حالاتِ حاضرہ کی کہانی، شعروں کی زبانی

فہد اشرف

محفلین
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
افتخار عارف
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
آج کل لہور شہر کا یہ عالم ہے۔۔۔

وہاں ہیں ہم جہاں بیدمؔ نہ ویرانہ نہ بستی ہے
نہ پابندی نہ آزادی نہ ہشیاری نہ مستی ہے
 

عبد الرحمن

لائبریرین
تغیرت البلاد ومن علیھا
و وجہ الارض مغیر قبیح
تغیر کل ذی طعم و لون
و قل بشاشۃ الوجہ الملیح

منثور ترجمہ:

شہر بدل گیا اور اس کے رہنے والے بھی بدل گئے۔
اور زمین بد صورت اور گرد آلود ہو گئی۔
ہر مزہ دار اور رنگ دار چیز بدل گئی۔
اور خوب صورت چہرے کی بشاشت ماند پڑ گئی۔

 

ٹرومین

محفلین
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے یہاں فاصلے سے ملا کرو
 

جاسمن

مدیر
بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا ہے
موت سے آنکھ ملانے کی ضرورت کیا ہے
سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا ہے قاتل
یونیہی قاتل سے الجھنے کی ضرورت کیا ہے
دل کے بہلانے کو گھر میں ہی وجہ کافی ہے
یونہی گلیوں میں بھٹکنے کی ضرورت کیا ہے
ایک نعمت ہے زندگی، اسے سنبھال کے رکھ
قبرستان کو سجانے کی ضرورت کیا ہے
گلزار

(آخری شعر کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا)
 
بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا ہے
موت سے آنکھ ملانے کی ضرورت کیا ہے
سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا ہے قاتل
یونیہی قاتل سے الجھنے کی ضرورت کیا ہے
دل کے بہلانے کو گھر میں ہی وجہ کافی ہے
یونہی گلیوں میں بھٹکنے کی ضرورت کیا ہے
ایک نعمت ہے زندگی، اسے سنبھال کے رکھ
قبرستان کو سجانے کی ضرورت کیا ہے

(آخری شعر کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا)
گلزار؟
 

جاسمن

مدیر
اپنے گھر کے , در و دیوار سے , ڈر لگتا ہے
گھر کے باہر , تیرے گلزار سے , ڈر لگتا ھے

فاصلے بن گئے , تکمیلِ محبت , کا سبّب
وصلِ جانآں سے , رُخِ یار سے , ڈر لگتا ھے

اُسکی یادوں سے ھی تسکینِ تصور کر لوں
اب مجھے , محفلِ دلدار سے , ڈر لگتا ھے

سارے تبدیل ہوئے , مہر و وفا کے دستور
چاہنے والوں کے , اب پیار سے ڈر لگتا ھے

خوشبٔووں, لذّتوں, رنگوں میں خوف پنہاں ھے
برّگ سے , پھول سے, اشجار سے ڈر لگتا ھے

تھی کسی دور علیلوں کی عیادت واجب
لیکن اب , قربتِ بیمار سے , ڈر لگتا ھے

جنکی آمد کو سمجھتے تھے خدا کی رحمت
ایسے مہمانوں کے , آثار سے , ڈر لگتا ھے

اب تو لگتا ھے, میرا ہاتھ بھی اپنا نہ رہا
اس لئے , ہاتھ کی تلوار , سے ڈر لگتا ھے

تن کےکپڑے بھی عدّو, پیر کے جُوتے دشمن
سر پہ پہنے ہوئی , دَستار سے ڈر لگتا ھے

جو گلے مل لے میری جان کا دشمن ٹھہرے
اب , ہر اک , یارِ وفادار سے , ڈر لگتا ھے

ایک نادِیدہ سی ہستِی نے جھنجوڑا ایسے
خلق کو , گنبد و مِینار , سے ڈر لگتا ھے

بن کے یاجوج , ماجوج نمودار ہوا , چاروں اور
اِس کی اسی, رفتار سے, ڈر لگتا ھے

عین ممکن ھے یہاں سب ہوں کورونا آلود
شہر کے. کُوچہ و باز٘ار سے ڈر لگتا ھے

خوف آتا ھے ٹی وی چینل دیکھ کر
ہر رسالے سے , ہر اخبار سے , ڈر لگتا ھے

اب تو اپنوں سے مصافحہ بھی پُرخطر ھے جناب
یوں نہیں ھےکہ فقَط اغیّار سے, ڈر لگتا ھے
 

جاسمن

مدیر
اجنبی سی شہر کی آب و ہوا ہے، تخلیہ
زرد پتوں کا ہوا کو مشورہ ہے، تخلیہ

پہلے ہی اس شہر میں افسردگی کچھ کم نہ تھی
اس نے بھی اب گھر سے باہر لکھ دیا، تخلیہ
 
Top