حالاتِ حاضرہ کی کہانی، شعروں کی زبانی

فرقان احمد نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 8, 2020

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ابھی تو ترک تعلق کی وباء پھیلی ہے
    پھر محبت سے بھی انکار کیا جائے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,184
    بے ساختہ ہنسی آ گئی گو کہ شعر واقعی سنجیدہ نوعیت کا ہے پر اس شعر میں کچھ ایسا ویسا ضرور ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    غزل باری کی کہانی شعروں کی زبانی کون سنائے گا؟
    یہ تو تازہ حالات ہیں۔:)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    سنجیدہ ہو ہے یہ مرض وحشت اثر مختاریا
    کچھ عقل کر کچھ خوف کھا جا بیٹھ گھر مختاریا
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 16, 2020
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  5. یونس

    یونس محفلین

    مراسلے:
    308
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تُم تو پہلے ہی نہیں ملتے تھے،
    اور پھر اب تو وبا کے دن ہیں!
     
  6. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  7. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    عجب سی دل میں ہے کَسک
    کہ اب کے روزِ عید پر
    نہ دوستوں کی محفلیں
    نہ دِلبروں سے مجلسیں
    مِٹھائیاں نہ خُورمے
    نہ قہقے نہ رَتجگے
    کہ حُکم ہے غَنیم کا
    اطاعتِ وَبا کرو
    دُبک کے اپنے گھر رہو
    نہ اَب کے تم گَلے ملو
    سلام دور سے کرو
    نئِی یہ رِیت پڑ گئی
    کہ دستِ یار مَس نہ ہو
    مِلاپ میں لَمس نہ ہو
    جہاں پہ ہو وہیں رہو
    ذرا بھی ٹَس سے مَس نہ ہو

    سبھی طبیب شہر کے
    سبھی خطیب شہر کے
    تمام امیر شہر کے
    بَجُز غریب شہر کے
    ہیں مُتّفِق بِلا فَصل
    کہ نا گُزیر ہو گیا
    معاشرے میں فاصلہ
    کلام میں بھی فاصلہ
    سلام میں بھی فاصلہ
    دِل و نظر کے بَین بَین
    گُداز میں بھی فاصلہ
    سِتم ظَریفی دیکھیے
    کہ مفتیانِ شہر نے بھی
    کہہ دیا ہے بَرمَلا
    کہ اِن دنوں میں ہے رَوا
    نماز میں بھی فاصلہ

    خُدائےِ ہر بُلند و پَست
    قسم تیری خدائی کی
    جلالِ کبریائی کی
    کہ ہم میں ہے کہاں سَکت
    بَجُز تیری نیاز کے
    کہ اس بَلا سے بچ سکیں
    ہے واسطہ تُجھے تیری
    کریمئیِ صِفات کا
    وسیلہِ کرم تُجھے
    تیرے حبیبِ پاکﷺ کا
    مُصیبتیں جہان کی
    بزورِ کُن تُو ٹال دے
    تُو اپنے بندگان کو
    وَبا کے اِس وبال سے
    نکال کر امان دے
    زمیں کو پھر سے
    اِذنِ رقصِ زندگی کا دان دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر