فارسی نثری اقتباسات مع اردو ترجمہ

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 3, 2015

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تُرکی و فارسی زبانوں کی باہم درآمیختگی

    اُستاد دُکتُر قدیر گُلکاریان اپنے مقالے «تاریخِ تکامُلِ ادبیاتِ تُرکیِ آذربایجان و تُرکیه در همگَنی با ادبیاتِ فارسی در قرنِ شانزدهُم و اوایلِ قرنِ هفدهُمِ میلادی» میں ایک جا تُرکی و فارسی زبانو‌ں کے درمیان باہمی قُربت کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "چه بخواهیم، چه نخواهیم، این دو زبان چنان به هم در آمیخته و با هم به صورت موازی مسیر تکاملی خود را می‌پیمایند که انکار آن و حرکت علیه این همگَنی، نوعی دشمنی با واقعیت و در عین حال فریب دادن خود با پندارهای متعصبانه است."

    "خواہ ہم چاہیں، خواہ نہ چاہیں، یہ دو زبانیں (تُرکی و فارسی) اِس طرح باہم درآمیختہ ہو گئی ہیں اور اِس طرح باہم مُتوازی طور پر اپنی راہِ ارتقا طے کر رہی ہیں کہ اِس کا انکار اور اِس ہم نوعیت کے خلاف حرَکت، ایک طرح سے حقیقت کے ساتھ دُشمنی، اور ساتھ ہی خود کو مُتعصّبانہ گُمانوں کے ساتھ فریب دینا ہے۔"
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 15, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نور در تاریکی می‌تابد و تاریکی هرگز بر آن چیره نشده است‌.
    (کتابِ مُقدّس، عہدنامۂ جدید، یوحنّا، باب ۱، آیت ۵)

    نُور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی ہرگز اُس پر غالب نہیں آئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    "بارها گفته‌ام که قرآن فرهنگ الهی و دینی ادبیات ماست و شاهنامه فرهنگ بومی و مردمی آن. هر شعر و نوشته‌ای که از ده قرن پیش تا کنون به دست ما رسیده، سرشار از این دو مایه‌بخش آسمانی و زمینی است."
    (سیمین بهبهانی)
    مأخذ

    "میں بارہا کہہ چکی ہوں کہ قرآن ہمارے ادبیات کی اِلٰہی و دینی ثقافت ہے، جبکہ شاہنامہ اُس کی سرزمینی و مردُمی ثقافت۔ گذشتہ دس صدیوں سے لے کر اب تک جو بھی شاعری و تحریر ہمارے دست تک پہنچی ہے، وہ این دو آسمانی و زمینی اساس بخش [مأخذوں] سے سرشار ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    قُطب‌الدین ایبَک کو اہداء کی گئی کتاب «شجرۂ انساب» یا «بحرالانساب» کے مُقدِّمے میں، جو «تاریخِ فخرالدین مُبارک‌شاه» کے نام سے مشہور ہے، میں محمد بن منصور مُبارک‌شاه فخرِ مُدبِّر زبانِ تُرکی کے بارے میں لکھتے ہیں:

    "۔۔۔بعد از لغت زبان تازی هیچ سخنی و لغتی بهتر و باهیبت‌تر از زبان ترکی نیست و امروز رغبت مردمان به زبان ترکی بیش از آن است که در روزگارهای پیشین بدان سبب که بیش‌تر امیران و سپه‌سالاران ترکان‌اند و دولت به‌ایشان است و نعمت و زر و سیم در دست ایشان است و جملهٔ خلائق را بدان حاجت است و اصیلان و بزرگان و بزرگ‌زادگان در خدمت ترکان‌اند و از دولت ایشان آسوده و مستظهر و باحرمت‌اند."

