غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے

ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:

وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
صعوبتوں کی کتاب رستے

ہیں سہل الفت کے رہرووں کو
ہوں چاہے جتنے خراب رستے

جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے

چمک سے دھندلا گئی ہے منزل
بنے ہوئے ہیں سراب رستے

رہِ عزیمت کے راہیوں کو
گناہ مسکن، ثواب رستے

کمی ہے تیرے جنوں میں تابشؔ
جو بن گئے ہیں عذاب رستے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
 

کاشف اختر

لائبریرین
سبحان اللہ! منفرد قافیہ کی بہت منفرد اعلیٰ غزل ہوئی ہے ماشاء اللہ! ہر شعر عمدہ ہے! بہت لطف آیا آپ کی اس غزل کو پڑھ کر!
 

فرقان احمد

محفلین
ہیں سہل الفت کے رہرووں کو
ہوں چاہے جتنے خراب رستے

جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے

چمک سے دھندلا گئی ہے منزل
بنے ہوئے ہیں سراب رستے

رہِ عزیمت کے راہیوں کو
گناہ مسکن، ثواب رستے

بہترین!

مطلع کی مکمل تفہیم نہ ہو سکی، لگتا ہے، اپنا مطالعہ بڑھانا پڑے گا۔
 
شکریہ فرقان بھائی۔
مطلع کی مکمل تفہیم نہ ہو سکی، لگتا ہے، اپنا مطالعہ بڑھانا پڑے گا۔
ارے فرقان بھائی کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ کمی ضرور میرے بیانیہ میں ہے، جو ربط واضح نہ ہو سکا۔
پہلے مصرع میں جو بات کہی ہے، دوسرے میں اس کی وضاحت ہے۔
وفا کا بہترین نصاب رستے ہیں
کیوں؟
وفا کے رستے میں لوگوں نے جو مصائب جھیلے ہیں، وہ رستوں پر ہی تو رقم ہیں۔

شاید، پھر بھی نہ سمجھ آئے تو یقیناً شعر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ :)
 
واہ واہ!! بہت خوب تابش بھائی !
کیا اچھا شعر ہے !

جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے

کیا بات ہے گلاب رستے کی ! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !
 
Top