فارسی نثری اقتباسات مع اردو ترجمہ

حسان خان

لائبریرین
بدبینی را از خود دور کنید
حسیاتِ بدبینی مانعِ اساسیِ انسان است در تلاشِ او برای خوش‌بختی. وقتی این حسّیات ما را فرا می‌گیرد، آن آرامی و حیاتِ آسایشته‌امان را پُرّه برهم می‌زند. به غیر از این، شما در این حالت می‌توانید رفتارِ غیرِ انسانی‌ای صادر نموده، وضعیت را بیشتر متشنِّج نمایید و باز بیشتر به غضب بیایید. تدقیقاتِ علمی اثبات نموده‌اند، که آدمانِ غضب‌آلود و به بدبینی مایل به پرابلیمه‌های تندرستی بیشتر رو به رویند و احتمالیتِ به بیماری‌های عصب و دل و شریان گرفتار شدنشان زیاد است.
ماخذ: تاجکستان کا سرکاری نشریہ 'جمہوریت'
مصنف: ناظر یادگاری
تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء


بدبینی سے کنارہ کَش ہو جائیے
بدبینی کے احساسات انسان کی (اپنی) خوش بختی کے لیے کوششوں میں بنیادی سدِ راہ ہیں۔ جس وقت یہ احساسات ہم پر حاوی ہو جاتے ہیں، یہ ہمارے آرام اور ہماری آسودہ حیات کو پوری طرح برہم کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ اس حالت میں کوئی غیر انسانی فعل سرزد کر کے صورتِ حال کو مزید آشوب زدہ کر سکتے ہیں اور مزید غضب میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ علمی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ غضب آلود اور بدبینی پر مائل انسان دوسروں سے زیادہ صحت کے مسائل سے روبرو رہتے ہیں اور ان کا اعصاب، دل اور شریان کی بیماریوں میں گرفتار ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔

× 'پرابلیمه' روسی زبان سے ماخوذ لفظ ہے جس کا استعمال تاجکستان تک محدود ہے۔ اسی طرح 'پُرّه' اور 'آسایشته' کا استعمال بھی صرف تاجکستان اور ازبکستان میں استعمال ہونے والی فارسی میں ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
گروھی از مورخان بر این عقیدہ اند کہ ترکھا ریشہ در نژاد اقوام سفید پوست دارند۔ اما تحقیقاتی کہ در این زمینہ انجام شدہ مؤید این مطلب است کہ از زمانھای بسیار قدیم، ترکھا وابستہ بہ دو نژاد بودہ اند۔ یعنی گروھی از نژاد زرد و گروھی دیگر از نژاد سفید و تنھا عامل مشترک مشخصہ این قوم، وحدت زبانی آنھا بودہ است۔
کتاب: ترکیہ در جستجوی نقشی تازہ در منطقہ
تالیف: جواد انصاری


کچھ مؤرخین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ترکوں کی جڑیں سفید فام اقوام سے ہیں تاہم اس میدان میں کی گئی تحقیقات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ زمانہ قدیم سے ترکوں کی اصل دو گروہ رہے ہیں ایک گروہ نژاد زرد سے اور دوسرا گروہ نژاد سفید سے اور اس قوم کا واحد آشکار و مشترک عنصر، ان کی زبان کا ایک ہونا رہا ہے۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
کتاب: دستورِ زبانِ فارسی: دورهٔ دومِ جدید: مخصوصِ شاگردانِ سالِ پنجم و ششمِ دبستان‌ها
مصنف: میرزا عبدالعظیم خان قریب
سالِ طباعت: ۱۹۲۶ء

ہائے ملفوظ وہ ہے جو تلفظ کیا جاتا ہے اور یہ لفظ کے اول، وسط اور آخر میں آتا ہے: ہر، ہُرمُز، شہر، بہر، شاہ، کلاہ۔
ہائے غیر ملفوظ یا مختفی وہ ہے جو تلفظ نہیں کیا جاتا بلکہ حرکتِ ماقبل کو بیان کرتا ہے اور یہ ہا فقط الفاظ کے آخر میں آتا ہے: جامہ، خامہ، نامہ، خستہ، تشنہ۔"

کیا یہ کتاب آپ کے پاس موجود ہے؟
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ مستند اردو میں اس کی جنس مذکر ہے یا مؤنث۔ مجھے ذاتی طور پر حروفِ تہجی مذکر محسوس ہوتے ہیں، اس لیے میں انہیں مذکر استعمال کرتا ہوں۔

میں ابھی حروفِ تہجی ذہن میں دہرائے تو کچھ مؤنث اور کچھ مذکر متصور ہو رہے ہیں۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
کتابخانہ عمومی حضرت مرعشی نجفی در حال حاضر با گنجینہ ای بیش از بیست و پنجھزار مجلد کتاب خطی نفیس منحصر بفرد و بیش از چھار صد ھزار مجلد کتاب چاپی عربی و فارسی و ترکی و سایر زبانھا و بیش از سہ ھزار حلقہ میکرو فیلم و تصویر تھیہ شدہ از نسخہ ھای خطی موجود در کتابخانہ ھای عمومی و خصوصی داخل و خارج از کشور، یکی از بزرگترین کتابخانہ ھای اسلامی بشمار می آید۔
کتاب: فہرست انتشارات
تالیف: واحد انتشارات کتابخانہ حضرت مرعشی نجفی
ناشر: روابط عمومی کتابخانہ


کتابخانہ عمومی حضرت مرعشی نجفی پچیس ھزار سے زائد مجلد منفرد نفیس خطی نسخوں، چار سو ہزار سے زائد عربی، فارسی، ترکی اور دیگر زبانوں میں چھاپی گئی مجلد کتب اور اندرون و بیرونِ ملک عمومی و ذاتی کتب خانوں میں موجود قلمی نسخوں سے حاصل شدہ تین ہزار سے زائد عکس اور میکرو فلم پر مشتمل خزانے کے ساتھ عصرِ حاضر میں عظیم اسلامی کتب خانوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
اس کا بہتر ترجمہ کیا ہو سکتا ہے؟
پچیس ہزار سے زائد نفیس اور منفرد خطی نسخے۔۔۔
یہاں 'مجلّد' کا ترجمہ کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ لفظ اس جگہ پر ایک واحدِ شمارش کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
"او در حدودِ بیست مجلد کتاب تالیف کرد."
اُس نے تقریباً بیس عدد کتابیں تالیف کیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یکی رسول (ص) را گفت: "مرا وصیتی کن." گفت: "هر کجا باشی از حق تعالیٰ بترس." گفت: "دیگر." گفت: "از پسِ هر بدی نیکویی بکن تا آن را محو کند." گفت: "دیگر." گفت: "مخالطت با خلق به خوی نیکو کن."
کتاب: کیمیای سعادت
مصنف: ابوحامد امام محمد غزالی طوسی (متوفّیٰ ۵۰۵ هجری)


کسی نے رسول (ص) سے کہا: "مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔" فرمایا:‌ "جہاں بھی رہو حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔" کہا: "اور؟" فرمایا: "ہر بدی کے بعد کوئی نیکی کرو تاکہ وہ اُس (بدی) کو محو کر دے۔" کہا: "اور؟" فرمایا: "لوگوں کے ساتھ خوش خُلقی سے معاشرت کرو۔"

سید عاطف علی بھائی، امام محمد غزالی کی فارسی نثر کی ایک مثال دیکھیے۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
یکی رسول (ص) را گفت: "مرا وصیتی کن." گفت: "هر کجا باشی از حق تعالیٰ بترس." گفت: "دیگر." گفت: "از پسِ هر بدی نیکویی بکن تا آن را محو کند." گفت: "دیگر." گفت: "مخالطت با خلق به خوی نیکو کن."
کتاب: کیمیای سعادت
مصنف: ابوحامد امام محمد غزالی طوسی (متوفّیٰ ۵۰۵ هجری)

کس نے رسول (ص) سے کہا: "مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔" فرمایا:‌ "جہاں بھی رہو حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔" کہا: "اور؟" فرمایا: "ہر بدی کے بعد کوئی نیکی کرو تاکہ وہ اُس (بدی) کو محو کر دے۔" کہا: "اور؟" فرمایا: "لوگوں کے ساتھ خوش خُلقی سے معاشرت کرو۔"

