1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

سولھویں سالگرہ ظہیر احمد ظہیر بھائی سے ادبی اور علمی مکالمہ

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'محفل کی سالگرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 18, 2021

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    السلام علیکم
    الحمدللہ اردو محفل فورم کی سولھویں سالگرہ کا جشن جوش و جذبے سے جاری ہے۔
    علمی اور ادبی شخصیات سے مکالمہ کی نویں لڑی کے ساتھ ہم آپ محفلین کی خدمت میں حاضر ہیں۔
    اس لڑی میں ہم ظہیراحمدظہیر بھائی کو مدعو کر رہے ہیں ۔
    آپ ظہیر بھیا سے اپنے پسندیدہ سوالات پوچھ سکتے ہیں۔
    ذاتی نوعیت کے بے مقصد سوالات سے اجتناب کریں۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 18, 2021
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    12,135
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    آپ کا مطلب ہے کہ اپنے پسندیدہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔۔۔ مگر ہوں تو ظہیر بھائی کے بارے نا؟؟؟

    ہاں تو ہم اپنا پسندیدہ سوال پوچھنا چاہیں گے کہ

    ظہیر بھائی آپ کا پسندیدہ موسم کون سا ہے جس میں آپ کام کی بجائے آرام سے اس موسم سے لطف اٹھانا پسند کرتے ہیں۔
    ایسا ممکن ہوتا ہے یا مصروفیات کی بنا پر بس سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    1,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اس لڑی کا انتظار تھا ۔
    محترم ظہیر صاحب، پہلا سوال یہ ہے کہ آپ شاعری کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ مشاعروں سے کوئی خاص رغبت نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ آپ نے پہلا شعر کس عمر میں کہا اور کیسے شاعری کی ابتدا ہوئی ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    1,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شاعری میں آپ کے استاد کون تھے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    محمد عدنان اکبری نقیبی معان بھائی ، مجھے اس مکالمے کے لئے والنٹیئر کرنے کا بہت بہت بہت شکریہ! :D
    گوشہ نشینی کے حفاظتی خول پر زور سے دستک تو خیرہے لیکن جواب ملنے کے حسنِ ظن پر آپ داد کے مستحق ہیں۔:)
    ویسے یہ بہتر ہوتا کہ آپ پہلے مجھے ایک وارننگ دے دیتے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ محفل میں میری حاضری گنڈے دار ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اِدھر لوگ سوال پوچھیں اور اُدھر مجھے دنوں بلکہ ہفتوں غائب پائیں۔ سوچیں گے کہ کتنا بد اخلاق اور بد تہذیب آدمی ہے سوال کا جواب ہی نہیں دیتا۔ بہرحال ، اب آپ نے میرا سر مکالمے کی موکھلی میں دے ہی دیا ہے تو سوالوں کے موسلوں کا ڈر نکالنا ہی پڑے گا۔ یا کیبورڈ تیرا ہی آسرا! :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ویسے تو اس سوال کو حسن اکبر کمال کا یہ شعر پڑھ کر بھی ٹالا جاسکتا ہے کہ:

    کیا ہوتا ہے خزاں بہار کے آنے جانے سے
    سب موسم ہیں دل کِھلنے اور دل مرجھانے سے

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے آرام ہی آرام ہے۔ الحمدللہ! ثم الحمدللہ! کوئی موسم ہو ہر روز کام سے آنے کے بعد آرام ہی کرتا ہوں۔ جب تک بچے گھر پر تھے ان کے ساتھ مصروف رہتا تھا اب بیگم کے ساتھ وقت گزرتا ہے ۔ اسی وجہ سے لکھنے پڑھنے کی فرصت کم ہی ملتی ہے۔ ذمہ داریاں پہلے ، مشاغل بعد میں! جہاں تک موسم کا تعلق ہے تو مجھے بہار ، خزاں اور بغیر لُو کی شدید گرمی (بقول ایک دوست لُو لیس گرمی) پسند ہیں۔ سردیوں میں برفباری بہت پسند آتی ہے۔ البتہ تیز ٹھنڈی ہواؤں والی سردی سے جان جاتی ہے کہ رضائی اوڑھے پھرنا خاصا مشکل کام ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ درست ہے کہ باذوق سامعین سے شاعر کو تحریک ملتی ہے لیکن شاعری کرنا اور مشاعروں سے رغبت رکھنا لازم و ملزوم نہیں۔ مشاعروں سے پرہیز کی وجہ کئی دفعہ پہلے بھی یہیں کہیں لکھ چکا ہوں ۔ امید ہے کوئی مہربان ربط یا روابط مہیا کردے گا۔ میری شعری سرگرمیاں زیادہ تر حلقۂ احباب میں ہی رہتی ہیں ۔ یہ حلقہ مختصر سہی لیکن اس میں ذوق کی کمی نہیں ۔
    شاعری کیوں کرتا ہوں کا جواب تفصیل طلب ہے ۔ اس وقت سنجیدہ باتیں لکھنے کا موڈ نہیں اس لئے اس سوال کا جواب ادھار رہا ۔ :)

