فارسی نثری اقتباسات مع اردو ترجمہ

حسان خان

لائبریرین
"اور کُردوں کے قبائل تمام کے تمام شافِعی‌مذہب ہیں، اور وہ اسلامی شریعت اور حضرتِ خیرالانام علیہ الصلاۃ والسّلام کی سُنّتوں کی پیروی میں اور صحابہ و خُلَفائے عِظام کی مُتابعت میں اور عُلمائے کرام کی اطاعت میں اور فرائضِ نماز و زکات و حج و روزہ کی ادائیگی میں فراواں جہد و سعی اور ناقابلِ بیاں کوشش رکھتے ہیں۔"

(شرَف‌نامهٔ بِدلِیسی، امیر شرَف‌الدین خان بِدلیسی)
سالِ تألیفِ کتاب: ۱۰۰۵ھ

==============

فارسی متن:
"و بالتمام طوایف اکراد شافعی‌مذهبند در شرایع اسلام و سنن حضرت خیرالانام علیه الصلاة والسلام و متابعت صحب و خلفای عظام و مطاوعت علماء کرام و ادای فرائض صلاة و زکوة و حج و صیام جد و جهد تمام و اقدام ما لا کلام دارند."
 

حسان خان

لائبریرین
«مُلکِ کشمیر» کے چغَتائی تُرک حاکِم «میرزا محمد حیدر دوغلات» (وفات: ۱۵۵۱ء) نے اپنی فارسی کتاب «تاریخِ رشیدی» میں اپنے خالہ‌زاد «ظهیرالدین محمد بابُرِ» غازی کی مہارتِ شعری و اِستِعدادِ نویسَندَگی کی سِتائش اِن الفاظ میں کی تھی:

"وہ طرح طرح کے فضائل سے آراستہ اور خصائلِ حمیدہ سے پیراستہ پادشاہ تھے۔ اِن تمام [نیک] خِصلَتوں میں سے اُن میں شَجاعت و مُرُوّت غالِب تھی۔ تُرکی شاعری میں «امیر علی‌شیر نوائی» کے بعد کسی شخص نے اُن کے پائے کی شاعری نہیں کہی ہے۔ اُن کا ایک تُرکی دیوان ہے جو نہایت شیریں ہے۔ اور اُنہوں نے فِقہ کے موضوع پر «مُبَیّن» نامی ایک نظم منظوم کی ہے، اور یہ رِسالہ بہ غایت مُفید اور مقبولِ خلائق ہے۔ اور اُنہوں نے عَروضِ تُرکی [پر ایک رِسالہ] لِکھا ہے، اور اُن سے قبل کسی بھی شخص نے اُس لطافت کے ساتھ عَروضِ تُرکی [کے بارے میں] نہیں لِکھا ہے۔ اور اُنہوں نے حضرتِ «خواجہ عُبیداللہ احرار» کے «رِسالۂ والِدیہ» کو [تُرکی میں] منظوم کیا ہے۔ نیز، «وقائع» کے نام سے اُن کی ایک تُرکی کتابِ تاریخ ہے جو بہ غایت سلیس، رواں، پاکیزہ‌عبارت و پیراستہ، اور آسان‌فہم ہے۔"

============

فارسی متن:
"پادشاهی بود به انواع فضایل آراسته، به خصایل حمیده پیراسته. ازین همه خصلت، شجاعت و مروت او غالب بود. در شعر ترکی بعد از امیر علی‌شیر کس مقدار او نگفته. دیوانی دارد ترکی در غایت عذوبت و مبین نام نظمی ساخته در فقه، به غایت رسالهٔ مفید است و مقبول خلایق، و عروض ترکی نوشته که پیش از وی کسی عروض ترکی به آن لطافت ننوشته و رسالهٔ والدیه حضرت ایشان نظم کرده و وقایع نام تاریخ ترکی در غایت سلاست و روانی و عبارت پاکیزه منقح، قریب‌الفهم."


============

سلام بر «بابُر»!
 

حسان خان

لائبریرین
«حافظِ شیرازی» اپنی زندگی میں اپنا دیوانِ اشعار جمع و مُرَتّب نہیں کر سکے تھے، اور یہ کار اُن کی وفات کے چند سال بعد اُن کے ایک ہم‌عصر اور مُعاشِر، جن کا نام مآخِذ میں «محمد گُل‌اندام» آیا ہے، کے بدست انجام پایا تھا، اور اُنہوں نے اُس جمع‌کردہ دیوان کے آغاز میں ایک مُختَصَر مُقدِّمہ بھی لکھا تھا۔۔۔ اُس مُقدِّمے میں اُنہوں نے «حافظ» کی زندگی ہی میں دیوان کے جمع و مُرَتّب نہ ہو پانے اور اشعارِ حافظ کے پراکندہ و مُتَفَرِّق رہنے کا یہ باعِث لِکھا ہے:

"...به واسطهٔ محافظتِ درسِ قُرآن و ملازمتِ تقویٰ و احسان و بحثِ کشّاف و مفتاح و مطالعهٔ مطالع و مصباح و تحصیلِ قوانینِ ادب و تجسُّسِ دواوینِ عرب به جمعِ اَشتاتِ غزلیات نپرداخت و به تدوین و اثباتِ ابیات مشغول نشد."