سید عاطف علی بھائی، امام محمد غزالی کی فارسی نثر کی ایک مثال دیکھیے۔
بہت بہترین ۔ اسلوب کی اس قدر انتہا درجے کی سادگی مصنف کو تصنیف کے بامقصد رکھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
میں نے تو یہ کتاب کوئی بیس پچیس سال قبل اردو میں پڑھی تھی اکسیر ہدایت نامی ترجمہ تھا ۔ بلا کی روانی کا نمونہ ہے اور انتہائی بامقصد۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
حروف ھجای فارسی بیست و پنج است:
ا ۔ ء ۔ ب ۔ پ ۔ ت ۔ ج ۔ چ ۔ خ ۔ د ۔ ذ ۔ ر ۔ ز ۔ ژ ۔ س ۔ ش ۔ غ ۔ ف ۔ ک ۔ گ ۔ ل ۔ م ۔ ن ۔ و ۔ ہ ۔ ی
بواسطہ استعمال کلمات بیگانہ ھشت حرف:
ث ۔ ح ۔ ص ۔ ض ۔ ط ۔ ظ ۔ ع ۔ ق نیز در زبان فارسی یافت شود ولی
ث و ص را مانند س و ض و ظ را مانند ز و ط را مانند ت و ق را مثل غ تلفظ کنند۔
ھر گاہ حروف مزبور در کلمہ یافت شود آن کلمہ یا عربی است یا ترکی یا کلمہ فارسی است کہ از اصل خود تغییر یافتہ است:
(۱) مانند: صدق ۔ علم ۔ صوت ۔ شرط ۔ ظلم ۔ مرض ۔ حیا ۔ ثبوت
(۲) مانند: قزل ۔ قاطر ۔ قرق ۔ قاتق
(۳) مانند: صد ۔ شصت ۔ غلطیدن ۔ طپیدن ۔ طپانچہ کہ در اصل سد، شست، غلتیدن، تپیدن۔ تپانچہ بودہ است

کتاب: دستورِ زبانِ فارسی: دورهٔ دومِ جدید: مخصوصِ شاگردانِ سالِ پنجم و ششمِ دبستان‌ها
مصنف: میرزا عبدالعظیم قریب


فارسی زبان میں حروف تہجی کی تعداد پچیس ہے:
ا ۔ ء ۔ ب ۔ پ ۔ ت ۔ ج ۔ چ ۔ خ ۔ د ۔ ذ ۔ ر ۔ ز ۔ ژ ۔ س ۔ ش ۔ غ ۔ ف ۔ ک ۔ گ ۔ ل ۔ م ۔ ن ۔ و ۔ ہ ۔ ی
تاہم بیگانہ کلمات کے ذریعہ سے مزید آٹھ حروف ث ۔ ح ۔ ص ۔ ض ۔ ط ۔ ظ ۔ ع ۔ ق بھی فارسی زبان میں ملتے ہیں۔ ث اور ص کو مانند س، ض اور ظ کو مانند ز، ط کو ت کی مانند اور ق کو غ کی مانندتلفظ کیا جاتا ہے۔

جہاں کہیں مذکورہ حروف کلمہ میں موجود ہوں وہ کلمہ یا عربی ہو گا یا ترکی یا پھر ایسا فارسی کلمہ جو اپنی اصل (شکل) سے تبدیل ہو چکا ہو۔
(۱) مانند: صدق ۔ علم ۔ صوت ۔ شرط ۔ ظلم ۔ مرض ۔ حیا ۔ ثبوت
(۲) مانند: قزل ۔ قاطر ۔ قرق ۔ قاتق
(۳) مانند: صد ۔ شصت ۔ غلطیدن ۔ طپیدن ۔ طپانچہ
کہ ان کی اصل شکل سد، شست، غلتیدن، تپیدن۔ تپانچہ تھی۔
 

