1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

محفل چائے خانہ

محمد وارث نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 16, 2010

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد چوّن (54) ہے... ڈاکٹر عبدالرؤف پاریکھ

    بابائے اردو مولوی عبدالحق نے طے کیا کہ ہائیہ آوازوں (بھ، پھ، تھ وغیرہ) کو ظاہر کرنے والے حروف بھی حروف ِتہجی میں شامل ہیں- شان الحق حقی نے اردوکے حروف تہجی کی تعداد تریپن (۵۳) قرار دی اور مقتدرہ قومی زبان نے چون (۵۴)۔

    اردو میں کتنے حروفِ تہجی ہیں ؟اس مسئلے پر مختلف آرا رہی ہیں اور آج بھی کچھ لوگ اس سوال کو اٹھاتے رہتے ہیں ۔ دراصل حروف تہجی کا مسئلہ لسانیات اور صوتیات سے جڑا ہوا ہے اور اسی کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لینا چاہیے۔ لسانیات اور صوتیات کے ماہرین کے مطابق حروف ِ تہجی دراصل آوازوں کی علامات ہیں اور ان کا مقصد کسی زبان میں موجود آوازوں کو ظاہر کرنا ہے۔

    بیسویں صدی کے ابتدائی بیس پچیس برسوں تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اردو میں پینتیس (۳۵) یا چھتیس (۳۶) حروف ِتہجی ہیں اور اس زمانے کے ابتدائی اردو قاعدوں اور بچوں کو اردو سکھانے والی کتابوں میں یہی تعداد لکھی جاتی تھی ۔ البتہ بعض کتابوں میں پہلے ’’مفرد‘‘ حروف ِ تہجی لکھ کر بعد میں ’’مرکب ‘‘ حروف ِ تہجی لکھے جاتے تھے اور یہ طریقہ بعض کتابوں میں آج بھی ملتا ہے۔ یہ مرکب حروف ِ تہجی کیا تھے ؟یہ دراصل ہائیہ یا ہکاری آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی (یعنی بھ، پھ، تھ وغیرہ) تھے۔ ان آوازوں کو انگریزی میں aspirated sounds کہاجاتا ہے۔ مغرب میں جب جدید لسانیات کی بنیادیں سائنس پر استوار ہوئیں تو لسانیاتی اور صوتیاتی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ یہ ہائیہ آوازیں (بھ، پھ، تھ وغیرہ) دراصل باقاعدہ، الگ اور منفرد آوازیں ہیں ۔ گویا لسانیات کی زبان میں یہ الگ فونیم (phoneme) ہیں۔لسانیاتی تجربہ گاہوں میں مشینوں کے ذریعے کی گئی جانچ نے بھی اس نظریے کو آج تک درست ثابت کیا ہے کہ وہ آوازیں جوہوا کے ایک جھٹکے کے ساتھ مل کرہمارے منھ سے نکلتی ہیں (بھ ، پھ، تھ وغیرہ )وہ الگ آوازیں یا منفرد صوتیے ( فونیم) ہیں اور ان آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی بھی الگ حروف سمجھے جانے چاہییں ۔

    بابائے اردو مولوی عبدالحق نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اردو میں اوکسفورڈ کی عظیم لغت کی طرز پر ایک ایسی کثیر جلدوں پر مبنی لغت بنائی جائے جس میں اردوکا ہر لفظ ہو اور ہر لفظ کے استعمال کی سند بھی شعرو ادب سے دی گئی ہو۔ اس منصوبے پر ۱۹۳۰ء میں کام شروع ہوا تو پہلا مسئلہ حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب کا تھا کیونکہ اس کے بغیر کسی لغت میں الفاظ کی ترتیب طے نہیں کی جاسکتی۔اردو کی پرانی لغات میں عام حروف اور ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (مثلاً ب اور بھ ) میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا اور ان میں بعض الفاظ (مثلاً بہانا اور بھانا ،بہر اور بھر، پہر اور پھر) ترتیب کے لحاظ سے ایک ساتھ ہی درج ہیں جو لسانیات کی رو سے غلط ہے اور قاری کے لیے بھی الجھن کا باعث ہے۔ لہٰذا باباے اردو نے طے کیا کہ اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِتہجی کو بھی الگ حرف مانا جائے اور لغت میں ان کی الگ تقطیع قائم کرکے ان کی ترتیب غیر ہائیہ حروف کے بعد رکھی جائے ، مثال کے طور پر جب ’’ب ‘‘ سے شروع ہونے واے تمام الفاظ کا لغت میں اندراج ہوجائے تو ’’بھ‘‘ سے شروع ہونے والے الفاظ لکھے جائیں ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔اس طرح مولوی عبدالحق وہ پہلے لغت نویس تھے جنھوں نے ان ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (بھ ، پھ وغیرہ)کو باقاعدہ الگ حرف مان کر اردو کے حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب درست کی ۔اردو میں ان ہائیہ حروف کی تعداد پندرہ (۱۵) ہے اور یہ بھی اردو کے حروف تہجی میں شامل ہیں۔