"۔۔۔۔درسِ قُرآن کی نِگہداری، اور تقویٰ و اِحسان میں ہمیشہ مشغولیت، اور «کشّاف» و «مِفتاح» میں تفحُّص و تحقیق، اور «مطالِع» و «مِصباح» کے مُطالعے، اور قوانینِ ادبیات کی تحصیل، اور دواوینِ اشعارِ عرب میں جُستجو و کاوِش کے باعث وہ مُتَفَرِّق غزلیات کی جمع‌آوری اور ابیات کی تدوین و اِثبات میں مشغول نہ ہوئے۔"

× چند نُسخوں میں «ملازمتِ تقویٰ و احسان و بحثِ کشّاف و مفتاح» کی بجائے «ملازمتِ شُغلِ تعلیمِ سلطان و تحشیهٔ کشّاف و مفتاح» مرقوم ہے، یعنی: "۔۔۔تعلیمِ سُلطان کے پیشے میں ہمیشہ مشغولیت اور «کشّاف» و «مِفتاح» کی حاشیہ‌نویسی۔۔۔"
 

حسان خان

لائبریرین
فارسی کے بُزُرگ‌ترین اِسماعیلی ادیب، اور بدَخشان و پامِیر و واخان و گِلگِت و ہُنزَہ و چِترال کے اِسماعیلیوں کی ایک مُکرّم‌ترین شخصیت «ناصِر خُسرَو» کے مشہور سفرنامے کے اِبتِدائی حِصّے سے ایک اِقِتباس دیکھیے جس میں اُنہوں نے سفر کی جانب عازِم ہونے کا مُحرِّک بیان کیا ہے:

"ربیع‌الآخر ۴۳۷ھ میں جس وقت خُراسان کا امیر ابوسُلیمان چغری بیگ داؤد بن میکائیل بن سلجوق تھا، میں ایک دیوانی کام کے سلسلے میں مرْو سے چلا گیا اور مرْورُود کے پنج‌دِیہ میں وارِد ہو کر [قِیام‌پذیر] گیا، اور اُس روز رأس اور مُشتَری کا قِران تھا۔ کہتے ہیں کہ اُس روز جو بھی حاجت مانگی جائے باری تعالیٰ مُستَجاب کرتا ہے۔ میں ایک گوشے میں گیا اور میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور حاجت مانگی کہ خُدا تعالیٰ و تبارک مجھ کو حقیقی ثروَت‌مندی دے۔ جب میں اپنے یاران و اصحاب کے نزدیک آیا تو اُن میں سے ایک شخص کوئی فارسی شاعری پڑھ رہا تھا۔ میرے ذہن میں ایک شاعری آئی اور میرا دِل کیا کہ میں اُس شخص سے اُس شاعری کی خوانِش کرنے کی درخواست کروں، لہٰذا میں نے شاعری کو کاغذ پر لکھا تاکہ اُس شخص کو قِرائت کرنے کے لیے دُوں۔ ہنوز میں نے وہ کاغذ اُس کو دیا بھی نہ تھا کہ اُس نے بِعَینِہِ اُسی شاعری کی قِرائت شروع کر دی۔ میں نے اُس صورتِ حال کو فالِ نیک شُمار کیا اور خود سے کہا کہ خُدا تبارک و تعالیٰ نے میری حاجت کو مُستَجاب کر دیا۔ پس پھر میں اُس جگہ سے جُوزجانان چلا گیا اور تقریباً ایک ماہ وہاں رہا، اور [وہاں] مَیں شراب مُسلسَل پیتا تھا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ "راست (سچ) کہو، خواہ خود تمہارے نفْس کے خِلاف ہی کیوں نہ ہو"۔ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے مجھ کو کہا "کب تک یہ شراب پیو گے جو مردُم سے عقل کو زائل کر دیتی ہے۔ اگر تم باہوش رہو تو بہتر ہے"۔ میں نے جواباً کہا "حُکَما اِس شراب کے بُجز ایسی کوئی چیز نہیں بنا سکے ہیں کہ جو غمِ دُنیا کو کم کر دے۔" اُس نے جواب دیا کہ "بے‌خودی و بےہوشی میں راحت نہیں ہے۔ اُس شخص کو حکیم (دانا و دانش‌مند و عاقل و فرزانہ) نہیں کہا جا سکتا کہ جو مردُم کو بےہوشی کی جانب راہ دِکھائے، بلکہ ایسی چیز طلب کرنی چاہیے کہ جو خِرَد و ہوش میں اِضافہ کر دے۔" میں نے کہا کہ "میں ویسی چیز کو کہاں سے حاصل کروں؟" اُس نے کہا: "جو جُستُجو کرتا ہے، پا لیتا ہے"، اور پھر اُس نے قِبلے کی جانب اشارہ کیا اور دیگر کوئی سُخن نہ کہا۔ جب میں خواب سے بیدار ہوا تو وہ صورتِ حال تماماً میری یاد میں تھی اور اُس نے مجھ پر اثر کر دیا۔ اور میں نے خود سے کہا کہ مَیں شبِ گُذشتہ کے خواب سے بیدار ہو گیا، اب لازِم ہے کہ میں چہل سالہ خواب سے بھی بیدار ہو جاؤں۔ میں نے تدبُّر کیا کہ جب تک میں خود کے تمام افعال و اعمال کو تبدیل نہ کر لوں، فرح نہ پاؤں گا۔
۶ جمادی‌الآخر ۴۳۷ھ روزِ پنج‌شنبہ، جو فارسیوں کے یزدجُردی سال کے مُطابق سن ۴۱۴ اور ماہِ دَے کا روزِ پانزدہُم تھا، میں نے سر و تن دھویا اور جامع مسجد گیا اور نماز ادا کی اور باری تعالیٰ سے اِس چیز کی یاری چاہی کہ جو کچھ مجھ پر واجب ہے اُس کو ادا کر سکوں اور مُنکِرات و ناپسندیدہ اُمور سے دست کھینچ سکوں ویسے ہی کہ جیسے حق سُبحانہ وتعالیٰ نے حُکم فرمایا ہے۔
پس پھر میں اُس جگہ سے شبورغان چلا گیا۔ شب کو میں قریۂ باریاب میں رُکا، اور وہاں سے میں سمَنگان و طالِقان کی راہ سے مرْورود چلا گیا۔ پس پھر میں مرْو گیا، اور جو پیشہ و مشغولیت میری ذِمّےداری تھی میں نے اُس کی انجام‌دِہی سے معذرت چاہ لی، اور کہا کہ مَیں سفرِ قِبلہ کی جانب عازِم ہوں۔
پس جو کچھ حساب کتاب تھا میں نے بےباق کر دیا، اور دُنیاوی چیزوں میں جو کچھ تھا میں نے تَرک کر دیا، اِلّا ضرورت کی چند چیزیں۔"