حسان خان

لائبریرین

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مہدی بہ سردی پرسید: منظورت چیہ؟
"منظورم آن ھمہ زحمتہاست کہ مردم نور آباد کشیدند۔"
"آرہ۔ ھمہ ش بہ باد رفت۔"
"حق با علی اکبر بود، این دھکدہ نفرین شدہ است۔ کار درست ھمان بود کہ او کرد۔"
مہدی جوابی نداد
مریم مصرانہ پرسید: "نہ؟"
"نمی دانم۔"
"بہتر است کہ ما ھم برویم۔"
مہدی جوابی نداد۔
مریم مصرانہ پرسید۔
مہدی بہ جای جواب، غلتید رو پہلوی چپ و از میان قاب پنجرہ بہ آسمان خاکستری خیرہ شد۔

کتاب: نور آباد، دھکدہ من
نویسندہ: ناصر ایرانی

مہدی نے سردمہری سے پوچھا: "مطلب کیا ہے تمہارا؟"
"میری مراد ان تمام زحمتوں سے ہے جو نور آباد کے لوگوں نے کشید کیں۔"
"ہاں، سب ہوا ہو گیا۔"
علی اکبر حق پر تھا۔ اس گاؤں کو بد دعا لگ گئی ہے۔ جو کچھ اس نے کیا درست کیا۔"
مہدی نے جواب نہ دیا۔
مریم نے پوچھا: "ایسا ہی نہیں؟"
"نہیں جانتا۔"
"بہتر ہے کہ ہم لوگ بھی چلے جائیں۔"
مہدی نے جواب نہ دیا۔
مریم مصر ہوئی۔
مہدی نے جواب دینے کی بجائے بائیں جانب کروٹ لی اور کھڑکی کی چوکھٹ سے خاکستری آسمان دیکھنے میں محو ہو گیا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ایک بات ہ / ھ مذکر ہے یا مؤنث؟

مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ مستند اردو میں اس کی جنس مذکر ہے یا مؤنث۔ مجھے ذاتی طور پر حروفِ تہجی مذکر محسوس ہوتے ہیں، اس لیے میں انہیں مذکر استعمال کرتا ہوں۔

میں ابھی حروفِ تہجی ذہن میں دہرائے تو کچھ مؤنث اور کچھ مذکر متصور ہو رہے ہیں۔
مراسلہ لکھنے کے بعد اس بارے میں ذرا سا تجسس ہوا اور میں نے لغت دیکھ ہی ڈالی۔فرہنگِ آصفیہ کے مطابق الف ، س، ش، ص، ض، ع، غ، ق، ک، گ ،ل، م اور نون مذکر حروف ہیں جبکہ بقیہ حروفِ تہجی مونث ہیں ۔ یہ تجنیس ان حروف کی اصل یعنی عربی یا فارسی زبانوں سے مستعار لی گئی ہے ۔ جبکہ ہندی الاصل حروف کو مونث قرار دیا گیا ہے ۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"سکوت به طرزِ ناراحت‌کننده و پُر از اضطرابی بر آنجا سایه افکنده بود. به نظر می‌رسید که دنیا مرده‌است. تنها صدایِ وهم‌انگیزِ بادِ کویر، مانندِ صدایِ پایِ اَشباح به گوش می‌رسید."
(وحشت در ساحلِ نیل، پرویز قاضی سعید)

"خاموشی نے اُس جگہ پر ناراحت کرنے والی اور ایک اضطراب بھری طرز سے سایہ ڈالا ہوا تھا۔ ایسا نظر آ رہا تھا کہ دنیا مر چکی ہے۔ صرف صحرائی ہوا کی وہم انگیز آواز پرچھائیوں کی صدائے پا کی مانند سنائی دے رہی تھی۔"
 

