بہت ہی اچھی لائبریری ہے.
سوال یہ ہے کہ کتاب واپس بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ :)
 

سین خے

محفلین
یہ بھی درست ہے، دوستوں سے اگر کتاب کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے تو اسے اپنی "توہین" خیال کرتے ہیں۔

خیر آپ خوش قسمت ہیں کہ کتاب واپس ملنے کے بعد دوستی ختم ہوئی، میری کئی دوستیاں کتاب واپس نہ ملنے کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ :)

جنھوں نے میری بیس پچیس کتابیں آگے بڑھا دی تھیں ان سے تعلق رکھ کر کیا کرنا تھا :) سو ان کو بھی اللہ حافظ کہہ دیا تھا
 

جاسمن

مدیر
میری بہت سی کتابیں واپس نہ آئیں۔۔۔اب مجھ سے زیادہ میرے بیٹے کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ اس کے اساتذہ اور ہم جماعت اس سے کتابیں لیتے ہیں اور اکثر واپس نہیں کرتے۔ جس پہ مجھ سے ڈانٹ پڑتی ہے۔ لیکن میں اسے روکتی نہیں ہوں۔ چلو اس بہانہ کوئی پڑھے گا تو سہی۔
ابھی کچھ دن پہلے اساتذہ سے ملاقات کا دن تھا تو ایک پہلے پڑھانے والی استانی صاحبہ ملیں۔۔۔محمد آپ کی کتاب کو دیمک لگ گئی۔ میں واپس نہ کر سکی۔ پھر مجھ سے بھی معذرت کرنے لگیں۔
 
مابدولت کا عہد طفلی سے ہی کتب خانوں سے یارانۂ بے پایاں رہا ہے ، اور مابدولت کی ای - لائبریری کم و بیش ساڑھے سات ہزار انگریزی ( ناول ) کتب پر مشتمل تھی ، تاہم اب یہ تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ۔
یہ امر خالی از دلچسپی نا ہوگا کہ ان میں لگ بھگ سو ہندی ناول ہیں جو ہندی رسم الخط میں ہیں جن میں قریب دس کا مابدولت سواد اٹھا چکے ہیں ۔:):)
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
میری بیس پچیس کتابیں آج تک مجھے واپس نہیں مل سکیں۔ ایک کتاب کی سخت ضرورت پڑی۔ دوست کے سامنے روزانہ ہاتھ جوڑتی تھی کہ اللہ کے نام پر واپس کر دو پر لاتی ہی نہیں تھی۔ پھر ایک دن اس نے کہا کہ خود ہی گھر سے آکر لے جاو۔ جب اس کے گھر پہنچی تو وقت کی کمی کے باعث کہا کہ نیچے آکر دے دو۔ اس نے گیلری سے کتاب پھینک دی۔ وہ دن آج کا دن پھر کسی کو کوئی کتاب نہیں دی۔

میرے ساتھ ایسے بہت سے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ہر دفعہ دِل سخت کرتا ہوں کہ آئندہ کسی کو کتاب نہیں دینی لیکن اُس کے بعد بھی کسی کو کتاب دینے سے انکار نہیں کیا۔
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
دو تین دفعہ باقاعدہ رجسٹر بنایا جس پر ہر آنے اور جانے والی کتاب کا اندراج ہوتا تھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اندراج والا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
میں پنجاب پبلک لائبریری لاہور کا تاحیات ممبر ہوں اور جماعت چہارم میں ہی تاحیات ممبر بن گیا تھا۔ نصابی کتب سے ہمیشہ بیزار رہا اور کئی بار سکول سے بھاگ کر لائبریری میں پناہ ڈھونڈتا تھا۔ بچپن اور لڑکپن میں کئی کتب لائبریری کو عطیہ بھی کیں۔ کئی بار ایشو کی ہوئی کتب دیر سے واپس کیں لیکن نہ کبھی کتاب چرائی اور نہ ہی یہ ہوا کہ کوئی کتاب واپس نہ کی ہو۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
محمد آپ کی کتاب کو دیمک لگ گئی۔ میں واپس نہ کر سکی۔
"یہ آپ کے سرٹیفکیٹ میں لکھا ہے کہ آپ کتابی کیڑے ہیں۔ جانتے ہو، کتابی کیڑا کسے کہتے ہیں؟"
"جی ہاں۔ جو شخص ہر وقت مطالعہ میں منہمک رہتا ہے۔"
"کتابی کیڑا وہ ہوتا ہے جو کتاب کی بجائے قاری کو کھاجاتا ہے۔"

اقتباس از پیرومرشد۔۔ کنیہا لال کپور
 
Top