امن وسیم

محفلین
❓ آزمایش اور بلند مراتب

سوال: مفتی شفیع صاحب سورۂ انبیاء کی تفسیر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کے ذیل میں ایک روایت نقل کرتے ہیں: ’اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل‘۔ سوال یہ ہے کہ جس مومن پر سخت آزمایش نہیں آتی، اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہے۔ وضاحت فرمادیں۔ (وحدت یار)

جواب: اگر بڑی آزمایش یا سخت آزمایش کا مصداق صرف جسمانی تعذیب کو قرار دیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ بات زیر بحث آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ دعواے ایمان کو آزمایشوں سے گزارتے ہیں تاکہ دل کا کھوٹ یا ایمان کی کمزوری واضح ہو جائے اور کسی عذر کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ یہ آزمایشیں جسمانی بھی ہوتی ہیں اور نفسیاتی بھی، معاشی بھی ہوتی ہیں اور معاشرتی بھی۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف کے سفر میں بھی ایک ابتلا پیش آئی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگی تو وہ بھی ایک ابتلا تھی۔ اگر آزمایش کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو دونوں ایک ہی درجے کی ہیں۔ اسی طرح وہ آدمی جس کو غربت کی آزمایش نے ایمان کی بازی ہرا دی اور جہنم میں چلا گیا اور وہ آدمی جس کی دولت نے ایمان کی بازی ہرا دی اور وہ دوزخ میں چلا گیا ، آخرت کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو دونوں بڑی آزمایش سے گزرے۔ ہاں، دنیا میں ہمیں دھوکا ہوتا ہے کہ دولت والے پر کوئی آزمایش نہیں آئی۔
حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ قرآن مجید کے بیان کردہ اصول آزمایش کا بیان ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ایمان کو پرکھتے ہیں تو اسی سطح پر پرکھتے ہیں جس سطح کا دعویٰ ہے۔ ظاہر ہے انبیا جس سطح پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، اسی سطح کے مطابق ان پر امتحان بھی آتے ہیں اور وہ ان امتحانات سے سرخ رو ہو کر نکلتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے نیک لوگوں کا بھی ہے۔ جو ان امتحانات میں کامیاب ہو جاتے ہیں، انھیں یقیناً اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا، لیکن یہ بات قیامت کے دن ظاہر ہو گی۔ دنیا میں بڑی تکلیف کا آنا لازماً بلند مرتبہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ آزمایش کی حکمت

سوال: قرآن کریم اور احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر آزمایش آنا دو علتوں پر مبنی ہے: ایک، جب بندۂ مومن جادۂ حق سے انحراف کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو تنبیہ کی خاطر آزمایش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ دوسری جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی بندۂ مومن کا درجہ اونچا کرے تو اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے، جیسے انبیا علیہم السلام کا حال ہے۔ براہ کرم اس موضوع پر قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں خالصاً علمی بحث کریں۔ (وحدت یار)

جواب: آزمایش کے دو پہلو ہیں: ایک آزمایش یہ کہ ہم جس ایمان کے مدعی ہیں، اس کی حقیقت اچھی طرح متعین ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ دین پر عمل کرتے ہوئے تزکیۂ نفس کا جو سفر ہم نے شروع کیا ہے، وہ بھی تکمیل کو پہنچے۔ ہمارے اخلاق اور دین و ایمان پر استقامت ہر لمحہ معرض امتحان میں رہتے ہیں۔ جب جب آزمایش آتی ہے اور یہ صبر اور شکر دونوں پہلوؤں سے ہوتی ہے اور ہم اس میں کامیاب ہوتے رہتے ہیں تو یہ ہمارے ایمان میں ترقی کا زینہ بنتی چلی جاتی ہے۔ اس پہلو سے آپ کی بات درست ہے کہ مومن کے لیے بلند درجے کے حصول کا ذریعہ ہے۔ آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ بعض تکلیفیں غفلت سے بیداری کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کا اظہار بھی ہیں کہ انھوں نے گرتے ہوئے شخص کو سنبھلنے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے، لیکن آزمایش کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جن میں ایک دو امور کی طرف اشارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفر کے واقعات میں بھی ہوا ہے۔ بہرحال یہ بات واضح ہے کہ یہ دنیا آزمایش کے لیے ہے۔ اس میں امتحان اور اس کے لوازم کی حیثیت سے ترغیب و ترہیب کے مراحل بھی پیش آتے ہیں، لیکن ہر واقعے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ ہمارے ادراک کے لیے ممکن نہیں ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس سفر سے ایک یہ بات بھی واضح ہوتی ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ عورت کا نماز کا لباس
Talib Mohsin

سوال: میری بیوی اس خیال کے تحت کہ نماز کے لیے بازو کہنی تک ڈھانپنا کافی ہے، نماز پڑھتی رہی ہے۔ اسے کسی نے بتایا ہے کہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز میں کلائیاں بھی ڈھانپے۔ مجھے ان دونوں آرا کا استدلال معلوم نہیں ہے۔ ازراہ کرم رہنمائی فرمائیے؟ (عامر شہزاد)

جواب: فقہا کے نزدیک بحث کا انحصار ستر کے تعین پر ہے۔ نماز میں نمازی کے لیے ستر ڈھانپنا واجب ہے۔ عورت اور مرد کے ستر میں فرق ہے۔ عام طور پر فقہا کے نزدیک عورت کا ستر ہاتھ اور چہرہ چھوڑ کر باقی سارا جسم ہے۔ وہ قرآن مجید کی آیت ’وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ‘ (عورتیں اپنی زینتیں ظاہر نہ کریں سوائے ان کے جو آپ سے آپ ظاہر ہوں) سے استدلال کرتے ہیں۔ ’اِلَّا مَا ظَہَرَ‘ کا اطلاق ان کے نزدیک ہاتھوں اور چہرے پر ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ. (الاعراف۷: ۳۱)
’’ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے لباس پہنو۔‘‘


’’’خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ ‘میں زینت سے مراد لباس فاخرہ نہیں، بلکہ مجرد لباس ہے۔ لباس کو زینت کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہاں یہ ہے کہ طواف میں عریانی اختیار کرنے کا فلسفہ یہی تراشا گیا تھا کہ لباس زیب و زینت میں داخل ہے اور زیب و زینت اس عبادت کے شایان شان نہیں ہے۔ حج اور احرام میں فی الجملہ زہد و درویشی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد ہی سے چلی آرہی ہے اور یہ حج کی خصوصیات میں سے ہے، لیکن عربوں نے دور جاہلیت میں جہاں اور بہت سی بدعات ایجاد کیں، وہیں یہ بدعت بھی ایجاد کر ڈالی کہ احرام کی سادگی اور درویشی کو عورتوں اور مردوں سب کے لیے عریانی کے حد تک پہنچا دیا۔ قرآن نے یہ اسی بدعت کی اصلاح کی۔ فرمایا کہ یہ عریانی بے حیائی ہے۔ اپنے لباس ہر مسجد کی حاضری کے وقت پہنو۔ جس طرح کوئی مسجد غیراللہ کے لیے نہیں ہو سکتی، اسی طرح کوئی مسجد ایسی نہیں ہو سکتی جس کی حاضری کے لیے یہ شرط ٹھہرا لی جائے کہ آدمی وہاں کپڑے اتار کر حاضر ہو۔’ کُلِّ مَسْجِدٍ‘ فرما کر اس حکم کو عام کر دیا کہ حرم اور غیر حرم کی تخصیص نہ رہ جائے۔ یہ اس جوگ اور رہبانیت کی کلی نفی ہے جو عریانی کو تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔ ‘‘ (تدبر قرآن ۳/ ۲۵۱)


اس ہدایت سے معلوم ہوا کہ نماز میں لباس پہنا جائے گا۔ برہنا نماز ادا کرنا درست نہیں ہے، لیکن اس سے ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ یہ لباس کم از کم کتنا ہو۔ البتہ روایات میں اس سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ مردوں کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

عن ابی ہریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لا یصلی احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ منہ شیء. (مسلم، رقم ۲۹۹۵)

’’حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو۔‘‘


عورتوں کے ضمن میں آپ نے فرمایا:

عن عائشۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال:لا یقبل اللّٰہ صلٰوۃ حائض الا بخمار. (ابوداؤد، رقم۵۱۶)

’’حضرت عائشہ( رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دوپٹے کے بغیر بالغ عورت کی نماز قبول نہیں کرتے۔‘‘


اسی طرح آپ کا ارشاد ہے:

عن ام سلمۃ انہا سألت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أتصلی المرأۃ فی درع وخمار لیس علیہا إزار؟ قال: إذا کان الدرع سابغًا یغطی ظہور قدمیہا. (ابوداؤد، رقم۶۴۰)

’’حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت قمیص اور دوپٹے کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: صرف اس صورت میں جب لمبی قمیص نے پاؤں کی پشت کو ڈھانپا ہوا ہو۔‘‘


ان روایات سے وہ کم از کم اہتمام معلوم ہوتا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔

’’شایستہ اور مناسب لباس پہن کر نماز پڑھے۔‘‘(میزان ۳۲۶)


اس تفصیل سے واضح ہے کہ آپ کی اہلیہ کی نماز کے ادا ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے فقہا کا رجحان یہ ہے کہ جس لباس اور جس اخفاے زینت کا تقاضا اللہ تعالیٰ نے مردوں کے سامنے آنے پر کیا ہے، وہی اہتمام نماز میں بھی ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے، یہ بات لازم تو نہیں کی جا سکتی، لیکن اگر اس کا اہتمام کیا جائے تو یقیناً پسندیدہ ہو گا۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ بیوی کی امامت
Talib Mohsin

سوال: کیا ایک شوہر اپنی بیوی کو مقتدی بنا کر نماز پڑھا سکتا ہے، اس صورت میں بیوی کیسے کھڑی ہو گی؟ (عبدالرحمن)

جواب: اگر کسی وجہ سے آپ گھر میں نماز پڑھ رہے ہوں تو گھر والوں کو شریک کر کے نماز ادا کرنا اچھا عمل ہے۔ اگر عورت اکیلی بھی مقتدی ہو تو اسے امام کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ دو نمازیں کافی ہیں؟
Talib Mohsin

سوال: جعفر شاہ پھلواری کی کتاب ’’ریاض السنہ‘‘ میں ایک حدیث ہے کہ دو نمازیں بھی جو شخص پڑھ لے تو کافی ہیں۔ اس طرح کی دو تین اور بھی حدیثیں درج ہیں، ان احادیث کی حقیقت کیا ہے۔ جبکہ تمام مسلمانوں کا پانچ نمازوں پر اتفاق ہے۔ (محمد عارف جان)

جواب: میں نے ’’ریاض السنہ‘‘ کا متعلقہ حصہ دیکھا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصر اور فجر کی نماز کی طرف خصوصی توجہ دلانا مقصود ہے۔ اگر روایات کو اسی معنی میں سمجھا جائے تو یہ بات درست ہے، اس لیے کہ یہ دونوں نمازیں زیادہ غفلت کا شکار ہوتی ہیں۔ آپ نے روایات سے جو معنی اخذ کیے ہیں، الفاظ کی حد تک ان کی نفی کرنا ممکن نہیں، لیکن پانچ نمازیں جس قطعیت کے ساتھ ثابت ہیں اور ان کی فرضیت جس طرح ہر شک و شبہے سے بالا ہے، روایت کے یہ معنی قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم راوی کو قصور وار ٹھہرائیں کہ اس نے بات صحیح طریقے سے بیان نہیں کی۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ فجر کی قضا نماز
Talib Mohsin

سوال: فجر کی نماز طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے ادا کی جائے تو کیا مکمل ادا کرنی پڑتی ہے؟ کیا یہ قضا ہوتی ہے؟ (محمد کامران مرزا)

جواب: اس کی دوصورتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ آدمی کی آنکھ ہی اس وقت کھلی ہے جب سورج طلوع ہو چکا ہے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی امید ہے کہ یہ نماز ’’ادا نماز‘‘ قرار پائے گی۔ دوسری یہ کہ نماز سستی اور غفلت کی وجہ سے رہ گئی۔ اس صورت میں یہ نماز قضا ہوگی۔ مکمل نماز سے غالباً آپ کی مراد دو سنت اوردو فرض، یعنی چار رکعت پڑھنا ہے۔ دو سنت اصل میں نفل نماز ہے اور احناف اسے سنت اس لیے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نفل ہمیشہ پڑھے ہیں۔ بہرحال ان کا پڑھنا دونوں صورتوں میں لازم نہیں ہے، لیکن ان کی ادائی کا اجر بہت زیادہ ہے، اس لیے دونوں صورتوں ہی میں اسے پڑھنا افضل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھی یہی ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ ماضی کی قضا نمازیں
Talib Mohsin

سوال: میں گذشتہ چار سال سے پانچ وقت کا نمازی ہوں۔ اس سے پہلے غافل تھا۔ ہزاروں نمازیں قضا ہو گئیں۔ کیا ان کا پڑھنا ضروری ہے؟(محمد کامران مرزا)

جواب: اس معاملے میں اہل علم کی دو آرا ہیں: ایک یہ کہ یہ قضا نمازیں ادا کرنی چاہییں۔ دوسری یہ کہ اس کوتاہی پر خدا سے توبہ کرنی چاہیے۔ آیندہ نمازوں کی پابندی میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے اور اگر کوئی کوتاہی ہو جائے تو اس کا فوراً ازالہ کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک بہتر یہی ہے کہ ایک اندازہ قائم کرکے قضا نمازیں پڑھ لینی چاہییں۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مشورہ یہ ہے کہ سنن کی جگہ اگر یہ نمازیں پڑھ لی جائیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کا اجر ادا کر دیں گے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ کرسی پر نماز
Talib Mohsin