    شاعری ساتویں جماعت میں شروع کی۔ ایک ہم جماعت کو بھی شاعری کا شوق تھا ۔ دونوں مل کر ایک دوسرے کو اپنی نظمیں سنایا کرتے تھے۔ شروع میں بچوں کی نظمیں لکھیں جن میں سے ایک نظم مسعود احمد برکاتی صاحب کی برکت سے ماہنامہ نونہال میں بھی شائع ہوئی۔ سنجیدہ شاعری نویں جماعت میں فیض کا مجموعہ دستِ صبا پڑھنے کے بعد شروع کی۔ انقلابِ ایران نے بھی شعری تحریک کو مہمیز کیا۔ دسویں جماعت اور پھر انٹرمیڈیٹ کالج میں بہت شاعری کی جو تقریباً تمام کی تمام بعد میں ضائع کردی کہ وقت کے ساتھ ساتھ میرا ذوق اور معیار بدل گیا تھا۔ ہائی اسکول کے دنوں میں جاسوسی کہانیاں بھی لکھیں جن میں سے ایک چند سال پہلے تک تو ایک پرانی نوٹ بک میں نظر آتی تھی پھر نجانے وہ "کاپی" کہاں غائب ہوگئی۔ کسی دن اس کی "سراغ رسانی" بھی کرنی پڑے گی۔ :)
    شاعری میں میرے استاد مُلّا عبدالاحد تھے جو مُلا عبدالصمد کے پڑپوتے تھے۔ ( اگر یہ مذاق سمجھ میں نہیں آیا تو قبلہ محمد وارث سمجھادیں گے)۔ :)
    مجھے تلمیذ الرحمٰن سمجھئے ۔ زانوئے تلمذ کسی کے آگے تہ کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ پہلے تعلیم اور پھر روزگار اِدھر سے اُدھر کشاں کشاں لئے پھرا ۔ عروض کا باقاعدہ علم میڈیکل کالج کے زمانے میں عبداللہ الاثری کی کتاب "رہبرِ شاعری" سے حاصل کیا ۔ یہ کتاب نایاب ہے اور میں نے شمس العلما داؤد پوتہ لائبریری (سندھ عجائب گھر) سے چُرائی تھی۔ ستر اسّی سال پہلے سیٹھ آدم جی عبداللہ پبلشرز (بمبئی والے) نولکھا بازار لاہور نے شائع کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    معان بھائی نے دھاگا تو علمی اور ادبی مکالمے کے لئے شروع کیا ہے لیکن لگ رہا ہے سوالات اس نوعیت کے پوچھے جائیں گے کہ کھانے میں بریانی زیادہ پسند ہے یا آلو کا بھُرتا۔ سو پہلے ہی بتادیتا ہوں کہ اس نوعیت کے سوال پوچھنے والے کو بیک وقت نہ صرف غیر متفق اور غلط املا اور غمناک کی ریٹنگ دی جائیں گی بلکہ اس سے جوابی سوال بھی پوچھا جائے گا کہ فلسفۂ ما بعد الطبیعیات میں وجودیت کی غایت اور علت پر ژاں پال سارتر کے خیالات کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے ۔ اور یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آلو کے بھرتے میں آلو اورپیاز کا معقول تناسب کیا ہونا چاہیئے ۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 10
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,515
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ اور اس رشتے کی مناسبت سے آپ غالب کے کیا کہلاویں گے؟
    ہمارے یہاں ایک ہی استاد کے دو شاگرد آپس میں "گرو بھائی" ہوتے ہیں۔ جیسے کرشن اور سداما دونوں مہارشی سندیپنی کے شاگرد تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  10. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,691
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    پڑپوتا ، پوتے کا بیٹا ہوتا ہے ۔ جییسے آپ اپنے والد کے دادا کے پڑپوتے ہیں ۔
    اور آپ کے والد کے دادا آپ کے پردادا ہیں ۔
    یعنی
    زیادہ نیچے اتریں تو پڑ لگانا پڑتا ہے ۔
    اسی طرح زیادہ اوپر اڑیں تو پر لگانے پڑتے ہیں ۔
    ہمارے ہاں تو یہ رواج ہے ۔
    معذرت پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ ظہیر بھائی کے دھاگے میں کودنا ہمارا فرض ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 3
  11. علی وقار

