کاشفی

محفلین
غزل
جوش ملیح آبادی

قسم ہے آپ کے ہر روز روٹھ جانے کی
کہ اب ہوس ہے اَجل کو گلے لگانے کی

وہاں سے ہے مری ہمّت کی ابتدا واللہ
جو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی

پھُنکا ہوا ہے مرے آشیاں کا ہر تِنکا
فلک کو خُو ہے تو ہو بجلیاں گرانے کی

ہزار بار ہوئی گو مآلِ گُل سے دوچار
کلی سے خُو نہ گئی پھر بھی مُسکرانے کی

مرے غُرور کے ماتھے پر آچلی ہے شکن
بدل رہی ہے تو بدلے ہوا زمانے کی

چراغِ دیر و حرم کب کے بجھ گئے اے جوش
ہنوز شمع ہے روشن شراب خانے کی
 

محمد وارث

لائبریرین
ہزار بار ہوئی گو مآلِ گُل سے دوچار
کلی سے خُو نہ گئی پھر بھی مُسکرانے کی

لاجواب، بہت شکریہ کاشفی صاحب شیئر کرنے کیلیے۔
 

کاشفی

محفلین
بہت شکریہ محمد وارث صاحب اور فرخ منظور صاحب!
آج کل آپ دونوں احباب نظر نہیں آرہے ہیں محفل میں۔سب خیریت۔
اللہ رب العزت آپ سب کو خیروعافیت کے ساتھ رکھے۔آمین
 
Top