سوال: کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کیا سجدے کے لیے اتنا کافی ہے کہ آدمی تھوڑا سا جھک جائے یا کوئی سرہانا یا سخت چیز رکھ کر اس پر باقاعدہ سر رکھنا چاہیے؟ (سعد فاروق)

جواب: نماز کی اصل ہیئت کے جس قدر قریب ہوں، اتنا ہی اچھا ہے۔ بیماری اور تکلیف میں رخصت کا مطلب صرف یہ ہے کہ نماز کے وقت پر ہر حال میں نماز پڑھی جائے اور کسی مجبوری کو اس راہ میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ ہیئت میں رخصت کتنی ہے، یہ بات طے نہیں کی گئی۔ نمازی کی معذوری، حالات اور مزاج کے فرق کی وجہ سے یہ اسی پر چھوڑنا بہتر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ آپ والی مثال لے لیں کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا کہاں ہے۔ گھر میں ہے؟ مسجد میں ہے؟ سفر میں ہے؟ کسی کے ہاں مہمان ہے؟ کتنا جھک سکتا ہے؟ کرسی کون سی دستیاب ہے؟ مراد یہ ہے کہ ہر ہیئت اور حالات میں نماز کی اصل ہیئت سے قربت کی صورت بدل جائے گی۔ چنانچہ نمازی، اس کی بیماری اور دستیاب حالات، تینوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ ہو گا کہ نماز ادا کرنے کی بہتر صورت کیا ہوگی۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ ایک وتر کا جواز
Talib Mohsin

سوال: بعض لوگ عشا کی نماز میں ایک وتر بھی پڑھ لیتے ہیں۔ کیا ایک وتر بھی پڑھا جا سکتا ہے؟ (محمد کامران مرزا)

جواب: ایک وتر پڑھنے کا نقطۂ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ماخوذ نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے فہم پر مبنی ہے۔ بعض روایات میں ’اوتر بواحدۃ‘ (ایک سے طاق کر لو) کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ایک رکعت پڑھ لو، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے تو ایک وتر پڑھنا حدیث سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کو طاق پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کسی نماز کو طاق کرنے کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ دو کو تین کیا جائے۔ امام مالک نے یہی راے دی ہے کہ یہ نماز کم از کم تین رکعت ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ باجماعت نماز میں غفلت
Talib Mohsin

سوال: باجماعت نماز،بلا شبہ افضل نماز ہے، لیکن بعض اوقات دل افسردہ ہوتا ہے۔ کبھی شدید گرمی یا سردی، کبھی کیبل پر کوئی سنسنی خیز پروگرام دیکھ رہا ہوتا ہوں، کبھی مہمانوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوتا ہوں تو اس قسم کے حالات میں مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بجاے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔ کیا ایسی نماز کا وبال ہوتا ہے؟ ایسی نماز قبول نہیں ہوتی؟ قرآن میں ارشاد ہے: ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ (محمد کامران مرزا)

جواب: باجماعت نماز اور مسجد کی حاضری نماز کے اجر کو بڑھانے والی چیز ہیں۔ اس میں کوتاہی نماز کے اجر کو کم کرنے والی چیز ہے۔ جس طرح کی مصروفیات آپ کو نماز باجماعت سے محروم کر دیتی ہیں، انھی سے پیچھا چھڑا کر جماعت میں شریک ہونا وہ مجاہدہ ہے جو ازدیاد اجر کا باعث ہے، اس لیے کوشش یہی کرنی چاہیے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انفرادی نماز قبول نہیں ہوتی۔ البتہ آدمی اجر کے ایک بڑے حصے سے محروم ضرور ہو جاتا ہے۔ نماز سے غفلت جو وبال کا باعث بنے گی یا نماز کی عدم قبولیت کی وجہ بن سکتی ہے، وہ نماز کو بے وقت پڑھناہے۔ سورۂ ماعون میں یہی غفلت مراد ہے، یعنی نماز میں اہتمام اور خوبی کے پہلو کا نہ ہونا اور ان اخلاق کی عدم موجودگی جو ایک نمازی میں ہونے چاہییں۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ظہر کی نماز کا وقت
Talib Mohsin

سوال: عام طور پر یہ راے دی جاتی ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت نماز عصر تک رہتا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایک مثل کے بعد ظہر قضا ہو جاتی ہے۔ آپ کی راے کیا ہے؟ (علاء الدین دوسانی)

جواب: اصولاً، یہ بات واضح رہے کہ ظہر کی نماز کے وقت کے تعین میں فقہا میں بھی اختلاف ہے۔ ابن رشد نے لکھا ہے:

’’نماز ظہر کے آخری توسیع شدہ وقت کے بارے میں امام مالک، امام شافعی، امام ابوثور اور امام داؤدکاقول ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے اور امام ابوحنیفہ کی ایک روایت کے مطابق ہر چیز کا سایہ اس کے دومثل کے برابر ہو جائے۔ یہ وقت ان کے نزدیک عصر کا اول وقت ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے اور جب سایہ دو مثل ہو جائے تو یہ نماز عصر کا اول وقت ہے اور ایک مثل اور دو مثل کے درمیان جو وقت ہے، وہ نماز ظہر کے لیے موزوں نہیں ہے۔صاحبین امام ابویوسف اور امام محمد کا بھی یہی مسلک ہے۔‘‘ (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد، ابن رشد، ترجمہ: ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی ۱۵۶۔۱۵۷)

اختلاف کی وجہ روایات ہیں۔ حدیث میں جبریل کی امامت کے سلسلے میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے پہلے دن سورج کے جھکنے پر ظہر کی نماز پڑھائی۔ اگلے دن اس وقت نماز پڑھائی جب سایہ ایک مثل تھا۔ پھر یہ بتایا کہ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔
دوسری روایت میں امتوں کی کارکردگی اور ان کی مزدوری بیان ہوئی ہے۔ اہل تورات نصف النہار کے وقت تھک گئے۔ انھیں ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی۔ پھر اہل انجیل آئے اورعصر کے وقت تھک گئے ۔ انھیں بھی ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی۔ پھر ہمیں قرآن عطا کیا گیا اور ہم نے غروب آفتاب تک کام کیا۔ ہمیں دو دو قیراط مزدوری دی گئی۔ اہل کتاب نے شکایت کی: اے ہمارے رب، آپ نے ان کو دوقیراط دیے، جبکہ ہم نے زیادہ کام کیا تھا۔ اللہ نے پوچھا: کیا میں نے تمھارے اجر میں کمی کی ہے۔ انھوں نے کہا: نہیں، تب اللہ نے کہا: یہ میرا فضل ہے۔
امام مالک اور امام شافعی کا مدار امامت جبریل والی روایت پر ہے۔ امام ابوحنیفہ دوسری روایت سے استشہاد کرتے ہیں کہ عصر کے وقت کا آغاز ایک مثل سائے سے شروع نہیں ہوتا۔

’’نماز مسلمانوں پرِ شب وروز میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں:
فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔‘‘ (میزان ۳۰۸)


اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے اوقات نماز کے وقت کے نام کے معنی ہی سے واضح ہیں۔ مراد یہ ہے کہ فجر کا لفظ جس وقت کے لیے بولا جاتا ہے، وہی وقت اس نماز کا وقت ہے اور اسی طرح باقی نمازوں کے اوقات بھی لفظ کے اطلاق سے واضح ہیں۔

’’صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہوجائے تو یہ فجر ہے۔
ظہر سورج کے نصف النہار سے ڈھلنے کا وقت ہے۔
سورج مرأی العین سے نیچے آجائے تو یہ عصر ہے۔
سورج کے غروب ہوجانے کا وقت مغرب ہے۔
شفق کی سرخی ختم ہوجائے تو یہ عشا ہے۔
فجر کا وقت طلوع آفتاب تک ؛ ظہر کا عصر، عصرکا مغرب، مغرب کا عشا اور عشا کا وقت آدھی رات تک ہے۔‘‘ (میزان۳۰۸)

مرأی العین سے یہاں مراد یہ ہے کہ اگر آپ مغرب کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں اور سر اٹھائے بغیر افق کی طرف دیکھیں تو آپ کی نگاہ کا محیط مرأی العین ہے۔
ہماری اس راے کا انحصار کسی روایت پر نہیں ہے، بلکہ نماز کے اوقات کے حوالے سے امت کے اجماع اور عملی تواتر پر ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ جرمنی میں نماز
Talib Mohsin

سوال: میرے شوہر جرمنی میں ہیں۔ وہ عشا کی نماز مغرب کے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد پڑھ لیتے ہیں، اس لیے کہ وہاں رات چھوٹی ہے اور اگر وہ تاخیر سے پڑھیں تو ان کی نیند کم رہ جاتی ہے۔ میں نے انھیں تجویز کیا کہ وہ مغرب پڑھ کر سو جائیں اور فجر سے پہلے عشاپڑھ لیں، لیکن اس پر انھیں اطمینان نہیں ہے۔ (بیگم مائدہ نوید)

جواب: عشا کی نماز کا وقت شفق کی سرخی ختم ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آدھی رات تک رہتا ہے۔ آدھی رات کے بعد عشا کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ بہتر آپشن وہی ہے جو آپ کے شوہر نے اختیار کیا ہوا ہے۔ عشا کی نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لی جائے۔ اگر انھیں جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ عشا کو مغرب کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں۔ اسے فجر کے ساتھ جمع کرنا مناسب نہیں ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ نماز میں رفع یدین
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ نماز میں رفع یدین کرنا ضروری ہے یا اس کی صرف اجازت ہے، یعنی جو کرنا چاہے ،وہ کر سکتا ہے؟ (تنزیل نیازی)

جواب: نماز پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو مسلمانوں کی مساجد میں رائج ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
جہاں تک رفع یدین کا تعلق ہے جس پر مسلک اہل حدیث کے افراد بہت زور دیتے ہیں تو بے شک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، لیکن وہ نماز کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ آدمی اسے اختیار کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ پابند صلوٰۃ راشی
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: اس شخص کے بارے میں دین کیا کہتا ہے جو پنج وقتہ نماز ادا کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ رشوت بھی لیتا اور دھوکا بھی دیتا ہے۔ (راجہ عبدالرحمن میمن)

جواب: حرام رزق کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے، وہ اللہ کے ہاں مقبولیت نہیں پاتی، لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ انسان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جس عمل کے ساتھ بھی دل کی گہرائی کے ساتھ چپکا ہو، وہی عمل بالآخر دوسرے اعمال پر غلبہ پا لیتا ہے۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس وقت اس شخص کی نماز سچے عابد کی نماز نہیں ہے، کیونکہ خدا کا سچا بندہ اپنے دل سے خدا کا فرماں بردار بھی ہوتا ہے، لیکن اگر یہ شخص اپنے جرائم کو آج یا آیندہ کسی وقت دل سے ناگوار جانتا، خود کو غلط قرار دیتا اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا رہتا ہے، گو یہ ابھی ان سے باز نہیں بھی آ رہا تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی نماز اس کی بد اعمالیوں پر غلبہ پا لے، یہ توبہ کر لے اور اپنے اچھے انجام کو پہنچے۔ البتہ، اگر معاملہ برعکس ہوا تو پھر توقع بھی برعکس ہی کی ہے، کیونکہ ارشاد باری ہے:

’’البتہ جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ (البقرہ۲: ۸۱)

یعنی انسان خواہ کیسا ہی نمازی یا روزے رکھنے اور حج کرنے والا کیوں نہ ہو، اگر اس نے کسی ایک برائی کو سچے دل کے ساتھ اس طرح سے چمٹ کر اختیار کر لیا کہ وہ برائی اس پر چھا گئی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو اب اس کی سب نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور وہ جہنم میں جائے گا۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ نمازوں کی قضا
Talib Mohsin

سوال: جو نمازیں رہ گئی ہیں، ان کو ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اگر فجر کی نماز ادا کرنا بھول گئے ہوں تو جب یاد آجائے ادا کر سکتے ہیں، اسی دن، اگلے دن، اگلے ہفتے یا جب موقع ملے؟ (بیگم مائدہ نوید)

جواب: غفلت اور کوتاہی کے سبب رہ جانے والی نمازوں کی قضا ہر آدمی اپنی سہولت کے مطابق کر سکتا ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ رہ جانے والی نمازوں کا اندازہ لگا کر ہر نماز کے ساتھ قضا نماز بھی پڑھی جائے، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پوری ہو جائے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بعض فقہا کے نزدیک بھول، نیند، بے ہوشی یا ہنگامی صورت حال کی وجہ سے رہ جانے والی نماز ہی کی قضا ہوتی ہے۔ جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازوں پر صرف توبہ ہی کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں، بعض لوگ رمضان میں جمعۃ الوداع کے دن تمام نمازوں کو بہ یک وقت قضاے عمری کی نیت سے پڑھتے ہیں، یہ تصور خود ساختہ ہے۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ باقی رہا، کسی غیر ارادی سبب سے نماز چھوٹ جانا تو اس کی قضا یاد آنے پر، موقع ملنے پر، اگلی نماز کے ساتھ، اگلے دن کسی بھی طریقے سے ادا کی جا سکتی ہے۔ فجر کی نماز کا بھی یہی معاملہ ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ رکعتوں کی تعداد
Talib Mohsin

سوال: مغرب کی رکعتوں کا کیا ثبوت ہے؟ کیا چار پڑھنے والا گناہ گار ہو گا؟ کیا دو بھی غیر مناسب ہیں؟ (پرویز قادر )

جواب: رکعتوں کی تعداد کا ماخذ سنت ہے۔ یہ تعداد ہر شک وشبہ سے بالا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام امت ہر زمانے میں رکعتوں کی اس تعداد پر متفق ہے اور اس بات میں شک کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس نماز کی کتنی رکعتیں مقرر کی تھیں۔ جب کسی دینی عمل کی کوئی شکل مقرر کر دی گئی ہو تو اس میں تبدیلی نافرمانی قرار پائے گی اور یہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ لہٰذا خواہ رکعت کم کی جائے یا زیادہ، نافرمانی ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ قبلۂ اول
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: کیا بیت المقدس ہمارا پہلا قبلہ ہے یا خانہ کعبہ ہی شروع سے مسلمانوں کا قبلہ رہا ہے؟ (آصف بن خلیل و قمر اقبال)

جواب: قرآن مجید کی درج ذیل آیات میں تحویل قبلہ کا یہ حکم بیان ہوا ہے۔ارشاد باری ہے:

سَیَقُوْلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَا قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ. وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلاَّ عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِلَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ. قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ.(البقرہ۲: ۱۴۲۔۱۴۴)
’’(ابراہیم کی بنائی ہوئی مسجد کو ، اے پیغمبر ،ہم نے تمھارے لیے قبلہ ٹھیرانے کا فیصلہ کیا ہے تو) اب اِن لوگوں میں سے جو احمق ہیں ، وہ کہیں گے : اِنھیں کس چیز نے اُس قبلے سے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے؟ اِ ن سے کہہ دو : مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں ، وہ جس کو چاہتا ہے، (اِن تعصبات سے نکال کر) سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ۔ (ہم نے یہی کیا ہے ) اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے) اِسی طرح تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (دین کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے۔ اور اِس سے پہلے جس قبلے پر تم تھے ، اُسے تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے ٹھیرایا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک بھاری بات تھی، مگر اُن کے لیے نہیں ، جنھیں اللہ ہدایت سے بہرہ یاب کرے۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ (اِس طرح کی آزمایش سے وہ) تمھارے ایمان کو ضائع کرنا چاہے۔ اللہ تو لوگوں کے لیے بڑا مہربان ہے، سراسر رحمت ۔تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے رہے ہیں۔ (اے پیغمبر) ، سو ہم نے فیصلہ کر لیا کہ تمھیں اُس قبلے کی طرف پھیر دیں جو تم کو پسند ہے۔ لہٰذا اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور جہاں کہیں بھی ہو، (نماز میں) اپنا رخ اُسی کی طرف کرو۔ یہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی تھی ، جانتے ہیں کہ اُن کے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے اور (اِس کے باوجود) جو کچھ یہ کر رہے ہیں ، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

ان آیات کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، البتہ آپ اس بات کا اہتمام ضرور کرتے تھے کہ آپ اس رخ پر کھڑے ہوں جس پر خانہ کعبہ اور بیت المقدس دو نوں ہی قبلے آپ کے سامنے آ جائیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک اہل کتاب سے مختلف کوئی طریقہ اختیار نہ کیا کرتے تھے، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس کا حکم یا اس کی اجازت نہ مل جاتی تھی۔
پھر جب آپ مدینہ میں آئے تو وہاں دونوں قبلوں کو بیک وقت سامنے رکھنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا، آپ نے اپنے اصول کے مطابق بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی، لیکن آپ کا جی یہ چاہتا تھا کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں۔ پھر جیسا کہ درج بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے، کچھ ہی عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دے دیا کہ آپ کعبہ ہی کواپنا قبلہ بنائیں۔
چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مدینے میں مسلمانوں نے پہلے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایا تھا۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ دیہی مسجد کا انتظام
Talib Mohsin

سوال: ایک مسجد جس کے وسائل کچھ وقف زمین اور علاقے کے ٹھیکے پر کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں پر منحصر ہیں، نائب ناظم کی بے جا مداخلت کا شکار ہے۔ نائب ناظم جو صرف عید کی نماز پڑھنے تک مسجد سے عملی تعلق رکھتا ہے، مسجد کے حوالے سے اپنی مرضی چلاتا ہے۔ مسجد کے دو مولوی صاحبان اس کی بدتمیزی کے باعث مسجد چھوڑ کر جا چکے ہیں۔علاقے کے لوگ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ناظم سے ٹکر لے سکیں، اس صورت حال کا دینی حل کیا ہے؟ مزید براں یہ بھی بتائیے کہ کیا یہ مسجد محکمہ اوقاف کے حوالے کی جا سکتی ہے؟ (افضال احسن)

جواب: ہمارے ملک میں مساجد بالعموم محلے کے زیر انتظام چل رہی ہیں۔ اصولاً جمعہ اور عیدین کی نماز کا اہتمام حکومت کو کرنا چاہیے اور علاقے کے حاکم یا اسی کے مقرر کردہ امام کو امامت کرانی چاہیے۔ آپ کے مسئلے کا دینی حل یہی ہے، لیکن اس اصول پر مسئلہ حل ہو جائے، اس کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے۔ لہٰذا مسئلہ حل کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ کوئی اچھی حکمت عملی اختیار کی جائے۔
دیہی علاقوں میں صورت حال، جیسا کہ آپ کے علاقے کی مثال سے بھی واضح ہے، کافی پیچیدہ ہوتی ہے۔ وہاں لوگ علاقے کے بااثر لوگوں کی گرفت میں ہوتے ہیں اور انھیں بڑے شہروں کے رہنے والے لوگوں کی طرح فیصلے کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ اگر یہ با اثر لوگ نیک اور خوش اخلاق ہوں تو لوگ اطمینان سے رہ لیتے ہیں۔ دوسری صورت میں تکلیف دہ حالات سے دوچار رہتے ہیں۔
پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اس صورت حال کو مان کر سوچنا چاہیے۔ وہ خارجی حالات جن کو تبدیل کرنے میں بہت سی دشواریاں حائل ہوں اور جن سے ٹکرانے کے نتیجے میں مشکلات بڑھ تو سکتی ہوں، ان کے دور ہونے کا کوئی امکان نہ ہو، ان سے معاملہ حکمت اور دانش سے کرنا چاہیے۔
میری تجویز یہ ہے کہ مسجد کے انتظام کو پہلے مرحلے میں ایک کمیٹی کے سپرد کرنا چاہیے۔ یہ کمیٹی ایسے لوگوں پر مشتمل ہو جو نائب ناظم یا علاقے کے موثر لوگوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملہ کر سکتے ہوں۔ یہ کمیٹی کسی جھگڑے کو مول لیے بغیر آہستہ آہستہ علاقے کے با اثر لوگوں سے فیصلے کرنے کا حق منوا لے۔ شروع میں اگر اس طرح کا کوئی بڑا آدمی کمیٹی میں شامل ہو تو منزل جلدی حاصل ہو سکتی ہے۔
اس معاملے میں مولوی صاحب کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر کوئی ایسا آدمی امام صاحب کی حیثیت سے میسر ہو جائے جسے اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کا تجربہ ہو اور وہ اپنے اخلاق و کردار اور علم سے ان کے دل میں اپنا احترام پیدا کر لے تو اس طرح کی ناگوار صورت حال کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
محکمہ اوقاف کے حوالے سے مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو محکمہ اوقاف سے رابطہ کرنا چاہیے اور ان کے قواعد وضوابط معلوم کرکے آپ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ مسجد اس محکمے کے زیر انتظام آجائے۔ علاقے کے با اثر لوگ اس کے بعد مداخلت سے باز آجائیں گے، اس کا امکان مجھے کم ہی نظر آتا ہے۔

____________
 

امن وسیم

محفلین
❓ رفع یدین کا ثبوت

*سوال* : نماز میں رفع یدین کے بارے میں آپ کا کیا نقطہء نظر ہے؟ بعض لوگوں کے نزدیک یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اورقرآن مجید میں بھی اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہے، وضاحت فرما دیجیے

*جواب* : میرے نزدیک صرف وہی چیزیں سنت کی حیثیت رکھتی ہیں جو صحابہء کرام کے اجماع سے ہم تک منتقل ہوئی ہیں۔ ہم انھی چیزوں پر اصرار کر سکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگوں کو توجہ بھی دلا سکتے ہیں۔ جن امور میں صحابہء کرام کا اجماع نہیں ہے ، انھیں نہ سنت کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ ان پر عمل کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق رفع یدین بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن پر صحابہ کا اجماع نہیں ہو سکا، اس وجہ سے میں اسے سنت نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد چاہے ساری دنیا متفق ہو کر اسے سنت قرار دینے لگے تو میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔
 

امن وسیم

محفلین
❓نماز میں طہارت کا قائم نہ رہنا
Rafi Mufti سوال و جواب

سوال: بواسیر کی بیماری کی وجہ سے کپڑے خراب ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ نماز پڑھنے کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسے پڑھی جائے؟ (محمد عامر شہزاد)

جواب: ہر نماز کے موقع پر استنجا کریں، کپڑے کے ناپاک حصے دھو لیں، وضو کریں اور نماز پڑھیں۔ دوران نماز بیماری کی وجہ سے اگر کچھ خرابی ہو تو اس کی پروا نہ کریں اور نماز مکمل کریں۔

____________
 
Top