    علی وقار محفلین

    مراسلے:
    1,980
    واقعی یہ کتاب نایاب ہے۔ تاہم، انٹرنیٹ پر عبد اللہ الاثری کی ایک کتاب "دانشوران اندلس" موجود ہے اور اس میں درج ہے کہ الاثری کسی زمانے میں روزنامہ زمیندار کے مدیر اعلی بھی رہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کُودا ترے آنگن میں کوئی دھم سے نہ ہوگا
    جو کام ہوا ہم سے وہ رُستم سے نہ ہوگا

    سید صاحب قبلہ کودے ہیں تو ہم بھی ان کے پیچھے اتر آئے۔ فہد صاحب، یہاں "گرو بھائی" کی بجائے" پیر بھائی" کہتے ہیں یا پیر استاد بھائی، کام ایک جیسا ہو تو "پیٹی بھائی" (پیٹی سے مراد وہ بڑی سی بیلٹ ہے جو عام طور پر پولیس یا وردی والے پہنتے ہیں)، گاؤں ایک ہو تو "گرائیں"۔

    قبلہ ظہیر کا غالب کے ساتھ کیا رشتہ بنتا ہے یہ تو وہ خود ہی بتائیں گے، ہمارے بہرحال وہ پیٹی بھائی اور پیر استاد بھائی ضرور بن گئے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  13. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    1,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عروض کا علم ایک دقیق اور مشقت طلب کام ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کو آسان ہونا چاہئے؟ یعنی یہ ترمیم کا متقاضی ہے ۔ سنا ہے کچھ شعراء کے حلقوں نے تو ایسا کر بھی دیا ہے ۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 22, 2021
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    1,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    قوافی بسا اوقات خیالات کے اظہار کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ یا بالکل ہی بدل ڈالتے ہیں۔ زبان دانی کی کمی تو لغت بہرحال پورا کر دیتی ہے مگر جب قوافی کی کمی ہو تو خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آ جاتی ہے ۔ ہمارے ساتھ تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ

    پکائی تھی کھیر بن گیا دلیہ

    کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    دراصل بھیا ہم نے آپ سے ذاتی مکالمے کی ناکام کوشش کے بعد صاحب اختیار کے مشورے سے لڑی کا آغاز کر دیا۔
    آپ اپنی سہولت سے محفلین کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    40,939
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Aggressive
    عدنان یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ پلیز پوچھ کر اور اجازت پا کر ایسی لڑیاں شروع کریں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  17. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جی بہتر
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  18. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    فہد، رشتہ کے بارے میں جواب تو وارث صاحب نے پہلے ہی دے دیا ۔ ان کا شکریہ!
    میں نے تو بطور مزاح ملا عبدالاحد کا نام لکھا تھا ۔ مرزا غالب تلمیذالرحمٰن تھے ۔ شاعر میں کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی ۔ فطرتاً شاعر تھے۔ عربی فارسی وغیرہ تو ظاہر ہے کہ کئی استادوں سے پڑھی ۔ ملا عبدالصمد سے دو سال تک آگرہ میں فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ یہ صاحب ایران سے آئے تھے اور دو تین سال ہند میں رہ کر واپس چلے گئے ۔ چونکہ اس زمانے میں شاعر کے لئے کسی کا شاگرد ہونا لازم تھا اور کسی کو بے استادا کہنا ایک تحقیر آمیز بات سمجھی جاتی تھی اس لئے غالب نے اپنے مخالفین اور معترضین کا منہ بند کرنے کے لئے یہ مشہور کردیا کہ ملا عبدالصمد شاعری میں ان کے استاد تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  19. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اجی کودیئے کودیئے ، جتنا جی چاہے کھیلئے کودیئے! :D
    بقول بے بس ڈبلیو گیاروی ؎کھیلو گے کودو گے تو بنو گے نواب

