نامعلوم قاری نے لائبریری سے حاصل شدہ کتاب 25 سال بعد واپس کردی

کیا آپ کے پاس بھی لائبریری کی کوئی کتاب موجود ہے؟ :)

  • ہاں

    Votes: 5 20.0%
  • نہیں

    Votes: 20 80.0%
  • یاد نہیں

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    25

محمداحمد

لائبریرین
سڈنی: آسٹریلیا کے ایک نامعلوم قاری نے 25 سال پہلے سڈنی کی ویوری کاؤنسل لائبریری سے ایک کتاب جاری کروائی تھی جو اس نے چند روز پہلے ہی ایک معذرتی نوٹ کے ساتھ واپس لوٹا دی ہے۔
1821367-bookreturnedx-1569494881-724-640x480.jpg

تفصیلات کے مطابق کچھ روز پہلے ویوری کاؤنسل لائبریری کی جانب سے ایک ٹویٹ کی گئی جس میں کسی نامعلوم لائبریری ممبر کے لکھے ہوئے معذرتی نوٹ کا عکس بھی شامل تھا (لیکن نام پوشیدہ رکھا گیا تھا)۔


معذرتی نوٹ میں نامعلوم قاری نے لکھا تھا کہ اس نے 1994ء میں فلسفے کی ایک کتاب (رچرڈ اوسبورن کی ’’فلاسوفی فار بگنرز‘‘) لائبریری سے جاری کروائی تھی جو وہ کچھ ذاتی مسائل کی بناء پر واپس نہیں کرسکا۔ اپنی اس حرکت پر معذرت کرتے ہوئے اس نے یہ کتاب لائبریری کو واپس بھجوا دی ہے تاکہ فلسفے کا ’’کوئی اور شوقین اس سے فائدہ اٹھا سکے۔‘‘

لائبریری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخ پر کتاب واپس نہ کرنے پر ہر روز کے حساب سے تھوڑا تھوڑا جرمانہ لگایا جاتا ہے اور اس ایک کتاب پر 25 سال کا جرمانہ 1820.27 آسٹریلوی ڈالر (1 لاکھ 92 ہزار پاکستانی روپے) بنتا ہے جسے لائبریری انتظامیہ نے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’’ہم اتنے پاگل کیسے ہوسکتے ہیں؟‘‘ لائبریری نے اپنی ٹویٹ میں جرمانہ معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز
 

محمداحمد

لائبریرین
میں کبھی کسی سرکاری لائبریری سے فیض نہیں حاصل کر سکا۔

ہاں البتہ نوعمری کے دنوں میں گلستانِ بلدیہ میرپورخاص کی سرکاری لائبریری میں جانے کا اتفاق دو چار بار ہوا، لیکن اکثریت کی اتباع میں صرف اخبار پڑھنے پر اکتفا ہی کیا۔ بلکہ مجھ سمیت اکثر لوگ اخبار بھی صرف نوکری کے اشتہاروں کے لئے دیکھتے تھے۔ مزید یہ کہ جس وقت ہم پہنچتے تھے اُس وقت صرف اخبار ہی دستیاب ہوتے تھے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
البتہ ایک آدھ نجی لائبریری سے میں بہرکیف جُڑا رہتا تھا۔

آخری کتاب جو میں نے اپنے علاقے کی لائبریری سے جاری کروائی وہ قرۃ العین حیدر کی "آگ کا دریا " تھی۔

لیکن اپنے مطالعے کی عادت کےتحت اُسے تھوڑا بہت پڑھنے کے بعد دوسری کتابوں کی طرف ملتفت ہو گیا ۔ اور پھر ایک ڈیڑھ مہینہ گزرنے پر لائبریرین کے فون آنے لگے کہ اگر پڑھ نہیں رہے تو رکھی ہوئی ہی کیوں ہے ، واپس کر دیجے۔ حالانکہ ہماری پڑھنے کی نیت تھی ۔ لیکن نوبت کب تک آتی اس کا اندازہ نہیں تھا۔ اس لئے واپس کردی۔

ساتھ ساتھ یہ بھی خیال تھا کہ کہیں لائبریری کا کرایہ کتاب کی قیمت سے زیادہ نہ ہو جائے۔ :)

اب بہرکیف ہمارے خرم بھائی جو کہ اُس لائبریری کے مالک تھے اور دن میں کسی نجی ادارے میں ملازم تھے نے اپنی دُکان بڑھا دی۔ بلکہ دکان بڑھائے ہوئے بھی تین چار سال گزر گئے۔
 
احمد بھائی ہماری سوچ کے مطابق یہ بات بندے پر منحصر کرتی ہے کہ آیا کتاب اس کی نزدیک کتنی اہمیت اور افادیت کی حامل ہے ۔علم و ادب سے شغف رکھنے والے شاید ہی کتاب کی حفاظت اور دیکھ بھال سے غافل ہوں ۔
 
ہمارا معاملہ تو الٹ رہا ہے۔ گھر میں آ جانے والی زائد کتب کئی دفعہ لائبریریز میں دی ہیں۔

کالج کے زمانے میں کالج کی لائبریری سے بہت ناولز اور اردو لٹریچر کی کتب لے کر پڑھیں۔ واپسی کا طے شدہ وقت 2 ہفتے تھے، میں عموماً ایک ہفتہ میں ہی واپس کر دیا کرتا تھا۔ البتہ کبھی کوئی کورس سے متعلقہ کتاب ایشو نہیں کروائی، جس کا اظہار اکثر لائبریرین نے کیا کہ بھائی کچھ کورس بھی پڑھ لیا کرو۔ :)
 

جاسمن

مدیر
میرے پاس میرے ادارے کی لائبریری کی کتب ہیں اور وہ میں لیتی اور واپس کرتی رہتی ہوں۔ بسا اوقات زیادہ دیر بھی ہو جاتی ہے۔
لیکن سینٹرل لائبریری میں میری ممبر شپ میری گیارھویں جماعت سے ہے اور الحمداللہ میرے ذمہ لائبریری کی کوئی کتاب نہیں نہ ہی میرے بچوں کے ذمہ ان کے سکول یا سینٹرل لائبریری کی کوئی کتاب ہے۔ البتہ میرے بیٹے سے اس کے دوست، ہم جماعت اور اساتذہ جو کتابیں لیتے ہیں، ان میں سے بہت سی واپس نہیں کرتے۔
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
ہمارے شہر میں کوئی باضابطہ لائبریری موجود نہیں ہے۔ میونسپل کمیٹی کے دفتر میں قائم کردہ لائبریری کو عوام کی پہنچ سے دُور رکھا گیا ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ کہیں کوئی پڑھا لکھا بندہ میونسپل کمیٹی کے دفتر میں نہ آجائے۔ البتہ میں نے گھر پر ایک ذاتی لائبریری (امیر خسرو لائبریری) بنائی ہوئی ہے۔
 
کوئی کتاب پسند آئے یا اپنی دلچسپیوں کے مطابق لگے تو لائبریری یا کسی سے مستعار لینے کے بجائے خریدنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ عادت ابو کی طرف سے آئی ہے۔
اب اگر کوئی کتاب پی ڈی ایف یا ای پب کی صورت میں میسر آ جائے تو وہ بھی کافی ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر یہ سمجھوں کہ ابو کو بھی پسند آئے گی، تو خرید لیتا ہوں۔

اس لیے لائبریری سے کتاب لینے کا سفر سکول کالج کے زمانے سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو گیا تھا۔ بچپن میں گھر کے قریب ایک رانا لائبریری تھی، جو اب بھی وہیں موجود ہے، البتہ گاہک نہیں رہے۔ اس سے اشتیاق احمد کے ناول اور عمران سیریز کے ناول یومیہ کرایہ پر مل جاتے تھے، جو عموماً ایک دن رات میں ہی نصابی کتب میں چھپا کر پڑھ لیتا تھا۔ تاکہ زیادہ کرایہ نہ بنے۔ :)
 

فرقان احمد

محفلین
ہم نے زندگی میں ایک بار کتاب لائبریری سے چرائی۔ بیسیوں مرتبہ تاخیر سے واپس کیں۔ کئی بار قانون شکنی کے مرتکب ٹھہرے۔ جو کتاب چرائی تھی، اس کا مداوا کرنے کے لیے بلامبالغہ بیسیوں کتب بمع اس کتب کا ایک نسخہ لائبریری کو عطیہ کیا؛ چوری شدہ کتاب بھی آہستہ سے جا کر لائبریری میں واپس رکھ دی تھی۔ خدا معاف کرے تو کرے! جو ہوا، سو ہوا۔ دراصل، ہم اس کتاب کو بوجوہ ایشو نہ کروا سکتے تھے اس لیے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اب پچھتاوا ایسا ہے کہ کیا بتلائیں!
 

محمداحمد

لائبریرین
عدنان بھائی!

آپ کا جواب ہمیں بالکل سمجھ نہیں آیا۔ :)

احمد بھائی ہماری سوچ کے مطابق یہ بات بندے پر منحصر کرتی ہے کہ آیا کتاب اس کی نزدیک کتنی اہمیت اور افادیت کی حامل ہے ۔

کون سے بندے کی بات کر رہے ہیں آپ؟

جس نے پچیس سال تک کتاب واپس نہیں کی۔

یا

جس نے پچیس سال بعد کتاب واپس کی؟ )

علم و ادب سے شغف رکھنے والے شاید ہی کتاب کی حفاظت اور دیکھ بھال سے غافل ہوں ۔

ہمارے نزدیک کتاب کی حفاظت سے زیادہ اہم اُس کے قارئین کی تعداد بڑھانا ہے۔ اسی لئے ہم اپنے کچھ دوستوں کو یہ آفر دیتے رہے کہ بھئی ہم سے کتاب لے کر پڑھ لیا کرو۔ اور پرانی کتاب واپس کرکے ایک اور کتاب لے لیا کرو۔ لیکن اُنہوں نے کتاب کی حفاظت کو ترجیح دی۔ اُن کا خیال تھا کہ کتاب ہمارے پاس زیادہ محفوظ رہے گی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ہم نے زندگی میں ایک بار کتاب لائبریری سے چرائی۔ بیسیوں مرتبہ تاخیر سے واپس کیں۔ کئی بار قانون شکنی کے مرتکب ٹھہرے۔ جو کتاب چرائی تھی، اس کا مداوا کرنے کے لیے بلامبالغہ بیسیوں کتب بمع اس کتب کا ایک نسخہ لائبریری کو عطیہ کیا؛ چوری شدہ کتاب بھی آہستہ سے جا کر لائبریری میں واپس رکھ دی تھی۔ خدا معاف کرے تو کرے! جو ہوا، سو ہوا۔ دراصل، ہم اس کتاب کو بوجوہ ایشو نہ کروا سکتے تھے اس لیے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اب پچھتاوا ایسا ہے کہ کیا بتلائیں!

آپ نے اپنی شرارت کا ازالہ کر دیا ہے ۔ اس لئے اب زیادہ پچھتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ :)

کیا ہم کتاب کا نام پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں؟ ;)
 

محمداحمد

لائبریرین
کوئی کتاب پسند آئے یا اپنی دلچسپیوں کے مطابق لگے تو لائبریری یا کسی سے مستعار لینے کے بجائے خریدنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ عادت ابو کی طرف سے آئی ہے

اچھی بات ہے ۔ گھر پر بھی کتابیں ہونا چاہیے۔

اب اگر کوئی کتاب پی ڈی ایف یا ای پب کی صورت میں میسر آ جائے تو وہ بھی کافی ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر یہ سمجھوں کہ ابو کو بھی پسند آئے گی، تو خرید لیتا ہوں۔

