سولھویں سالگرہ ظہیر احمد ظہیر بھائی سے ادبی اور علمی مکالمہ

قوافی بسا اوقات خیالات کے اظہار کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ یا بالکل ہی بدل ڈالتے ہیں۔ زبان دانی کی کمی تو لغت بہرحال پورا کر دیتی ہے مگر جب قوافی کی کمی ہو تو خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آ جاتی ہے ۔ ہمارے ساتھ تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ

پکائی تھی کھیر بن گیا دلیہ

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے ؟
قوافی کی کمی؟! میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے ۔ نو آموزی کے دور میں اکثر شعرا طبع آزمائی کے لئے بعض اوقات ایسی زمینیں منتخب کرتے ہیں کہ جن میں ردیف قافیہ تنگ ہوتا ہے ( زمین = ردیف+ قافیہ + وزن)۔ لیکن تجربہ جلد ہی سکھادیتا ہے کہ ایسی زمینوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو کشادہ قوافی اور ردیف منتخب کرنا چاہئے ۔ منتخب کرنے سے مراد یہ کہ یا تو کسی استاد شاعر کی آسان زمین میں فکرِ سخن کی جائے یا پھر خود ہی ایسا مصرع کہا جائے ۔ شاعری میں پختگی مطالعہ ، مشق اور تجزیے سے آتی ہے۔ اور اگر کسی استاد کی صحبت اور تربیت میسر آجائے تو گویا سونے پہ سہاگہ ۔ کچھ لوگ پختگی کے یہ مراحل بہت جلد اور ذرا سی کوشش سے طے کرلیتے ہیں کہ ان کی طبیعت میں شاعرانہ جوہر قدرتی طور پر بدرجۂ کمال موجود ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو ایک عمر لگ جاتی ہے ۔ بقولِ اقبال اشعر: ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی ۔

لغت سے زبان نہیں سیکھی جاتی ۔ لغت تو بوقتِ ضرورت کسی لفظ کا تلفظ ، معانی یا تجنیس وغیرہ کی تصدیق کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ زبان تو صرف اور صرف مطالعے اور زبان دانوں کی صحبت سے نکھرتی ہے۔ میری ناقص رائے میں ادبِ عالیہ کے مطالعے کے بغیر اچھا شعر و ادب تخلیق کرنے کا تصور بھی محال ہے۔ زبان پر قدرت ہو تو پھر ردیف قافیہ اظہارِ خیال میں آڑے نہیں آتے۔ پیرایہ بدل کر یا صنائع بدائع استعمال کرکے مضمون ادا کردیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ لکھے کم اور پڑھے زیادہ !
جہاں تک میرے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں چھٹی ساتویں جماعت سے شاعری کررہا ہوں ۔ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ۔ :) ابتدائی دور میں زورِ کلام دکھانے اور اپنے "ہنر" کی تسکین و تصدیق کے لئے مشکل زمینوں میں کچھ غزلیں لکھی تھیں جن میں سے کچھ خاکدان میں موجود ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں کرتا ۔ اگر کبھی کوئی ایسا شعر خود بخود ہو بھی جاتا ہے کہ جس کی زمین تنگ ہو تو میں اس میں زیادہ دیر فکرِ سخن نہیں کرتا ۔ اگر کوئی امکان نظر نہ آئے تو اس شعر کو ترک کردیتا ہوں ۔ میں نے اب تک بلا مبالغہ درجنوں نامکمل غزلیں اور سینکڑوں اشعار اسی وجہ سے رد کردیئے کہ ان میں اچھا شعر کہنے کے مزید امکانات نہیں تھے ۔ بالکا ہی معمولی یعنی سامنے کا شعر ، شعر برائے شعر یا بھرتی کا شعر کہنے سے بہتر ہے کہ شعر نہ کہا جائے۔ شعر رد کرنے سے شعری خیال تو ختم نہیں ہوتا ۔ وہ تو آپ کے ذہن میں موجود رہتا ہے اور مستقبل میں کسی اور زمین میں شعر کی صورت ڈھل جاتا ہے ۔
اب اس ایک بات پر اپنے جواب کو ختم کرتا ہوں کہ شاعری گولف کی طرح ہے ۔ ہر دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ گولف کلب گھما کر گیند کو مارنا تو بہت آسان ہے ، اس میں بھلا کیا مشکل ہوگی ۔ لیکن جب کھیلیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسے سیکھنے کے لئے کتنی تربیت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ :) یہی حال شاعری کا ہے۔ اکثر لوگ شاعری شروع تو کردیتے ہیں لیکن ریاضت سے گھبرا جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں اساتذہ ایسے لوگوں کو شروع ہی میں کہہ دیا کرتے تھے کہ میاں شاعری تمہارا میدان نہیں ۔ کسی اور صنف میں قلم آزمائی کرو۔ اب انٹرنیٹ پر کسی کو ایسا کہنا فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن عقلمند لوگوں کو اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے یا کچھ اور کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ :D
 
دراصل بھیا ہم نے آپ سے ذاتی مکالمے کی ناکام کوشش کے بعد صاحب اختیار کے مشورے سے لڑی کا آغاز کر دیا۔
آپ اپنی سہولت سے محفلین کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
معان بھائی ، مجھے یقین تھا کہ آپ نے دھاگا شروع کرنے سے پہلے رابطے کی کوشش کی ہوگی ۔۔ ذاتی مکالمے کا دروازہ تو ہمیشہ سے کھلا تھا لیکن کچھ عرصے پہلےاسے بند کرنا پڑا۔ بہت سارے نئے لوگ ذاتی پیغام میں "براہِ اصلاح کے لئے" شاعری بھیجنے لگے تھے ۔ ان کو جواب دینے میں بہت وقت ضائع ہوتا تھا ۔ اس لئے ذاتی مراسلت کو محدود کرنا پڑا۔ زحمت کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ کبھی ذاتی مراسلت کی ضرورت ہو تو کسی پرانے پیغام کو استعمال کرتے ہوئے اسی میں نیا مراسلہ لکھ دیا کیجئے ۔ :)
 

صابرہ امین

لائبریرین
قوافی کی کمی؟! میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے ۔ نو آموزی کے دور میں اکثر شعرا طبع آزمائی کے لئے بعض اوقات ایسی زمینیں منتخب کرتے ہیں کہ جن میں ردیف قافیہ تنگ ہوتا ہے ( زمین = ردیف+ قافیہ + وزن)۔ لیکن تجربہ جلد ہی سکھادیتا ہے کہ ایسی زمینوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو کشادہ قوافی اور ردیف منتخب کرنا چاہئے ۔ منتخب کرنے سے مراد یہ کہ یا تو کسی استاد شاعر کی آسان زمین میں فکرِ سخن کی جائے یا پھر خود ہی ایسا مصرع کہا جائے ۔ شاعری میں پختگی مطالعہ ، مشق اور تجزیے سے آتی ہے۔ اور اگر کسی استاد کی صحبت اور تربیت میسر آجائے تو گویا سونے پہ سہاگہ ۔ کچھ لوگ پختگی کے یہ مراحل بہت جلد اور ذرا سی کوشش سے طے کرلیتے ہیں کہ ان کی طبیعت میں شاعرانہ جوہر قدرتی طور پر بدرجۂ کمال موجود ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو ایک عمر لگ جاتی ہے ۔ بقولِ اقبال اشعر: ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی ۔

لغت سے زبان نہیں سیکھی جاتی ۔ لغت تو بوقتِ ضرورت کسی لفظ کا تلفظ ، معانی یا تجنیس وغیرہ کی تصدیق کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ زبان تو صرف اور صرف مطالعے اور زبان دانوں کی صحبت سے نکھرتی ہے۔ میری ناقص رائے میں ادبِ عالیہ کے مطالعے کے بغیر اچھا شعر و ادب تخلیق کرنے کا تصور بھی محال ہے۔ زبان پر قدرت ہو تو پھر ردیف قافیہ اظہارِ خیال میں آڑے نہیں آتے۔ پیرایہ بدل کر یا صنائع بدائع استعمال کرکے مضمون ادا کردیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ لکھے کم اور پڑھے زیادہ !
جہاں تک میرے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں چھٹی ساتویں جماعت سے شاعری کررہا ہوں ۔ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ۔ :) ابتدائی دور میں زورِ کلام دکھانے اور اپنے "ہنر" کی تسکین و تصدیق کے لئے مشکل زمینوں میں کچھ غزلیں لکھی تھیں جن میں سے کچھ خاکدان میں موجود ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں کرتا ۔ اگر کبھی کوئی ایسا شعر خود بخود ہو بھی جاتا ہے کہ جس کی زمین تنگ ہو تو میں اس میں زیادہ دیر فکرِ سخن نہیں کرتا ۔ اگر کوئی امکان نظر نہ آئے تو اس شعر کو ترک کردیتا ہوں ۔ میں نے اب تک بلا مبالغہ درجنوں نامکمل غزلیں اور سینکڑوں اشعار اسی وجہ سے رد کردیئے کہ ان میں اچھا شعر کہنے کے مزید امکانات نہیں تھے ۔ بالکا ہی معمولی یعنی سامنے کا شعر ، شعر برائے شعر یا بھرتی کا شعر کہنے سے بہتر ہے کہ شعر نہ کہا جائے۔ شعر رد کرنے سے شعری خیال تو ختم نہیں ہوتا ۔ وہ تو آپ کے ذہن میں موجود رہتا ہے اور مستقبل میں کسی اور زمین میں شعر کی صورت ڈھل جاتا ہے ۔
اب اس ایک بات پر اپنے جواب کو ختم کرتا ہوں کہ شاعری گولف کی طرح ہے ۔ ہر دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ گولف کلب گھما کر گیند کو مارنا تو بہت آسان ہے ، اس میں بھلا کیا مشکل ہوگی ۔ لیکن جب کھیلیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسے سیکھنے کے لئے کتنی تربیت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ :) یہی حال شاعری کا ہے۔ اکثر لوگ شاعری شروع تو کردیتے ہیں لیکن ریاضت سے گھبرا جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں اساتذہ ایسے لوگوں کو شروع ہی میں کہہ دیا کرتے تھے کہ میاں شاعری تمہارا میدان نہیں ۔ کسی اور صنف میں قلم آزمائی کرو۔ اب انٹرنیٹ پر کسی کو ایسا کہنا فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن عقلمند لوگوں کو اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے یا کچھ اور کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ :D
بہت بہت شکریہ ۔ ۔ کافی اور بھی سوالات کے جوابات مل گئے ۔ ۔ :clap::clap:
 

صابرہ امین

لائبریرین
علم قافیہ اور عروض پر میں کچھ عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ قافیے کا ایک متبادل نظام ایجاد کیا ہے میں نے۔ دیکھئے یہ کام کب مکمل ہوتا ہے ۔
میری دعا ہے کہ یہ کام جلد ختم ہو تاکہ "ہمارا" ٹھیک ٹھاک بھلا ہو جائے ۔ اللہ آپ کو بے پناہ فرصت اور ہمت عطا کرے ۔ آمین
عروض میں ترمیم سے آپ کی کیا مراد ہے میں نہیں سمجھ سکا۔ اور کن شاعروں نے یہ ترمیم کی ہے اس بارے میں بھی تفصیلاً کچھ بتائیے ۔
میں نے سنا ہے کہ قافیہ کے استعمال میں کافی آسانیاں کر دی گئیں ہیں ۔ یعنی لگتے، ہوتے، کھاتے، جاتے وغیرہ قابلِ قبول ہیں ۔ حرف روی کے مشترک ہونے کے اصول کو پسِ پشت ڈال دینا وغیرہ ۔
جیسے وصی شاہ کا شعر
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
اور ایسے کئی اشعار ۔ جب کہ واضح ہو کہ وصی شاہ ایک مشہور و مقبول شاعر ہیں ۔ ایسے کئی شعرا کو ہم نے بزمِ شاعری نامی پروگرام میں سنا ہے جو مقامی ٹی وی پر آتا ہے ۔

(ہم نے یہ شکیب بھائی کے بلاگ سے کاپی کیا ہے ۔)
 
میری دعا ہے کہ یہ کام جلد ختم ہو تاکہ "ہمارا" ٹھیک ٹھاک بھلا ہو جائے ۔ اللہ آپ کو بے پناہ فرصت اور ہمت عطا کرے ۔ آمین

میں نے سنا ہے کہ قافیہ کے استعمال میں کافی آسانیاں کر دی گئیں ہیں ۔ یعنی لگتے، ہوتے، کھاتے، جاتے وغیرہ قابلِ قبول ہیں ۔ حرف روی کے مشترک ہونے کے اصول کو پسِ پشت ڈال دینا وغیرہ ۔
جیسے وصی شاہ کا شعر
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
اور ایسے کئی اشعار ۔ جب کہ واضح ہو کہ وصی شاہ ایک مشہور و مقبول شاعر ہیں ۔ ایسے کئی شعرا کو ہم نے بزمِ شاعری نامی پروگرام میں سنا ہے جو مقامی ٹی وی پر آتا ہے ۔

(ہم نے یہ شکیب بھائی کے بلاگ سے کاپی کیا ہے ۔)

اس طرح کے قوافی ظاہر ہے درست نہیں ہیں اور لوگ اپنی آسانی کے لئے استعمال کررہے ہیں ۔ اس کے دفاع میں یہ کہا جاتا ہے کہ بھئی نثری نظم سے تو پھر بہتر ہے۔ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ اگر قافیہ اظہارِ کی راہ میں آڑے آتا ہے تو نظم معریٰ اورآزاد نظم کی اصناف موجود ہیں ، غزل کا حسن تباہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس طرح سے تو کئی اور بدعات کا در کھل سکتا ہے ۔ قافیے کے سلسلے میں جو اصلاحات میرے ذہن میں ہیں ان میں اس مسئلے کے حل کی تجویز بھی ہے ۔ دیکھئے وہ مضمون کب مکمل ہوتا ہے ۔

دعاؤں کے لئے آپ کا شکریہ! اللہ کریم آپ کو فلاحِ دارین عطا فرمائے ۔
 

علی وقار

محفلین
غالب کی شاعری آج کے عہد کے ساتھ بھی نہایت متعلقہ محسوس ہوتی ہے اور اسے ایک عظیم شاعر کا کمال تصور کیا جا سکتا ہے۔ میر کے کلام، اور اقبال کے اشعار کے ساتھ بھی کم و بیش یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ موجودہ دور میں ان شعراء کے کئی مصرعے کالمز کا عنوان تک ٹھہرتے ہیں جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اردو شاعری میں ایسے کون سے دیگر نمایاں شعراء ہیں جنہیں آپ آج بھی پڑھیں تو اُن کے اشعار عہد موجود سے اپنا تعلق استوار کرتے دکھائی دیتے ہیں؟
 
غالب کی شاعری آج کے عہد کے ساتھ بھی نہایت متعلقہ محسوس ہوتی ہے اور اسے ایک عظیم شاعر کا کمال تصور کیا جا سکتا ہے۔ میر کے کلام، اور اقبال کے اشعار کے ساتھ بھی کم و بیش یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ موجودہ دور میں ان شعراء کے کئی مصرعے کالمز کا عنوان تک ٹھہرتے ہیں جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اردو شاعری میں ایسے کون سے دیگر نمایاں شعراء ہیں جنہیں آپ آج بھی پڑھیں تو اُن کے اشعار عہد موجود سے اپنا تعلق استوار کرتے دکھائی دیتے ہیں؟
علی وقار صاحب ، یہ واضح نہیں ہوا کہ "۔۔۔۔ شاعری آج کے عہد کے ساتھ بھی نہایت متعلقہ محسوس ہوتی ہے" سے آپ کی کیا مراد ہے ۔ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ غالب ، میر اور اقبال کی شاعری عہدِ رواں کے مسائل اور جدید آدمی کے مشاہدات و محسوسات کی آئینہ دار ہے تو میں اس بات سے قطعی متفق نہیں۔
غالب کے ہاں آفاقی موضوعات کی کثرت ہے۔ اسی لئے اس کے بہت سارے اشعار ہر دور پر صادق آتے ہیں ۔

میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آبھی نہ سکوں
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
وغیرہ وغیرہ ۔

مشتے نمونہ از خروارے غالب کی تین غزلوں سے بلا قصد لئے گئے یہ چند مصرعے آفاقی مضامین پر مشتمل ہیں اور ان کی سچائی زمان و مکان سے بالا تر ہے۔ یہ سدا بہار الفاظ مستقبل کے ہر دور میں بھی سچے ہی رہیں گے کہ ان کا تعلق کائناتی حقائق اور انسانی نفسیات سے ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان مضامین کا جدید عہد اور اس کے مسائل سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ غالب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ دو سو سال پہلے اپنی کچھ غزلوں میں ایسی زبان استعمال کرگیا جسے نفاست و سلاست کے انتہائی درجے پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ وہ زبان آج ہی کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ مؔیر کو میں قدما میں شمار کرتا ہو ۔ اس کی شاعری نے کم از کم مجھے تو کبھی متاثر نہیں کیا ۔ بلکہ جب بھی پڑھا ہے مایوسی ہی ہوئی ہے ۔ مؔیر زمانی اعتبار سے بڑا شاعر ہے ۔ اس کے آگے اردو شعر کا میدان بالکل کھلا تھا سو اس نے جو کچھ کہا وہ نیا تھا ۔ مؔیرنے خوب لکھا اور دیوان کے دیوان بھر دیئے ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس خس و خاشاک میں پھول گنے چنے ہی ہیں۔ :)

اقبال کی شاعری کا زمانہ اگرچہ نسبتاً زیادہ دور کا نہیں لیکن اس کے ہاں مسلم قومیت اور فلسفے کا نقش اتنا گہرا ہے کہ وہ دیگر تمام رنگوں پر حاوی نظر آتا ہے۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جدید عہد اور جدید آدمی کے مسائل ہیں کیا؟ فی الوقت گفتگویہیں پر روکتے ہیں اور آپ کی طرف سے وضاحت آنے کے بعدمکالمہ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ :):):)
 

علی وقار

محفلین
اگر اس سے مراد یہ ہے کہ غالب ، میر اور اقبال کی شاعری عہدِ رواں کے مسائل اور جدید آدمی کے مشاہدات و محسوسات کی آئینہ دار ہے تو میں اس بات سے قطعی متفق نہیں۔
غالب کے ہاں آفاقی موضوعات کی کثرت ہے۔ اسی لئے اس کے بہت سارے اشعار ہر دور پر صادق آتے ہیں ۔

میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آبھی نہ سکوں
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
وغیرہ وغیرہ ۔
جی جناب میری مراد یہی تھی جیسا کہ آپ نے سمجھا ہے۔ سچ پوچھیں تو آپ کے مراسلے سے سوچ کے نئے در وا ہو گئے۔ اور اس بہانے میر، غالب اور اقبال کی شاعری سے متعلق آپ کے خیالات بھی جاننے کو مل گئے۔
دراصل میں کالمز وغیرہ پڑھتا ہوں تو بسا اوقات کالم کا عنوان غالب کا کوئی مصرع ہوتا ہے تو اس حوالے سے ذہن میں یہ سوال آیا تھا جس کا آپ نے تسلی بخش جواب عنایت فرما دیا۔ :)
 

صابرہ امین

لائبریرین
علی وقار صاحب ، یہ واضح نہیں ہوا کہ "۔۔۔۔ شاعری آج کے عہد کے ساتھ بھی نہایت متعلقہ محسوس ہوتی ہے" سے آپ کی کیا مراد ہے ۔ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ غالب ، میر اور اقبال کی شاعری عہدِ رواں کے مسائل اور جدید آدمی کے مشاہدات و محسوسات کی آئینہ دار ہے تو میں اس بات سے قطعی متفق نہیں۔
غالب کے ہاں آفاقی موضوعات کی کثرت ہے۔ اسی لئے اس کے بہت سارے اشعار ہر دور پر صادق آتے ہیں ۔

میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آبھی نہ سکوں
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
وغیرہ وغیرہ ۔

مشتے نمونہ از خروارے غالب کی تین غزلوں سے بلا قصد لئے گئے یہ چند مصرعے آفاقی مضامین پر مشتمل ہیں اور ان کی سچائی زمان و مکان سے بالا تر ہے۔ یہ سدا بہار الفاظ مستقبل کے ہر دور میں بھی سچے ہی رہیں گے کہ ان کا تعلق کائناتی حقائق اور انسانی نفسیات سے ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان مضامین کا جدید عہد اور اس کے مسائل سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ غالب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ دو سو سال پہلے اپنی کچھ غزلوں میں ایسی زبان استعمال کرگیا جسے نفاست و سلاست کے انتہائی درجے پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ وہ زبان آج ہی کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ مؔیر کو میں قدما میں شمار کرتا ہو ۔ اس کی شاعری نے کم از کم مجھے تو کبھی متاثر نہیں کیا ۔ بلکہ جب بھی پڑھا ہے مایوسی ہی ہوئی ہے ۔ مؔیر زمانی اعتبار سے بڑا شاعر ہے ۔ اس کے آگے اردو شعر کا میدان بالکل کھلا تھا سو اس نے جو کچھ کہا وہ نیا تھا ۔ مؔیرنے خوب لکھا اور دیوان کے دیوان بھر دیئے ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس خس و خاشاک میں پھول گنے چنے ہی ہیں۔ :)

اقبال کی شاعری کا زمانہ اگرچہ نسبتاً زیادہ دور کا نہیں لیکن اس کے ہاں مسلم قومیت اور فلسفے کا نقش اتنا گہرا ہے کہ وہ دیگر تمام رنگوں پر حاوی نظر آتا ہے۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جدید عہد اور جدید آدمی کے مسائل ہیں کیا؟ فی الوقت گفتگویہیں پر روکتے ہیں اور آپ کی طرف سے وضاحت آنے کے بعدمکالمہ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ :):):)
ظہیر بھائی، آپ جس طرح سوالات کا جواب انتہائی لگن، دلچسپی اور وضاحت سے دیتے ہیں کہ دل سے بےاختیار دعائیں نکل جاتی ہیں ۔ بلکہ وہ سوالات جو پوچھیں بھی نہ ہوں ان کے جوابات بھی مل جاتے ہیں ۔ آپ کی شاعرانہ کامیابی کی وجہ بھی یقینا یہ دعائیں ہی رہی ہوں گی ۔ ہمارا کاسہ بھی آپ نے ہمیشہ امید سے زیادہ بھر ڈالا ۔ کیا کہیں ایسے لوگ اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ ایک معصومانہ سوال دل میں ہے مگر ڈر ہے کہ آپ غیرمتعلق کہہ کر رد نہ کر دیں یا کوئی ریٹنگ وغیرہ سے ٹال نہ دیں ۔ مگر پوچھے بنا چارہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ رد ہی تو ہو گا ۔ :D
تو سوال ہے کہ آپ کے بچپن کے دوست جو آپ کے ساتھ شاعری کرتے تھے وہ شاعری میں کہاں تک پہنچےِ؟
 