    :):):)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  20. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    پہلی بات تو یہ کہ شاعر کے لئے اس درجہ کا علم عروض حاصل کرنا قطعی ضروری نہیں کہ جس کے حاملین عروضی کہلاتے ہیں ۔ صرف اوزان کا ادراک اور تقطیع کے اصولوں کا علم ضروری ہے۔ اکثر شعرا اپنے آپ کو چند معروف اور مقبول اوزان تک ہی محدود رکھتے ہیں اور ان اوزان کے جائز و ناجائز کا انہیں علم ہوتا ہے ۔ اگرچہ اکثر کو ان بحور کے نام بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوتے لیکن اس سے ان کی شاعری پر قطعی کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی پڑنا چاہئے۔ شاعر تو فطری طور پر موزوں طبع ہوتا ہے بس الفاظ کی نشست و برخواست درست کرنے اور غلطی سے بچنے کے لئےکام چلاؤ عروضی علم کا ہونا ضروری ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ آج کل شاعروں کا بڑا مسئلہ تقطیع کے اصولوں سے عدم واقفیت اور درست تلفظ کا ہے ۔ کن کن صورتوں میں حروف گرائے جاسکتے ہیں ، کہاں کہاں نہیں گرائے جاسکتے ، کن الفاظ کو اساتذہ نے کس وزن پر باندھا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب سیکھنے کی ضرورت ہے ہر شاعر کو ۔ کسی بھی فن یا ہنر کو سیکھنے کے لئے تربیت اور ریاضت کے تمام مراحل سے گزرنا تو پڑتا ہے۔

    اردو عروض چونکہ براستہ فارسی عربی سے آیا ہے اس لئے اس کی اصطلاحات غریب اور دقیق معلوم ہوتی ہیں۔ رہی سہی کسر عروضی کتب لکھنے والےمصنفین نے پوری کردی ۔ اپنی کتب میں کچھ ایسی زبان اور ایسے گنجلک پیرائے استعمال کئے کہ طالب علم کو بات سمجھنے کے لئے ذہنی قلابازیاں کھانا پڑتی ہیں۔ سو یہ بات طے ہے کہ اردو عروض کی تسہیل وقت کا تقاضا ہے۔ تسہیل کا مطلب یہ نہیں کہ بحور و اوزان کے جائز و ناجائز تبدیل کردیئے جائیں گے یا تقطیع کے نئے قاعدے ایجاد کئے جائیں گے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عروضی اصطلاحات کو جہاں تک ممکن ہوسکے آسان اور قابلِ فہم بنایا جائے۔ عروضی اصولوں کی تہ میں کارفرما بنیادی تصورات کو قاری کے لئے آسان زبان میں بیان کیا جائے۔ اردو زبان کے مزاج اور اردو شاعری میں عروض کے محدود استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے افاعیل اور بحور میں تخریج کی ضرورت ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ یہ موضوع انتہائی تفصیل طلب ہے، یہاں اس کا موقع نہیں ۔ علم قافیہ اور عروض پر میں کچھ عرصے سے لکھنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ قافیے کا ایک متبادل نظام ایجاد کیا ہے میں نے۔ دیکھئے یہ کام کب مکمل ہوتا ہے ۔

    عروض میں ترمیم سے آپ کی کیا مراد ہے میں نہیں سمجھ سکا۔ اور کن شاعروں نے یہ ترمیم کی ہے اس بارے میں بھی تفصیلاً کچھ بتائیے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر