حالاتِ حاضرہ کی کہانی، شعروں کی زبانی

شمشاد خان

محفلین
Mask-2.jpg
 

جاسمن

مدیر
عجب سی دل میں ہے کَسک
کہ اب کے روزِ عید پر
نہ دوستوں کی محفلیں
نہ دِلبروں سے مجلسیں
مِٹھائیاں نہ خُورمے
نہ قہقے نہ رَتجگے
کہ حُکم ہے غَنیم کا
اطاعتِ وَبا کرو
دُبک کے اپنے گھر رہو
نہ اَب کے تم گَلے ملو
سلام دور سے کرو
نئِی یہ رِیت پڑ گئی
کہ دستِ یار مَس نہ ہو
مِلاپ میں لَمس نہ ہو
جہاں پہ ہو وہیں رہو
ذرا بھی ٹَس سے مَس نہ ہو

سبھی طبیب شہر کے
سبھی خطیب شہر کے
تمام امیر شہر کے
بَجُز غریب شہر کے
ہیں مُتّفِق بِلا فَصل
کہ نا گُزیر ہو گیا
معاشرے میں فاصلہ
کلام میں بھی فاصلہ
سلام میں بھی فاصلہ
دِل و نظر کے بَین بَین
گُداز میں بھی فاصلہ
سِتم ظَریفی دیکھیے
کہ مفتیانِ شہر نے بھی
کہہ دیا ہے بَرمَلا
کہ اِن دنوں میں ہے رَوا
نماز میں بھی فاصلہ

خُدائےِ ہر بُلند و پَست
قسم تیری خدائی کی
جلالِ کبریائی کی
کہ ہم میں ہے کہاں سَکت
بَجُز تیری نیاز کے
کہ اس بَلا سے بچ سکیں
ہے واسطہ تُجھے تیری
کریمئیِ صِفات کا
وسیلہِ کرم تُجھے
تیرے حبیبِ پاکﷺ کا
مُصیبتیں جہان کی
بزورِ کُن تُو ٹال دے
تُو اپنے بندگان کو
وَبا کے اِس وبال سے
نکال کر امان دے
زمیں کو پھر سے
اِذنِ رقصِ زندگی کا دان دے
 

شعیب گناترا

لائبریرین
سلام عرض ہے۔ کوئی مندرجہ ذیل غزل کے شاعر کا نام کھوج لگا سکتا ہے؟ عین نوازش ہوگی۔

اپنے گھر کے , در و دیوار سے , ڈر لگتا ہے
گھر کے باہر , تیرے گلزار سے , ڈر لگتا ھے

فاصلے بن گئے , تکمیلِ محبت , کا سبّب
وصلِ جانآں سے , رُخِ یار سے , ڈر لگتا ھے

اُسکی یادوں سے ھی تسکینِ تصور کر لوں
اب مجھے , محفلِ دلدار سے , ڈر لگتا ھے

سارے تبدیل ہوئے , مہر و وفا کے دستور
چاہنے والوں کے , اب پیار سے ڈر لگتا ھے

خوشبٔووں, لذّتوں, رنگوں میں خوف پنہاں ھے
برّگ سے , پھول سے, اشجار سے ڈر لگتا ھے

تھی کسی دور علیلوں کی عیادت واجب
لیکن اب , قربتِ بیمار سے , ڈر لگتا ھے

جنکی آمد کو سمجھتے تھے خدا کی رحمت
ایسے مہمانوں کے , آثار سے , ڈر لگتا ھے

اب تو لگتا ھے, میرا ہاتھ بھی اپنا نہ رہا
اس لئے , ہاتھ کی تلوار , سے ڈر لگتا ھے

تن کےکپڑے بھی عدّو, پیر کے جُوتے دشمن
سر پہ پہنے ہوئی , دَستار سے ڈر لگتا ھے

جو گلے مل لے میری جان کا دشمن ٹھہرے
اب , ہر اک , یارِ وفادار سے , ڈر لگتا ھے

ایک نادِیدہ سی ہستِی نے جھنجوڑا ایسے
خلق کو , گنبد و مِینار , سے ڈر لگتا ھے

بن کے یاجوج , ماجوج نمودار ہوا , چاروں اور
اِس کی اسی, رفتار سے, ڈر لگتا ھے

عین ممکن ھے یہاں سب ہوں کورونا آلود
شہر کے. کُوچہ و باز٘ار سے ڈر لگتا ھے

خوف آتا ھے ٹی وی چینل دیکھ کر
ہر رسالے سے , ہر اخبار سے , ڈر لگتا ھے

اب تو اپنوں سے مصافحہ بھی پُرخطر ھے جناب
یوں نہیں ھےکہ فقَط اغیّار سے, ڈر لگتا ھے
 

سیما علی

لائبریرین
ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے
اب ٹھہر جائیں کہیں، شام کے ڈھلتے ڈھلتے

اب غمِ زیست سے گھبرا کے کہاں جائیں گئے
عمر گزری ہے اسی آگ میں جلتے جلتے

رات کے بعد سحر ہو گی مگر کس کے لیے
ہم ہی شاید نہ رہیں رات کے ڈھلتے ڈھلتے
٭٭٭
سلیم احمد
بےحد کمال
آپ اسم بامسما ہیں ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
عجب سی دل میں ہے کَسک
کہ اب کے روزِ عید پر
نہ دوستوں کی محفلیں
نہ دِلبروں سے مجلسیں
مِٹھائیاں نہ خُورمے
نہ قہقے نہ رَتجگے
کہ حُکم ہے غَنیم کا
اطاعتِ وَبا کرو
دُبک کے اپنے گھر رہو
نہ اَب کے تم گَلے ملو
سلام دور سے کرو
نئِی یہ رِیت پڑ گئی
کہ دستِ یار مَس نہ ہو
مِلاپ میں لَمس نہ ہو
جہاں پہ ہو وہیں رہو
ذرا بھی ٹَس سے مَس نہ ہو

سبھی طبیب شہر کے
سبھی خطیب شہر کے
تمام امیر شہر کے
بَجُز غریب شہر کے
ہیں مُتّفِق بِلا فَصل
کہ نا گُزیر ہو گیا
معاشرے میں فاصلہ
کلام میں بھی فاصلہ
سلام میں بھی فاصلہ
دِل و نظر کے بَین بَین
گُداز میں بھی فاصلہ
سِتم ظَریفی دیکھیے
کہ مفتیانِ شہر نے بھی
کہہ دیا ہے بَرمَلا
کہ اِن دنوں میں ہے رَوا
نماز میں بھی فاصلہ

خُدائےِ ہر بُلند و پَست
قسم تیری خدائی کی
جلالِ کبریائی کی
کہ ہم میں ہے کہاں سَکت
بَجُز تیری نیاز کے
کہ اس بَلا سے بچ سکیں
ہے واسطہ تُجھے تیری
کریمئیِ صِفات کا
وسیلہِ کرم تُجھے
تیرے حبیبِ پاکﷺ کا
مُصیبتیں جہان کی
بزورِ کُن تُو ٹال دے
تُو اپنے بندگان کو
وَبا کے اِس وبال سے
نکال کر امان دے
زمیں کو پھر سے
اِذنِ رقصِ زندگی کا دان دے
جاسمن !!!!
بہت خوب۔
آمین الہی آمین
 

سیما علی

لائبریرین
پہنچ چکا ہے سرِ زخم دل تلک یارو
کوئی سیو، کوئی مرہم کرو، ہوا سو ہوا
سودا
جناب وارث صاحب!!
یہ میری بڑی پسندیدہ غزل ہے ۔ آپکے وصف تو ہم پر کھل چکے ہیں۔آپ انتہائی باذوق ہیں ماشاءاللہ
دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سودا
پھر آگے دیکھئے جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا۔۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
کورونا زدہ غزل

فاصلہ، پیار کی علامت ہے!!
دور رہنا ہی اب محبت ہے

ایک بوسہ کسی کے ماتھے پر!!!!
آج سب سے بڑی حماقت ہے

بے حجاب آئیں وہ جو محفل میں
لوگ کہتے ہیں، کیا مصیبت ہے!

اپنے پیاروں کے آج جھرمٹ سے
بچ کے رہنا، کمال حکمت ہے۔۔۔

مسجدوں میں ہے آج سناٹا
کس قدر اس وبا کی دہشت ہے!

عید ملنے لگیں تو کہتے ہیں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے!

گھر میں بیٹھے ہیں اپنے پیاروں میں
ایسی کب تھی، جو آج فرصت ہے
 
زندگی سے ڈرتے ہو؟

!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!

زندگی سے ڈرتے ہو؟

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں

آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے

اس سے تم نہیں ڈرتے!

حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

اس سے تم نہیں ڈرتے

''ان کہی'' سے ڈرتے ہو

جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

پہلے بھی تو گزرے ہیں

دور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کے

پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی

یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی

تم مگر یہ کیا جانو

لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر

ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو

روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں

روشنی سے ڈرتے ہو

شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر

اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی

راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے

آدمی چھلک اٹھے

آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

ہاں ابھی تو تم بھی ہو

ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں

تم ابھی سے ڈرتے ہو
 

سیما علی

لائبریرین
اس عہد ناساز میں یہ ہی تو ایک رونا ہے!!!!!!!!!
وہ کھانسیں تو کھانسی ہے، ہم کھانسیں تو کرونا ہے
 
Top