    قیام ِپاکستان سے قبل اردو لغت کا یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ۔اس عظیم لغت کے منصوبے کو حکومت پاکستان نے اردو لغت بورڈ کے تحت ازسرِ نوشروع کیا ۔ شان الحق حقی نے بطور معتمد (سیکریٹری) بورڈ کی لغت کے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کیا تو علم ِ لسانیات سے واقفیت کی بنا پر باباے اردو کی طے کردہ اردو حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب سے اتفاق کرتے ہوئے اردو کے ہائیہ حروف کو بھی اس میں شامل کیا ۔ اس طرح عربی کے اٹھائیس (۲۸) حروف ،فارسی کے مزید چار (۴) حروف (یعنی پ۔چ۔ژ۔گ)، اردو کی معکوسی آوازوں (یعنی ٹ۔ ڈ ۔ ڑ ) کو ظاہر کرنے والے تین (۳)حروف، اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے پندرہ (۱۵) حروف ، الف ممدودہ (یعنی الف مد آ)اور ہمزہ (ء) کے علاوہ بڑی ’’ے‘‘ کو بھی الگ سے حرف ِتہجی شمار کیا کیونکہ اردو میں یاے مجہول (یعنی بڑی ’’ے ‘‘) کا الگ استعمال ہے۔ اس طرح اردو کے حروف تہجی کی کل تعداد’’الف ‘‘سے لے کر ’’ے ‘‘تک تریپن (۵۳) ہوگئی جن کو ترتیب سے یہاں لکھا جاتا ہے :

    ا۔ آ۔ ب۔ بھ ۔ پ۔ پھ ۔ ت ۔ تھ ۔ ٹ۔ ٹھ ۔ ث۔ ج۔ جھ ۔ چ۔ چھ ۔ ح۔ خ۔ د۔ دھ ۔
    ڈ۔ ڈھ ۔ ذ۔ ر۔ رھ ۔ ڑ۔ ڑھ ۔ ز ۔ ژ۔ س ۔ ش۔ ص۔ ض۔ ط ۔ ظ ۔ ع ۔ غ ۔ ف۔
    ق ۔ ک ۔ کھ ۔ گ ۔ گھ ۔ ل ۔ لھ ۔ م ۔ مھ ۔ ن ۔ نھ ۔ و ۔ ہ ۔ ء ۔ ی ۔ ے

    ان میں شامل حروف لھ، مھ ، نھ وغیرہ باقاعدہ حروف ِ تہجی ہیں کیونکہ وہ اردو کی بعض آوازوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی لیے ننھا، تمھارا ، جنھیں اور چولھا جیسے الفاظ میں دو چشمی ھ لکھنی چاہیے ورنہ ان کا املا غلط ہوجائے گا۔

    اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد اردو لغت بورڈ میں شان الحق حقی نے تریپن (۵۳) طے کی اور اسی ترتیب اور تعداد کی بنیاد پر اردو کی بائیس(۲۲) جلدوں پر مبنی لغت باون (۵۲) سال کی محنت شاقہ کے بعد مرتب اور شائع کی گئی۔ البتہ دور جدید میں کمپیوٹر آنے کے بعد جب مشینی کتابت میں نون غنے (ں) کی وجہ سے مسئلہ ہونے لگا تو مقتدرہ قومی زبان (جس کا نام اب ادارہ ٔ فروغ ِ قومی زبان ہوگیا ہے) نے اپنے صدر نشین افتخار عارف صاحب کی نگرانی میں ایک مجلس(کمیٹی) بنائی جس نے یہ طے کیا کہ نون غنے (ں) کو بھی ایک حرف تسلیم کیا جائے تاکہ ایک معیاری (اسٹینڈرڈ) کلیدی تختے (یعنی key بورڈ) کی مدد سے جب عالمی سطح پر اردو کو فون اور کمپیوٹر میں استعمال کیا جائے تو کوئی الجھن نہ ہو۔ اس طرح اردو کے حروف ِتہجی میں ترتیب کے لحاظ سے نون (ن) کے بعد نون غنے (ں) کا اضافہ کرنا پڑا۔اس اضافے سے ان حروف کی کُل تعداد چو ّن (۵۴) ہوگئی ہے اور اب اسی کو سرکاری طور پر درست تسلیم کیاجاتا ہے۔ گویا اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد چو ّن (۵۴) ہے۔

    (منقول)
     
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اردو زبان کا ایک قاعدہ ہے کہ جب "خ" کے فوراً بعد "و" آتا ہے تو "و" سائلنٹ ہو جاتا ہے.