زیک

تکنیکی معاون
شاعری کو چھوڑ کر کہ اس پر کئی سوال و جواب ہو چکے آپ کی نثر بھی خوب ہے۔ اتنا عرصہ امریکا میں رہتے ہوئے میری اردو کو زنگ تو شاید نہ لگا ہو لیکن پنپ بھی نہیں سکی اور آج کل تو انگریزی اتنی رچ بس گئی ہے کہ عام طور پر مدعا بیان کرنے کے لئے انگریزی کو ہی ترجیح دیتا ہوں چاہے لکھنا ہو یا بولنا۔ آپ کا اردو سے تعلق اور اسے اتنے بہتر ادبی و شگفتہ انداز میں برقرار رکھنا کیونکر ممکن ہوا؟
 
آخری تدوین:
ظہیر بھائی، آپ جس طرح سوالات کا جواب انتہائی لگن، دلچسپی اور وضاحت سے دیتے ہیں کہ دل سے بےاختیار دعائیں نکل جاتی ہیں ۔ بلکہ وہ سوالات جو پوچھیں بھی نہ ہوں ان کے جوابات بھی مل جاتے ہیں ۔ آپ کی شاعرانہ کامیابی کی وجہ بھی یقینا یہ دعائیں ہی رہی ہوں گی ۔ ہمارا کاسہ بھی آپ نے ہمیشہ امید سے زیادہ بھر ڈالا ۔ کیا کہیں ایسے لوگ اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ ایک معصومانہ سوال دل میں ہے مگر ڈر ہے کہ آپ غیرمتعلق کہہ کر رد نہ کر دیں یا کوئی ریٹنگ وغیرہ سے ٹال نہ دیں ۔ مگر پوچھے بنا چارہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ رد ہی تو ہو گا ۔ :D
تو سوال ہے کہ آپ کے بچپن کے دوست جو آپ کے ساتھ شاعری کرتے تھے وہ شاعری میں کہاں تک پہنچےِ؟
سب لوگ غمِ روزگار کا شکار ہوگئے۔ کاندھوں نے ذمہ داریوں کےساتھ ساتھ شاعری کا بوجھ بھی اٹھانے سے انکار کردیا ۔ میری خوش قسمتی (؟) یہ رہی کہ میں امریکا چلا آیا ۔ یہاں زندگی نسبتاً سہل ہے ۔ معاشرہ ایک نظام کے تحت چل رہا ہے سو کچھ نہ کچھ ذہنی فرصت میسر آجاتی ہے ۔ شاعری کو تو میں نے بھی پسِ پشت ہی رکھا اور کبھی ذمہ داریوں کی راہ میں آنے نہ دیا لیکن اب اردو محفل کے طفیل آپ تک پہنچ رہی ہے ۔
شکریہ اردو محفل!
 
شاعری کو چھوڑ کر کہ اس ہر کئی سوال و جواب ہو چکے آپ کی نثر بھی خوب ہے۔ اتنا عرصہ امریکا میں رہتے ہوئے میری اردو کو زنگ تو شاید نہ لگا ہو لیکن پنپ بھی نہیں سکی اور آج کل تو انگریزی اتنی رچ بس گئی ہے کہ عام طور پر مدعا بیان کرنے کے لئے انگریزی کو ہی ترجیح دیتا ہوں چاہے لکھنا ہو یا بولنا۔ آپ کا اردو سے تعلق اور اسے اتنے بہتر ادبی و شگفتہ انداز میں برقرار رکھنا کیونکر ممکن ہوا؟
آپ مانیں یا نہ مانیں ، اردو تو میری بھی زنگ آلود ہوچکی ہے ۔ اکثر لکھتے وقت مناسب الفاظ یاد نہیں آتے ، ٹھہر کر سوچنا پڑتا ہے ۔وجہ وہی ہے جو آپ نے بیان کی ۔ تین دہائیوں سے گفتگو اور لکھنا پڑھنا تمامتر انگریزی ہی میں ہوتا ہے۔ حد یہ کہ گھر میں بچے بھی عموماً انگریزی ہی بولتے ہیں ۔ صرف روز مرہ کی عام بات چیت اردو میں ہوتی ہے۔موضوع ذرا بھی اس عام دائرے سے باہر نکلے تو خود بخود انگریزی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔
میرا خیال ہے کہ امریکا ہجرت سے پہلے میں اردوادب اس قدر پڑھ چکا تھا کہ اردو زبان کو بھولنا میرے لئے تقریباً ناممکن ہے ۔ اپنے کام یعنی پیشے کے علاوہ جتنی باتیں ہیں وہ اب بھی اردو ہی میں سوچتا ہوں ۔ مآخذ کی کتابیں گاہے بگاہے اب بھی دیکھتا رہتا ہوں ۔ پچھلے چند سالوں سے لسانیات سے دلچسپی بڑھ گئی ہے تو تھوڑا بہت ضرورتاً پڑھتا بھی رہتا ہوں ۔ ایک اور بات یہ کہ شعر و ادب پڑھنے میں انتہائی درجے کی تخصیص برتتا ہوں ۔ جو لوگ پسند ہیں بس انہی کو پڑھتا ہوں اور بار بار پڑھتا ہوں ۔ مشتاق یوسفی ، ابنِ انشا ، مختار مسعود ، فیض ، افتخار عارف یہ سب لوگ بڑے زبان دان ہیں ۔ انہیں بہت پڑھا ہے ۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
ظہیر بھائی، آپ نے ایک جگہ ایک ترکیب "العلمُ چھیچھڑۃٌ فکھچوھا" استعمال کی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ :love:
 
ظہیر بھائی، آپ نے ایک جگہ ایک ترکیب "العلمُ چھیچھڑۃٌ فکھچوھا" استعمال کی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ :love:
اَلعِلمُ چِھیچڑۃٌ فَکھِچُّوھَا ۔۔۔۔۔۔ علم ایک چھیچڑا ہے پس اسے (جتنا چاہو) کھینچو۔
جب کسی موضوع پر گفتگو یا بحث بلاوجہ طول پانے لگے تو ایک دوست یہ کہا کرتے تھے ۔ :):):)
 
آخری تدوین:

زیک

تکنیکی معاون
حد یہ کہ گھر میں بچے بھی عموماً انگریزی ہی بولتے ہیں
اسے میں ایک اہم موڑ گردانتا ہوں۔ بیٹی کی پیدائش پر خیال تھا اسے اردو سکھائیں گے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جتنی اردو اسے آتی ہے اس کے باوجود انگریزی ہی بولتی ہے اور اس طرح گھر سے بھی اردو معدوم ہوئی۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
معان بھائی ، مجھے یقین تھا کہ آپ نے دھاگا شروع کرنے سے پہلے رابطے کی کوشش کی ہوگی ۔۔ ذاتی مکالمے کا دروازہ تو ہمیشہ سے کھلا تھا لیکن کچھ عرصے پہلےاسے بند کرنا پڑا۔ بہت سارے نئے لوگ ذاتی پیغام میں "براہِ اصلاح کے لئے" شاعری بھیجنے لگے تھے ۔ ان کو جواب دینے میں بہت وقت ضائع ہوتا تھا ۔ اس لئے ذاتی مراسلت کو محدود کرنا پڑا۔ زحمت کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ کبھی ذاتی مراسلت کی ضرورت ہو تو کسی پرانے پیغام کو استعمال کرتے ہوئے اسی میں نیا مراسلہ لکھ دیا کیجئے ۔ :)
جو مجھ ایسا کبھی پرانا مکالمہ نہ رکھتا ہو۔ وہ کیا کرے۔ میں نے بھی چند گزلیں بھیجنی ہیں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر بھائی! ایک سوال میری طرف سے بھی۔
آپ نے جن مصنفین کے نام لیے وہ مجھے بھی بہت پسند ہے۔ اور میری بھی یہی عادت ہے کہ کئی بار نئی کتاب پڑھنے کی بجائے پرانی پڑھی کتاب ہی بار بار پڑھ لیتا ہوں۔ بلکہ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ نئی کتاب کا ذائقہ پسند نہ آئے تو پرانی کتاب پڑھ کر طبیعت کی اکتاہٹ دور کرتا ہوں۔ کیا ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟ اور کون سی کتاب آپ کی پسندیدہ ہے؟
 
Top