آج کل پی ڈی ایف کتابیں اس بہتات سے موصول ہو رہی ہیں کہ اللہ کی پناہ ! مطالعے کا بہت دباؤ ہے ہم پر آج کل۔ :)

اس لیے لائبریری سے کتاب لینے کا سفر سکول کالج کے زمانے سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو گیا تھا۔ بچپن میں گھر کے قریب ایک رانا لائبریری تھی، جو اب بھی وہیں موجود ہے، البتہ گاہک نہیں رہے۔ اس سے اشتیاق احمد کے ناول اور عمران سیریز کے ناول یومیہ کرایہ پر مل جاتے تھے، جو عموماً ایک دن رات میں ہی نصابی کتب میں چھپا کر پڑھ لیتا تھا۔ تاکہ زیادہ کرایہ نہ بنے۔

عمران سیریز وغیرہ پڑھنے کا بھی الگ ہی لطف تھا۔ لیکن میری مطالعے کی رفتار اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ایک دن میں ہی ناول ختم کر سکوں۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
عدنان بھائی!

آپ کا جواب ہمیں بالکل سمجھ نہیں آیا۔ :)



کون سے بندے کی بات کر رہے ہیں آپ؟

جس نے پچیس سال تک کتاب واپس نہیں کی۔

یا

جس نے پچیس سال بعد کتاب واپس کی؟ )



ہمارے نزدیک کتاب کی حفاظت سے زیادہ اہم اُس کے قارئین کی تعداد بڑھانا ہے۔ اسی لئے ہم اپنے کچھ دوستوں کو یہ آفر دیتے رہے کہ بھئی ہم سے کتاب لے کر پڑھ لیا کرو۔ اور پرانی کتاب واپس کرکے ایک اور کتاب لے لیا کرو۔ لیکن اُنہوں نے کتاب کی حفاظت کو ترجیح دی۔ اُن کا خیال تھا کہ کتاب ہمارے پاس زیادہ محفوظ رہے گی۔
ہمارا اشارہ ایسے قارئین کی جانب ہے جو کتاب بینی کا شوق رکھتے مگر کتابوں کی حفاظت اور لین دین میں اکچر و بیشتر لاپرواہی برتے ہیں ۔
آپ اپنی آفر لامحدود مدت تک جاری رکھیں ۔
عملی ذوق رکھنے والے کبھی ہمت و حوصلہ نہیں ہارتے ۔
 

فاخر رضا

محفلین
ہم نے زندگی میں ایک بار کتاب لائبریری سے چرائی۔ بیسیوں مرتبہ تاخیر سے واپس کیں۔ کئی بار قانون شکنی کے مرتکب ٹھہرے۔ جو کتاب چرائی تھی، اس کا مداوا کرنے کے لیے بلامبالغہ بیسیوں کتب بمع اس کتب کا ایک نسخہ لائبریری کو عطیہ کیا؛ چوری شدہ کتاب بھی آہستہ سے جا کر لائبریری میں واپس رکھ دی تھی۔ خدا معاف کرے تو کرے! جو ہوا، سو ہوا۔ دراصل، ہم اس کتاب کو بوجوہ ایشو نہ کروا سکتے تھے اس لیے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اب پچھتاوا ایسا ہے کہ کیا بتلائیں!
کیا کسی نے لائبریری میں بیٹھ کر کتاب کاپی کی ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
میرے پاس میرے ادارے کی لائبریری کی کتب ہیں اور وہ میں لیتی اور واپس کرتی رہتی ہوں۔ بسا اوقات زیادہ دیر بھی ہو جاتی ہے۔
لیکن سینٹرل لائبریری میں میری ممبر شپ میری گیارھویں جماعت سے ہے اور الحمداللہ میرے ذمہ لائبریری کی کوئی کتاب نہیں نہ ہی میرے بچوں کے ذمہ ان کے سکول یا سینٹرل لائبریری کی کوئی کتاب ہے۔

کافی فرض شناس واقع ہوئی ہیں آپ۔ :)
 
Top