    جیسے:

    خواہش، خواندہ، خواہ مخواہ، خواب، خاطرخواہ، خویش، خواجہ وغیرہ۔‏لیکن یہی "و" جب "خ" کے بعد "خواتین" میں آیا تو قطعاً خاموش نہیں رہ سکا.
     
    • زبردست زبردست × 2
  3. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    10,222
    موڈ:
    Cheerful
    کیا حروف کا حاصل مرکب بھی حرف کہلاتا ہے؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ تو کوئی اردو دان ہی بتا سکتا ہے۔

    وارث بھائی یا پھر استاد محترم اعجاز عبید کی رائے جاننی چاہیے۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    40,707
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Aggressive
    ایسے حروف جن کے اکٹھے ہونے سے ایک آواز بنتی ہے انہیں انگریزی میں تو digraph کہتے ہیں۔ اردو کا علم نہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,528
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    آپ آچکے ہیں جناب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,528
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    دودھ اصلی ہی ہوتا ہے بس یہ تو ہم انسانوں کے کام ہیں ملاوٹ کرڈالتے ہیں اللہ تعالی تو خالص ہی دیتا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,528
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    لوگ بھی کیسے ہیں مہمان سے پوچھتے ہیں کہ چائے لائیں بھائی لانی ہے تو لے آئیں مہمان تھوڑی نا بولے گا کہ ہاں میں چائے پیوں گا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ’’ چاہ ‘‘بمعنی کنواں سے قطع نظر )لیکن اس میں اردو والوں نے ’’ت ‘‘ لگا کر اپنا ایک لفظ بنالیا ہے اور اسے بڑے شعرا و ادبا نے استعمال بھی کیا ہے ، مثلاًاردو لغت بورڈ نے ’’باغ ِ اردو ‘‘نامی کتاب (۱۸۰۲ء) سے اس کی قدیم ترین سند دی ہے۔ اس کے بعد سند کے لیے میر انیس کا یہ شعردیا ہے :

    اے بیت ِ مقدس تری عظمت کے دن آئے
    اے چشمہ ٔ زمزم تری چاہت کے دن آئے

    جبکہ انیس سے پہلے ناسخ نے کہا تھا :

    میری چاہت نے کیا آگاہ اس طنّاز کو
    ہے بجا سمجھوں وکیل اپنا اگر غمّاز کو

    بہرحال ، عرض یہ کرنا ہے کہ لفظ ’’چاہت ‘‘ کا استعمال اردو کے ان استاد شعرا کے ہاں ملتا ہے جو سند سمجھے جاتے ہیں لہٰذا اس کی ثقاہت پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ چاہ کے ساتھ چاہت بھی بالکل درست ہے۔
     
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    میر تقی میر کی عادت تھی کہ جب گھر سے باہر جاتے تو تمام دروازے کھلے چھوڑ دیتے تھے اور جب گھر واپس آتے تو تمام دروازے بند کر لیتے تھے۔ ایک دن کسی نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا۔

    " میں ہی تو اس گھر کی واحد دولت ہوں۔" ٭…ایک دن سید انشاء اللہ خان انشاء نواب صاحب کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ گرمی کی وجہ سے دستار سر سے اتار کر رکھ لی۔ انشاء کی منڈا ہوا سر دیکھ کر نواب صاحب کو شرارت سوجھی اور ہاتھ بڑھا کر پیچھے سے ٹھونگ ماری۔ جس پر انشاء نے جلدی سے دستار سر پر رکھ لی اور کہنے لگے کہ سبحان اللہ! بچپن میں بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ جو لوگ ننگے سر کھانا کھاتے ہیں شیطان ان کے ٹھونگیں مارتا ہے۔

    آج معلوم ہوا کہ وہ بات سچی تھی۔٭…ریل کے سفر کے دوران دو مسافر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک نے کہا، عبدالعزیز خالد کے شعر کسی کو یاد نہیں رہتے، اگر آپ ان کے پانچ شعر سنا دیں تو میں آپ کو پانچ سو روپے دوں گا۔دوسرے شخص نے فوراً خالد کے پانچ شعر سنا دئیے۔ پہلا بہت متعجب ہوا۔ اس نے پانچ سو روپے کا نوٹ نکالا اور شرط جیتنے والے کے حوالے کرتے ہوئے کہا، اپنا تعارف تو کرایئے۔

    شرط جیتنے والے نے نوٹ اپنی جیب میں رکھتے ہوئے کہا، میں ہی عبدالعزیز خالد ہوں۔
     

اس صفحے کی تشہیر