==========

فارسی متن:

"در ربیع الآخر سنهٔ سبع و ثلثین و اربعمائه که امیرخراسان ابوسلیمان چغری بیک داود بن میکال بن سلجوق بود از مرو برفتم به شغل دیوانی، و به پنچ دیه مروالرّود فرود آمدم، که در آن روز قران رأس و مشتری بود گویند که هر حاجت که در آن روز خواهند باری تعالی و تقدّس روا کند. به گوشه‌ای رفتم و دو رکعت نماز بکردم و حاجت خواستم تا خدای تعالی و تبارک مرا توانگری حقیقی دهد. چون به نزدیک یاران و اصحاب آمدم یکی از ایشان شعری پارسی می‌خواند. مرا شعری در خاطر آمد که از وی درخواهم تا روایت کند، بر کاغذ نوشتم تا به وی دهم که این شعر برخوان. هنوز بدو نداده بودم که او همان شعر بعینه آغاز کرد. آن حال به فال نیک گرفتم و با خود گفتم خدای تبارک و تعالی حاجت مرا روا کرد. پس از آن جا به جوزجانان شدم و قریب یک ماه ببودم و شراب پیوسته خوردمی. پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم می‌فرماید که قولوا الحق ولو علی انفسکم. شبی در خواب دیدم که یکی مرا گفت چند خواهی خوردن از این شراب که خرد از مردم زایل کند، اگر به‌هوش باشی بهتر. من جواب گفتم که حکما جز این چیزی نتوانستند ساخت که اندوه دنیا کم کند. جواب داد که در بیخودی و بیهوشی راحتی نباشد، حکیم نتوان گفت کسی را که مردم را به بیهوشی رهنمون باشد، بلکه چیزی باید طلبید که خرد و هوش را بیفزاید. گفتم که من این از کجا آرم. گفت جوینده یابنده باشد، و پس سوی قبله اشارت کرد و دیگر سخن نگفت. چون از خواب بیدار شدم، آن حال تمام بر یادم بود برمن کار کرد و با خود گفتم که از خواب دوشین بیدار شدم اکنون باید که از خواب چهل ساله نیز بیدار گردم. اندیشیدم که تا همه افعال و اعمال خود بدل نکنم فرح نیابم.
روز پنجشنبه ششم جمادی الاخرة سنهٔ سبع و ثلثین و اربعمائه نیمهٔ دی ماه پارسیان سال بر چهارصد چهاردهٔ یزدجردی. سر و تن بشستم و به مسجد جامع شدم و نماز بکردم و یاری خواستم از باری تبارک و تعالی به گزاردن آنچه بر من واجب است و دست بازداشتن از منهیات و ناشایست چنان که حق سبحانه و تعالی فرموده است.
پس از آن جا به شبورغان رفتم. شب به دیه باریاب بودم و از آن جا به راه سمنگان و طالقان به مروالرّود شدم. پس به مرو رفتم و از آن شغل که به عهدهٔ من بود معاف خواستم و گفتم که مرا عزم سفر قبله است.
پس حسابی که بود جواب گفتم و از دنیاوی آنچه بود ترک کردم الا اندک ضروری."
 
Top