    "زبانِ عربی کے بعد کوئی بھی سُخن و لُغت زبانِ تُرکی سے زیادہ بہتر و باحشمت نہیں ہے اور اِمروز زبانِ تُرکی کی جانب مردُم کی رغبت ایامِ گُذشتہ سے زیادہ ہے کیونکہ بیشتر حُکمران و سپاہ سالار تُرک ہیں اور اقتدار اُن کے پاس ہے اور نعمت و زر و سِیم اُن کے دست میں ہے اور کُل خلائق اُس کی حاجت مند ہے اور نجیبان و بُزُرگان و بُزُرگ زادگان تُرکوں کی خدمت میں ہیں اور اُن کی حُکومت و اقبال مندی سے آسودہ و مددیاب و باحُرمت ہیں۔"
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 16, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    "فضولی یکی از بزرگ‌ترین، یا به قولی شاید بزرگ‌ترین شاعر ترکی عثمانی بوده که شهرتش در زمان زندگی و پس از وفات از بین‌النهرین به ترکیهٔ عثمانی و آذربایجان و آسیای مرکزی رسیده و قرن‌ها سرمشق شاعران دیگر بوده‌است."
    (حشمت مؤید)

    "«فُضولی» زبانِ تُرکیِ عُثمانی کے ایک عظیم‌ترین، یا ایک قول کے مُطابق شاید عظیم‌ترین شاعر تھے، کہ جن کی شُہرت اُن کے زمانۂ حیات میں اور وفات کے بعد دیارِ بَین‌النہرَین سے نِکل کر عُثمانی تُرکیہ، آذربائجان اور وسطی ایشیا تک پہنچ گئی تھی، اور وہ صدیوں تک دیگر شاعروں کے لیے سرمشق رہے ہیں۔"
    × بَینُ‌النہرَین = دجلہ و فُرات کے مابین کی سرزمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    "فضولی اشعاری رصین به زبان‌های ترکی، فارسی و عربی دارد و دیوان فارسی وی مشحون از قصاید بلند در مدح نبی (ص) و علی (ع) و مرثیهٔ حسین (ع) و نیز غزلیاتی بسیار لطیف و دل‌کش و مقطعات و رباعیات است و ساقی‌نامه‌ای به نام هفت جام دارد که در آن با روشی بسیار ظریف به مناظره با نی، دف، چنگ، عود، تنبور، قانون و مطرب نشسته و از زبان آن‌ها مواعظی آموزنده، بر مبنای اصول عرفان و اخلاق اسلامی، بیان داشته‌است."
    (سید حمید طبیبیان)

    "«فُضولی» نے تُرکی، فارسی و عرَبی زبانوں میں مُحکم و اُستُوار اشعار کہے ہیں، اور اُن کا دیوانِ فارسی حضرتِ پیغمبر و حضرتِ علی کی مدح میں، اور حضرتِ حُسین کے سوگ میں کہے گئے عالی قصیدوں، نیز بِسیار لطیف و دل‌کش غزلوں، اور قطعات و رُباعیات سے پُر ہے۔ اور «ہفت‌جام» کے نام سے اُن کا ایک ساقی‌نامہ ہے کہ جس میں اُنہوں نے بِسیار خوش‌طبعی و نُکتہ‌سنجی کے ساتھ نَے، دف، چنگ، عود، تنبور، قانون اور مُطرِب کے ساتھ مُناظرہ و مُباحثہ کیا ہے اور اُن کی زبان سے سبق‌آموز، اور عرفان و اخلاقِ اسلامی کے اُصول پر مبنی نصائح و مواعظ بیان کیے ہیں۔"
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 9, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    16,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    "مولانا محمد فضولی در همان دورانِ حیاتش در میانِ اهلِ علم و ادب از احترامی خاص برخوردار بوده و آثارش موردِ تقلید قرار گرفته‌است. در طول پنج قرن گذشته، تذکره‌ای نیست که در تمجید از او بهترین کلمات و عبارات را به کار نبرده باشند."
    (م. کریمی)

    "مولانا محمد فُضولی اپنے زمانۂ حیات ہی میں اہلِ علم و ادب کے درمیان ایک خاص احترام کے حامل ہو گئے تھے اور اُسی وقت سے اُن کی تألیفات کی تقلید و پیروی شروع ہو گئی تھی۔ گُذشتہ پانچ صدیوں کے دَوران کوئی ایسا تذکرۂ شُعَرا نہیں ہے کہ جس میں اُن کی تمجید و سِتائش میں بہترین کلمات و عبارات کو برُوئے کار نہ لایا گیا ہوں۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر