شعر کا جواب شعر میں

شمشاد

لائبریرین
اور کچھ دیر گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں
(فیض)
 

شمشاد

لائبریرین
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
(فراز)
 
تو نگاہوں کی زباں تو خوب سمجھتا ھو گا
تجھ پر اٹھا کرتی ھیں اکثر آنکھیں
میں زباں پر تو بٹھا سکتا ھوں پہرے لیکن
راز کہہ دیں گی یہ ویران سی ششدر آنکھیں

( مولانا کوثر نیازی)
 

فاروقی

معطل
نظر سے قتل کر ڈالو نہ دونوں کو تکلیف ہو
نہ تمہیں خنجر اٹھانے کی،نہ مجھے گردن جکانے کی
 

مغزل

محفلین
نظر اس کی زباں اس کی کسے میں معتبر سمجھوں
زباں کچھ اور کہتی ہے ، نظر کچھ اور کہتی ہے
 
Top