امن وسیم

محفلین
۔ صفحہ نمبر 4 کے موضوعات ۔

❔ سنت کی بنیاد
❔ سنت کا ماخذ
❔ سنت کا تواتر
❔ حدیث لکھنے کی ممانعت
❔ کیا کیا چیز سنت ہے
❔ جسے رسول صلی ٱللَّه علیہ وسلم سنت قرار نہ دیں
❔ زمانہ رسالت میں حدیث کی تحریر
❔ حدیث کی تعریف اور شرعی حیثیت
❔ روایت قابل قبول ہے
❔ روایت باللفظ نہیں تو قول رسول کیوں
❔ اکابر صحابہ اور جمع حدیث سے گریز
❔ کمزور روایات سے استدلال کی وجہ
❔ احادیث اور دین کے اجزاء
❔ قطعی احادیث کی تعداد
❔ احادیث میں نطق، حکمت اور ذکر کی وضاحت
❔ حدیث کی پہلی کتاب
__________________
 

امن وسیم

محفلین
❓ سنت کی بنیاد
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: ’نومولود کے دائیں کان میں اذان بائیں میں اقامت‘ کیسے سنت ہو گئی، جبکہ اس سے متعلق احادیث تو بہت ضعیف ہیں؟ (جنید احمد)

جواب: نومولود کے کان میں اذان و اقامت سے متعلق کوئی احادیث اگر موجود ہی نہ ہوتیں تب بھی یہ عمل اگر صحابہ کے اجماع اور تواتر سے بطور سنت ثابت ہوتا تو یہ سنت ہی قرار پاتا۔ احادیث کا کسی بھی عمل کو سنت قرار دینے میں کوئی لازمی کردار نہیں ہے۔ اگر ہمارا مجموعی علمی ذخیرہ کسی عمل کو سنت قرار دے رہا ہے اور اس بات کی کوئی مخالفت اس ریکارڈ میں کہیں بھی موجود نہیں ہے، یعنی سبھی علما، سبھی فقہا، سبھی مفسر غرض جس نے بھی (اپنی کسی کتاب وغیرہ میں) اس عمل پر بات کی ہے، اس نے اس کے سنت ہونے ہی کی بات کی ہے تو اب وہ سنت ہے، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے۔
اگر ہم آپ کی یہ بات مان لیں کہ جب احادیث کی کتب مرتب ہو گئیں تو اب وہ سنت کا ماخذ بن گئیں تو اس سے ایک مسئلہ یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ چیز جو پہلے یقینی ذریعۂ علم، یعنی تواتر پر کھڑی تھی، وہ کتب حدیث کے وجود میں آنے کے بعد ظنی ذریعۂ علم پر کھڑی ہو گئی اور اب اس میں غلطی ہونے کا احتمال پیدا ہو گیا، جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا اور دوسرا مسئلہ یہ کہ کتب حدیث کے وجود میں آنے کے بعد امت میں موجود وہ عملی تواتر کہاں گیا، جو کہ علم کا یقینی ذریعہ تھا۔ قولی یا عملی تواتر وہ ذریعۂ علم ہے جو ہمارے سامنے یقینی حقائق کو لاتا ہے، جبکہ خبر واحد ہمیں ظن غالب دیتی ہے اور بس۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جو کہ غامدی صاحب کی بیان کردہ اصطلاح کے مطابق سنت کے دائرے میں نہیں آتا، وہ زیادہ تر احادیث ہی کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے ہمیں یقین کے درجے کا علم حاصل نہیں ہوتا۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ سنت کا ماخذ
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: سنت کا ماخذ کیا ہے؟ کیا احادیث و آثار اور روایات ہی سنت کے مآخذ نہیں ہیں؟ (جنید احمد)

جواب: سنت کا ماخذ صحابہ کا اجماع اور عملی تواتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب صحابہ نے مجموعی طور پر بغیر کسی اختلاف کے فلاں فلاں عمل نبی کی جاری کردہ سنت کے طور پر امت کو دیا ہے، پھر ہر زمانے کے لوگوں نے مجموعی اتفاق سے وہی سب اعمال نبی کی جاری کردہ سنت کے طور پر اگلے زمانے کے لوگوں کو دیے ہیں۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فلاں فلاں عمل ہر زمانے کے لوگوں نے مجموعی اتفاق سے اگلے زمانے کے لوگوں کو دیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ان سب اعمال کے بارے امت کے مجموعی علمی ذخیرے (تاریخ، حدیث، تفسیر، فقہ ، مناظرے، علمی مباحثے ، وعظ و نصیحت کی کتب غرض ہر ہر جگہ) میں یہی بات لکھی ہوئی پاتے ہیں کہ یہ اعمال نبی کی جاری کردہ سنن ہیں اور ان کے بارے میں کسی ایک زمانے میں کسی ایک دن کے لیے بھی دو مختلف آرا نہیں رہیں، ہمیشہ سے (ہر زمانے کے) سبھی لوگ اس پر متفق رہے ہیں کہ یہ سب اعمال تو سنت ہی ہیں۔ یہ معاملہ نبی کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوا اور حیران کن بات ہے کہ آج بھی لوگ انھیں پورے تیقن کے ساتھ ایسا ہی سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح، جیسے وہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔
نبی کی وفات سے دو تین صدیاں بعد جب احادیث کی کتب بڑی تحقیق کے ساتھ مرتب ہوئیں اور جھوٹی احادیث کو صحیح سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ ان کتب میں ان اعمال کا ذکر نہ آتا، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان کتب حدیث میں بھی ان اعمال کا ذکر آ گیا جن اعمال پر یہ امت ان کتب کے وجود میں آنے سے پہلے ہی کھڑی تھی، بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ نبی کی وفات کے فوراً بعد سے لے کر اس وقت تک کھڑی تھی، جب یہ کتب وجود میں آ رہی تھیں۔ چنانچہ یہ اعمال اپنے وجود کے لیے ان کتب حدیث کے نہ اس وقت محتاج تھے اور نہ آج محتاج ہیں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓سنت کا تواتر

سوال: اس بات کا ثبوت کہ واقعی قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز، مثلاً وضو میں پاؤں کا دھونا وغیرہ متواتر ہیں، حالاں کہ پاکستان میں دس فیصد لوگ مسح کے قائل ہیں؟ (پرویز قادر)

جواب: نماز اور اس طرح کی متعدد مثالیں ہیں جو اجماع و تواتر سے امت میں جاری ہیں۔ آپ نے جو مثال دی ہے، وہ فقہی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم سے جو وضو بالاتفاق امت کو ملا ہے، اس میں پاؤں دھوئے جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک دین کے طور پر کسی جاری عمل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کا قطعی ہونا ضروری ہے۔ اس کا معیار یہ ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عمل کی نسبت میں مختلف نہ ہوں۔ بعد میں کسی فقہی اور تفسیری بحث کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات اس کی قطعی حیثیت کو متاثر نہیں کرتے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ حدیث لکھنے کی ممانعت

سوال: جس زمانے میں احادیث کی کتابت منع تھی، کیا اس زمانے میں احادیث دین نہیں ہوا کرتی تھیں؟ کیا اب اجازت عام ہے کہ کتابت احادیث کی جائے؟ (پرویز قادر)

جواب: اس زمانے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگوؤں میں دین ہی بیان کرتے ہوں گے۔ منع کرنے کی وجہ قرآن کی حفاظت ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا، پھر اس پابندی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ احادیث میں دین کا بیان ہونا ایک الگ امر ہے اور ان کا دین کا ماخذ ہونا ایک دوسری چیز ہے۔ چونکہ انھیں دین کے ماخذ کی حیثیت حاصل نہیں ہونا تھی، اس لیے ان کی حفاظت کی بھی ضرورت نہیں تھی۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ کیا کیا چیز سنت ہے؟

سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کون کون سے اعمال سنت میں شامل ہیں؟

جواب: اس سوال کے جواب میں "میزان" سے ایک اقتباس نقل کر رہا ہوں۔ اس میں ان چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کر دیا گیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت سنت جاری کی ہیں۔ اس فہرست کا مطالعہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ سنت کی تعریف کو ذہن میں رکھیں۔:

’’اِس (سنت) ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے ، وہ یہ ہے:

عبادات

۱۔ نماز۔
۲۔ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر۔
۳۔ روزہ و اعتکاف۔
۴۔ حج و عمرہ۔
۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔

معاشرت

۱۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات۔
۲۔ حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔

خور و نوش

۱۔ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت۔
۲۔اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔

رسوم و آداب

۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم‘ اور اُس کا جواب۔
۳۔ چھینک آنے پر ’الحمد للہ‘ اور اُس کے جواب میں ’یرحمک اللہ‘۔
۴۔ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت۔
۵۔ مونچھیں پست رکھنا۔
۶۔ زیر ناف کے بال کاٹنا۔
۷۔ بغل کے بال صاف کرنا۔
۸۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔
۹۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا۔
۱۰۔ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی۔
۱۱۔ استنجا۔
۱۲۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔
۱۳۔ غسل جنابت۔
۱۴۔ میت کا غسل۔
۱۵۔ تجہیز و تکفین۔
۱۶۔ تدفین۔
۱۷۔ عید الفطر۔
۱۸۔ عیدالاضحی۔‘‘

(میزان۱۴)


____________
 

امن وسیم

محفلین
❓جسے رسول اللہ سنت قرار نہ دیں

سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جس عمل کو خود سنت قرار نہ دیا ہو، اسے سنت کہنا جائز ہے؟

جواب: ظاہر ہے جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنت قرار نہ دیں، اسے کوئی اور کیسے سنت قرار دے سکتا ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ زمانۂ رسالت میں حدیث کی تحریر

سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کتنی حدیثیں لکھوائیں اور خلافت راشدہ کے دور میں کتنی لکھی گئیں؟

جواب: تفصیلی معلومات کے لیے آپ مولانا فہیم عثمانی صاحب کی کتاب ’’حفاظت و حجیت حدیث‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ مختصراً عرض ہے کہ تاریخ میں متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام آتے ہیں جن کے پاس لکھی ہوئی احادیث کا ذخیرہ موجود تھا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو لکھنے کی اجازت دی اور بعض لوگوں کی لکھ کر دینے کی فرمایش بھی پوری کی۔ بہر حال دور اول کی جو تصنیف اب بھی دستیاب ہے، وہ ’’موطا امام مالک‘‘ رحمہ اللہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصنیف بھی خلافت راشدہ کے بعد کے زمانے کی ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓حدیث کی تعریف اور اس کی شرعی حیثیت

سوال: حدیث کی تعریف کیا ہے، یعنی حدیث کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (غلام یاسین )

جواب:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے ، اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے ، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا ، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں ، وہ درحقیقت ، قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبو ل کیا جا سکتا ہے۔
اِس دائرے کے اندر ، البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے ۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔‘‘ (میزان ۱۵)


اس اقتباس میں ’’سنت‘‘ کا لفظ ایک خاص معنی میں استعمال ہوا ہے۔ دین کے مستقل بالذات اجزا میں سے کچھ قرآن مجید کی نص سے ماخوذ ہیں اور کچھ کا ماخذ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ سنت سے یہ دوسرا حصہ مراد ہے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہو سکتا ہے، لیکن یہ ذکر ابتدائی حکم کی حیثیت سے نہیں ہوتا، بلکہ ایک معلوم و معروف اور پہلے سے معمول بہ چیز کی حیثیت سے ہوتا ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓روایت قابل قبول ہے؟

سوال: کیا روایت کو بطور حدیث قبول کیا جا سکتا ہے؟

جواب: فن حدیث میں روایت ہی کو بطور حدیث قبول کیا جاتا ہے۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ راوی کے الفاظ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے تو آپ کی بات درست ہے، لیکن محدثین نے واضح، درست اور عملی وجوہ کے تحت اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ صرف وہی روایت قبول کی جائے گی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ روایت ہوئے ہوں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓روایت باللفظ نہیں تو قول رسول کیوں؟

سوال: حدیث کی موجود تمام کتابوں میں جو مضامین بیان کیے گئے ہیں کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ میں ہیں؟ اگر ہیں تو ثبوت؟ اگر نہیں تو انھیں حدیث کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب: کتب حدیث میں کچھ روایات کو چھوڑ کر تمام روایات، روایت بالمعنٰی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو راوی نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ حدیث کہنے کی وجہ یہ ہے کہ محدث کے نزدیک وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ جب کوئی فن مرتب ہو جاتا ہے تو اس کے بنیادی الفاظ اصطلاح کے طور پر استعمال ہو رہے ہوتے ہیں، ان کا لغوی مفہوم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓اکابر صحابہ اور جمع حدیث سے گریز

سوال: اکابر صحابہ نے احادیث کے نسخے کیوں جلائے، کیوں ضائع کیے؟ (محمد عارف جان)

جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس نوعیت کا ایک واقعہ کتب تاریخ میں نقل ہوا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پانچ سو روایات پر مشتمل ایک مجموعہ تیار کیا ہوا تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھا ہوا تھا۔ ایک رات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت بے چین ہیں۔ انھوں نے سبب پوچھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ نسخہ منگوایا اور اسے جلا دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا سبب پوچھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

خشیت ان اموت وہی عندی فیکون فیہا احادیث عن رجل قد ائتمنتہ ولم یکن کما حدثنی. فأکون قد نقلت ذاک فہذا لایصح.(اسد الغابہ ۳/ ۲۲۴)

’’مجھے اندیشہ ہوا کہ میں مرجاؤں اور یہ مجموعہ میرے ہاں موجود رہے۔ دراں حالیکہ اس میں ایسی روایات موجود ہیں جو میں نے تو اپنے اعتماد کے آدمی سے سنی ہیں، لیکن ممکن ہے بات اس طرح نہ ہو، جیسے اس نے مجھے بتائی ہے، جبکہ میں اسے نقل کرنے والا ہوں۔ یہ صورت معاملہ درست نہیں ہے۔‘‘


اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خصوصی حیثیت کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ غالباً انھوں نے سوچا ہو گا کہ میرے مرتب کردہ مجموعہ کی جو حیثیت بن جائے گی، وہ درست نہیں ہو گی ۔ جب اخبار آحاد کو قطعیت حاصل نہیں ہے تو کوئی ایسا عمل بھی موزوں نہیں ہو گا جو اسے قطعی یا قطعیت کے قریب کر دے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓کمزور روایات سے استدلال کی وجہ

سوال: اگر بخاری شریف اور مسلم شریف کی احادیث قطعی ہیں تو صحیح اور مرفوع احادیث سے تمام اختلافی مسائل کی صرف اور صرف ایک ہی صورت ثابت ہے ۔ دوسری متضاد صورت کے ثبوت کے لیے غیر صحیح، موقوف اور مقطوع احادیث سے استدلال کی کیا ضرورت ہے؟ (پرویز قادر)

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کے سوال میں جو دو بنیادی مقدمات بیان ہوئے ہیں، وہ مقدمات درست نہیں ہیں۔ پہلا یہ کہ بخاری اور مسلم کی تمام احادیث قطعی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان سے تمام اختلافی مسائل کا ایک ہی حل ملتا ہے۔ چنانچہ ان مقدمات کے نتیجے پر مبنی آپ کا سوال اصلاً کوئی بنیاد نہیں رکھتا۔ وہ لوگ جو احادیث کو بنیادی ماخذ کی حیثیت دیتے ہیں، وہ بھی اصولاً صحیح حدیث ہی کو اصل کی حیثیت دیتے ہیں۔ موقوف ،مقطوع اور ضعیف احادیث کو تائید کے طور پر ہی لایا جاتا ہے۔ البتہ عملاً اس سے انحراف بھی ہوتا ہے۔ اگر آپ ان لوگوں کی اس کوتاہی پر اپنے سوال میں تنقید کرنا چاہتے ہیں تو یہ تنقید ٹھیک ہے، لیکن یہ اصل بحث نہیں ہے۔
__________________
 

امن وسیم

محفلین
❓احادیث اور دین کے بعض اجزا

سوال: کیا پانچ نمازیں، وضو میں پاؤں دھونا، معجزات، تقدیر اور ارضی قبر کے عالم برزخ ہونے پر ایمان، وحی خفی کی رو سے واجب ہیں؟ کیا تجسیم باری تعالیٰ کی تاویل ہو گی؟ (پرویز قادر)

جواب: پہلی دونوں چیزوں کا ماخذ سنت متواترہ ہے۔ وضو میں اختلاف آیت قرآنی کی تاویل میں اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو میں پاؤں دھوتے تھے۔
معجزات اور تقدیر اللہ پر ایمان کے لوازم میں سے ہیں۔ حدیث میں جو معجزات بیان ہوئے ہیں، ان پر اگر سنداً کوئی اعتراض نہیں ہے تو ماننے میں کوئی استحالہ نہیں ہے۔ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی، موت، والدین، بہن بھائی اور اس طرح متعدد چیزیں جن میں ہماری سعی کا کوئی تعلق نہیں ہے، خود مقرر کر رکھی ہیں۔ اسے ماننا اللہ تعالیٰ کو خالق و مالک ماننے کا نتیجہ ہے۔ یہی بات احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے ۔ جن حدیثوں سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا نیک و بد ہونا بھی مقدر ہے تو وہ راویوں کے سوء فہم کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا قانون آزمایش اس تصور کی نفی کرنے کے لیے کافی ہے۔
ارضی قبر کو عالم برزخ قرار دینے کی وجہ حدیث نہیں ہے، حدیث کا فہم ہے۔ قبر کی تعبیر عالم برزخ کے لیے اختیار کرنا زبان کے عمومی استعمالات میں بالکل درست ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ قبر ہی عالم برزخ ہے، سخن نا شناسی ہے۔
مجھے نہیں معلوم کس روایت میں تجسیم باری تعالیٰ بیان ہوئی ہے۔ جس طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ اور چہرے کے الفاظ ہیں، اسی طرح عرش پر استوا کی تعبیر اختیار کی گئی ہے ۔ اسی طرح کی تعبیرات احادیث میں بھی ہیں۔ ان سے تجسیم کا نتیجہ نکالا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ الفاظ معنوی پہلو سے استعمال ہوئے ہیں۔ خود قرآن مجید ہی میں یہ بات بیان ہوگئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ اس ارشاد سے واضح ہے کہ اوپر مذکور تعبیرات ابلاغ مدعا کے لیے ہیں، ان کا لفظی اطلاق درست نہیں ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ قطعی احادیث کی تعداد

سوال: کل کتنی احادیث / سنن ہیں؟ کیا تمام ضرورت مند اور خواہش مند لوگوں تک من وعن (جس میں ذرہ بھر کمی بیشی کا شک نہ ہو ) مکمل اور قطعی حالت میں پہنچی ہیں؟ محفوظ سے کیا مراد ہے؟ (پرویز قادر)

جواب: ہمارے نزدیک احادیث اور سنن مترادف نہیں ہیں۔ احادیث کی اصطلاح اخبار آحاد کے لیے ہے اور سنت کی اصطلاح اجماع و تواتر سے پہنچنے والے دین کے مستقل بالذات اجزا کے لیے ہے۔ یہ دوسری چیز ہر مسلمان کو یقینی طریقے سے دستیاب ہے۔ اخبار آحاد کے بارے میں قطعیت کا دعویٰ ممکن نہیں ہے۔ البتہ یہ اطمینان حاصل ہو سکتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ بس جسے یہ اطمینان حاصل ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی اتباع کرے۔

____________
 

سید عمران

محفلین
❓ اردو میں تسبیحات
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: کیا ہم نماز کے دوران میں سجدے اور رکوع میں اردو میں تسبیحات کر سکتے ہیں، نیز کیا یہ ضروری ہے کہ سجدے میں ’سبحان ربی الاعلٰی‘ تین دفعہ ہی کہا جائے؟ (احسن خان)

جواب: رکوع اور سجدے میں اردو زبان میں دعائیں کی جا سکتی ہیں ۔
نماز میں اردو تو کیا انگریزی، فارسی، فرینچ دنیا کی کسی بھی زبان میں دعا مانگ سکتے ہیں۔۔۔
اس کے بعد دعا تو رہ جائے نماز نہیں!!!
 

امن وسیم

محفلین
❓احادیث میں نطق، حکمت اور ذکر کی وضاحت

سوال: اگر قرآن کے معنی اور مراد بتانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے تو قرآن کی سورتوں نجم، نمل، احزاب، بقرہ، آل عمران اور جمعہ میں نطق، ذکر اور حکمت کے معانی کس کس مرفوع حدیث سے ثابت ہیں؟ (پرویز قادر)

جواب: بنیادی بات تو یہ ہے کہ روایات میں قرآن مجید کے الفاظ کی شرح یا تفسیر کی بہت ہی کم چیزیں نقل ہوئی ہیں۔ جو الفاظ آپ نے لکھے ہیں، ان کے معنی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قول منقول نہیں ہے۔ ’’حکمت‘‘ کا لفظ حدیثوں میں دانائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہ اس کے معروف لغوی معنی ہیں۔ اسی طرح ’’نطق‘‘ اور ’’ذکر‘‘ کے حوالے سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تفسیری قول موجود نہیں ہے۔ حدیثوں میں یہ الفاظ بھی اپنے عام لغوی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان سے قرآن مجید کی محولہ آیات کے معنی طے کرنے میں براہ راست کوئی مدد نہیں ملتی، لیکن سوال یہ ہے کہ آپ احادیث سے یہ معنی کیوں معلوم کرنا چاہتے ہیں؟ یہ لفظ عربی زبان کے معروف الفاظ ہیں اور سیاق وسباق کی روشنی میں ان کا اطلاق بھی بآسانی واضح ہے۔ باقی رہے امت میں ان کے حوالے سے مباحث تو وہ قرآن میں کسی مشکل کی وجہ سے نہیں ہیں۔ حدیث کی اہمیت کی بحث میں یہ آیات بھی مدار استدلال بنی ہیں۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے معنی میں وہ پہلو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کافی بعید ہیں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ حدیث کی پہلی کتاب

سوال: حدیث کی پہلی کتاب کس نے لکھی،کس دور میں لکھی گئی اور اس کا ماخذ کیا تھا؟

جواب: دور اول کی تصنیفات میں سے ’’موطا امام مالک‘‘ رحمہ اللہ ہی دستیاب ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا سن وفات ۱۷۹ھ ہے۔ غرض یہ کہ یہ دوسری صدی ہجری کی تصنیف ہے۔ کتب حدیث کے ماخذ مختلف راوی ہوتے ہیں۔ بعض راوی ایسے بھی ہوتے تھے جن کے پاس احادیث لکھی ہوئی صورت میں بھی ہوتی تھیں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
نہیں، یہ درست نہیں ہے، کیونکہ نماز میں سورۂ فاتحہ اور قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کا حکم ہے۔ یہ دونوں عربی زبان میں ہیں۔ لہٰذا یہ چیزیں تو عربی ہی میں پڑھنی ہوں گی، کیونکہ ترجمۂ قرآن، قرآن نہیں ہوتا۔
البتہ، وہ اذکار اور دعائیں جو امام اور مقتدی اپنے اپنے طور پر پڑھتے ہیں، وہ ہماری راے کے مطابق اپنی زبان میں پڑھی جا سکتی ہیں۔
لہٰذا نماز عربی میں ہی پڑھی جائے گی۔ البتہ رکوع اور سجدہ میں کوئی دعا اپنی زبان میں کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں اور اگر خاموش رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔ رکوع اور سجدہ کی تسبیحات فرض اراکین میں شامل نہیں۔ اور یہ مفتی صاحب کی رائے ہے البتہ آپ اختلاف کر سکتے ہیں ۔ آپ کو حق حاصل ہے۔
 
Top