حالاتِ حاضرہ کی کہانی، شعروں کی زبانی

سیما علی

لائبریرین
دشمنِ جاں کو مات کر لیجے
چار دن احتیاط کر لیجے
اپنےگھر کےحسیں مکینوں کو
اپنی کل کائنات کر لیجے
یہ کوئی قید ہےکہ گھر بیٹھے
جس سےجی چاہے بات کر لیجے
دل ملا لیجئے اجازت ہے
دور لیکن یہ ہاتھ کرلیجے
یہ حفاظت بھی اک عبادت ہے
جس قدر ہے بساط کر لیجے

اتباف_ابرک
 

سیما علی

لائبریرین
جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار
کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا !!!!!!!

علی سردار جعفری
 
Top