حسان خان

لائبریرین
"در وقت‌هایی، که من به سنِّ مکتبی رسیدم، دستِ پدرم نمی‌رسید، که مرا شخصا‌ً خواناند. بنابر این مرا در مکتبِ پیشِ مسجدِ قِشلاقِ خودمان - قشلاقِ ساکترَی گذاشت. چون من در آن مکتب چیزی را نیاموختم، مرا از آن جا گرفته به پیشِ زنِ امامِ قشلاق، که مکتبِ دخترکانه داشت و نسبت به مکتب‌دارِ مرد بهتر بود، گذاشت و در این میان ابجد و حسابِ ابجد را به من یاد داده به کشاده شدنِ ذهنم سبب شد (من دورهٔ حیاتِ مکتبیِ خودم را در 'مکتبِ کهنه' نام آچیرکِ خودم به تفصیل نوشته‌ام)."
کتاب: مختصرِ ترجمهٔ حالِ خودم

مصنف: صدرالدین عینی بخارایی
سالِ تحریر: ۱۹۴۰ء
سالِ اشاعتِ اول: ۱۹۵۵ء

"جب مَیں مکتب جانے کی عمر میں پہنچا، تب میرے والد مجھے شخصاً پڑھانے پر قادر نہ تھے۔ لہٰذا اُنہوں نے مجھے ہمارے اپنے گاؤں 'ساکترے' کی مسجد کے سامنے کے مکتب میں داخل کرا دیا۔ چونکہ میں نے اُس مکتب میں کوئی چیز نہ سیکھی، [اس لیے] اُنہوں نے مجھے وہاں سے ہٹا کر گاؤں کے امام کی بیوی، جن کا بچیوں کا مکتب تھا اور جو مرد مکتب دار کی نسبت بہتر تھیں، کے پاس بٹھا دیا اور اسی دوران وہ مجھے ابجد اور حسابِ ابجد سکھا کر میرے ذہن کی کشادگی کا سبب بنے (میں نے اپنی مکتبی حیات کے دور کو اپنے 'مکتبِ کہنہ' نامی مضمون میں تفصیل سے بیان کیا ہے)۔"
 
آخری تدوین:

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مراسلہ لکھنے کے بعد اس بارے میں ذرا سا تجسس ہوا اور میں نے لغت دیکھ ہی ڈالی۔فرہنگِ آصفیہ کے مطابق الف ، س، ش، ص، ض، ع، غ، ق، ک، گ ،ل، م اور نون مذکر حروف ہیں جبکہ بقیہ حروفِ تہجی مونث ہیں ۔ یہ تجنیس ان حروف کی اصل یعنی عربی یا فارسی زبانوں سے مستعار لی گئی ہے ۔ جبکہ ہندی الاصل حروف کو مونث قرار دیا گیا ہے ۔
یعنی "ب" کا خاندان، "ج" کا خاندان، "د" کا خاندان، "ر" کا خاندان، "ط" کا خاندان، ف، و، ہ، ھ، ی، ے مؤنث ہیں فرہنگ آصفیہ میں۔
ہمیں جس طرح سکھایا گیا تھا اس کے مطابق "ج" کا خاندان اور "ط۔ ظ" اور "و" بھی مذکر ہیں۔
شاید نسیم اللغات سے بھی کچھ علم ہو سکے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یعنی "ب" کا خاندان، "ج" کا خاندان، "د" کا خاندان، "ر" کا خاندان، "ط" کا خاندان، ف، و، ہ، ھ، ی، ے مؤنث ہیں فرہنگ آصفیہ میں۔
ہمیں جس طرح سکھایا گیا تھا اس کے مطابق "ج" کا خاندان اور "ط۔ ظ" اور "و" بھی مذکر ہیں۔
شاید نسیم اللغات سے بھی کچھ علم ہو سکے۔

مجھے بھی ہمیشہ تشکیک رہی ہے اس معاملے میں ۔ کئی حروف اہلِ زبان سے دونوں طرح سے سنے ہیں ۔ جب میں لڑکپن میں خطاطی کی تعلیم لیا کرتا تھا تو ایک صاحب کہتے کہ دال ذرا سی اورگول بنایا کرو ۔ لیکن دوسرے صاحب کہتے دال ذرا سا کھڑا بنایا کرو ۔ بس اسی چکر میں ہماری دال کچی رہ گئی ۔ :):):)
نسیم اللغات میرے پاس نہیں ہے اگر کوئی ربط مل سکے تو مین بصد شوق اس میں بھی دیکھ لوں گا۔
 
Top