تخلیق یا ارتقاء

ابوعبید

محفلین
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ انسان کو بندر کی اولاد ثابت کرنے سے انسانوں کی کیا خدمت کی جاسکتی ہے۔

اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے آبا و اجداد بندر تھے تو ہو سکتاہے بندر ہی ہوں :heehee: ہمیں تو اپنے شجرہ نسب کا پتہ ہے جو الحمد للہ انسانوں سے ہی ملتا ہے جا کے :battingeyelashes:
 

سین خے

محفلین
سائنسدانوں کا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ انسان اور بن مانس کے DNA میں بہت ہی معمولی فرق ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے کی ریسرچ کے مطابق انسان اور بن مانس کے DNA ایک دوسرے سے 80 فیصد مختلف ہیں۔

Intelligent Design

نبیل بھائی یہ ۸۰ فیصد مختلف ڈی این اے والی ریسرچ کا ریفرنس ہو تو دے دیجئے گا :)
 

جاسم محمد

محفلین
اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے آبا و اجداد بندر تھے تو ہو سکتاہے بندر ہی ہوں
نظریہ ارتقا سے متعلق عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہےکہ انسان کے آباؤ اجداد بندر تھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالیہ انسانوں اور بندروں کا جد ایک تھا مگر وہ بندر نہیں تھا:
primatephylogeny.png

چمپینزی اور جدید انسان کے درمیان کئی انواع آئے اور گزر گئے۔ ان سب میں مشترک یہ تھا کہ وہ سب افریقہ کے رہنے والے تھے۔
70609N_Drupal_Africa.png

اور چونکہ حالیہ جدید انسان کی ابتدا بھی افریقہ سے ہوئی۔ یوں اس نظریہ ارتقا کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نوع انسانوں کا قریب ترین جد تھا جب وہ چیمپنزیوں سے جدا ہوا۔
ardipithecus-ramidus-what-scientists-learned-809x1024.jpg
 

La Alma

لائبریرین
اس آیت کو اسکے بعد والی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھئے۔ ثم رددناہ اسفل سافلین ۔ غور کیا جائے تو ارتقاء کی ضد نظر آتی ہے۔
یہ تو بلکہ اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ ارتقاء کی ضد تنزلی بھی ہے۔ اسفل سافلین کا ایک تو اخلاقی پہلو ہے کہ خدا نے انسان کو خوبصورت سانچے میں ڈالا اور وہ اپنے افکار و اعمال کی بدولت پست سے پست تر ہوتا گیا ۔ دوسرا پہلو حیاتیاتی نوعیت کا ہے۔ ہر عروج کو زوال بھی ہے ۔ حیاتاتی سطح پر اسفل سافلین کے درجے تک پہنچنا آنًا فانًا نہیں ہو جاتا۔ یہ سب رفتہ رفتہ، درجہ بہ درجہ انجام پزیر ہوتا ہے۔ بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، پھر ایک وقت آتا ہے جب اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور آخر کار موت واقع ہو جاتی ہے۔ بات یہیں تک موقوف نہیں، بعد از مرگ جسم گل سڑ جاتا ہے۔ ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔ انسان صفحہِ ہستی سے مٹ جاتا ہے اور اس کا دور دور تک کہیں نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر اسی حالت میں زمانے گزر جاتے ہیں۔ اگر تنزلی کے لئے کوئی ٹائم فریم درکار ہے جس کا ہم مشاہدہ بھی کرتے ہیں تو یہ ارتقائی عمل کے لئے کیوں ممکن نہیں۔
اس آیت کے بعد ارتقا کے مفروضے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ اس بات پر قطعی دلالت کرتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے پیدا کیے گئے تھے۔

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ.(۳: ۵۹)
’’عیسیٰ کی مثال، اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا، پھر اس کو کہا کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘
ارتقاء کے فلسفے کو کلی طور پر رد کر دینا درست نہیں۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ خدا نے انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا اور وہی ہر شے کا خالق ہے۔ هُوَ اللّٰهُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ‌ (سوره حشر)
He is God, the Creator, the Maker, the Designer
دنیا کے پہلے انسان کے قالب یا انسانی ڈھانچے کی تخلیق کا عمل، علمِ الہی میں ایک وقتِ معلوم تک ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد ہی ہوا ہو گا۔ پھر اللہ نے اپنے حکم سے اس میں روح پھونک دی۔ مزکورہ آیت میں " کُن " یہی امر ِ ربّی ہے۔ واللہ اعلم!!
سائنس اگر خدا کے وجود کی منکر ہے تو بھلے ہوتی رہے ۔ قرآن کو تو سائنس سے کوئی عداوت نہیں ۔ خدا تو خود کائنات میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ کوئی بھی شے خالی از حکمت پیدا نہیں کی گئی اور سائنس بھی منطقی استدلال مانگتی ہے۔ اگر خدا کی حکمت کی تشریح سائنس کر سکتی ہے اور تخلیق کی گتھیاں سلجھا سکتی ہے تو کیوں نہیں۔
 

عرفان سعید

محفلین
یہ تو بلکہ اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ ارتقاء کی ضد تنزلی بھی ہے۔ اسفل سافلین کا ایک تو اخلاقی پہلو ہے کہ خدا نے انسان کو خوبصورت سانچے میں ڈالا اور وہ اپنے افکار و اعمال کی بدولت پست سے پست تر ہوتا گیا ۔ دوسرا پہلو حیاتیاتی نوعیت کا ہے۔ ہر عروج کو زوال بھی ہے ۔ حیاتاتی سطح پر اسفل سافلین کے درجے تک پہنچنا آنًا فانًا نہیں ہو جاتا۔ یہ سب رفتہ رفتہ، درجہ بہ درجہ انجام پزیر ہوتا ہے۔ بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، پھر ایک وقت آتا ہے جب اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور آخر کار موت واقع ہو جاتی ہے۔ بات یہیں تک موقوف نہیں، بعد از مرگ جسم گل سڑ جاتا ہے۔ ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔ انسان صفحہِ ہستی سے مٹ جاتا ہے اور اس کا دور دور تک کہیں نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر اسی حالت میں زمانے گزر جاتے ہیں۔ اگر تنزلی کے لئے کوئی ٹائم فریم درکار ہے جس کا ہم مشاہدہ بھی کرتے ہیں تو یہ ارتقائی عمل کے لئے کیوں ممکن نہیں۔

ارتقاء کے فلسفے کو کلی طور پر رد کر دینا درست نہیں۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ خدا نے انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا اور وہی ہر شے کا خالق ہے۔ هُوَ اللّٰهُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ‌ (سوره حشر)
He is God, the Creator, the Maker, the Designer
دنیا کے پہلے انسان کے قالب یا انسانی ڈھانچے کی تخلیق کا عمل، علمِ الہی میں ایک وقتِ معلوم تک ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد ہی ہوا ہو گا۔ پھر اللہ نے اپنے حکم سے اس میں روح پھونک دی۔ مزکورہ آیت میں " کُن " یہی امر ِ ربّی ہے۔ واللہ اعلم!!
سائنس اگر خدا کے وجود کی منکر ہے تو بھلے ہوتی رہے ۔ قرآن کو تو سائنس سے کوئی عداوت نہیں ۔ خدا تو خود کائنات میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ کوئی بھی شے خالی از حکمت پیدا نہیں کی گئی اور سائنس بھی منطقی استدلال مانگتی ہے۔ اگر خدا کی حکمت کی تشریح سائنس کر سکتی ہے اور تخلیق کی گتھیاں سلجھا سکتی ہے تو کیوں نہیں۔
بہت اچھا مراسلہ!
نئے گوشے نمایاں کرتے ہوئے دعوتِ فکر دیتی ہوئی رائے۔
 
آخری تدوین:

La Alma

لائبریرین
نظریہ ارتقا سے متعلق عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہےکہ انسان کے آباؤ اجداد بندر تھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالیہ انسانوں اور بندروں کا جد ایک تھا مگر وہ بندر نہیں تھا:
primatephylogeny.png

چمپینزی اور جدید انسان کے درمیان کئی انواع آئے اور گزر گئے۔ ان سب میں مشترک یہ تھا کہ وہ سب افریقہ کے رہنے والے تھے۔
70609N_Drupal_Africa.png

اور چونکہ حالیہ جدید انسان کی ابتدا بھی افریقہ سے ہوئی۔ یوں اس نظریہ ارتقا کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نوع انسانوں کا قریب ترین جد تھا جب وہ چیمپنزیوں سے جدا ہوا۔
ardipithecus-ramidus-what-scientists-learned-809x1024.jpg
پہلے تو سائنس یہ طے کرے کہ آیا دنیا کا پہلا انسان originally اسی زمین کا باشندہ تھا یا پھر مکمل انسان کی صورت کسی اور جگہ سے اس سیارے پر اتارا گیا۔ موخر الذکر کی صورت میں زمینی مخلوق سے مماثلت تلاش کرنا اور انسانی ارتقاء کے شواہد یہاں سے ڈھونڈنا بے کار ہے۔
 

آصف اثر

معطل
نظریہ ارتقا سے متعلق عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہےکہ انسان کے آباؤ اجداد بندر تھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالیہ انسانوں اور بندروں کا جد ایک تھا مگر وہ بندر نہیں تھا:
primatephylogeny.png

چمپینزی اور جدید انسان کے درمیان کئی انواع آئے اور گزر گئے۔ ان سب میں مشترک یہ تھا کہ وہ سب افریقہ کے رہنے والے تھے۔
70609N_Drupal_Africa.png

اور چونکہ حالیہ جدید انسان کی ابتدا بھی افریقہ سے ہوئی۔ یوں اس نظریہ ارتقا کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نوع انسانوں کا قریب ترین جد تھا جب وہ چیمپنزیوں سے جدا ہوا۔
ardipithecus-ramidus-what-scientists-learned-809x1024.jpg

میرے خیال میں یہ ایک ربط کافی ہوگا۔
A skull found in China could re-write our entire understanding of human evolution

That's according to scientists who have examined the important, ancient head and say that it proves the existing theory of how humans came to be is wrong

Most anthropologists believe that our species came about in Africa around 200,000 years ago – and that one group left around 80,000 years later before spreading across the world. But instead of humans purely coming out of Africa, the new research suggests that important characteristics of humans actually developed in east
Asia
یہی ارتقا کی حقیقت ہے۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
A skull found in China could re-write our entire understanding of human evolution
انسانی ارتقا کی تاریخ نئی دریافت و تحقیق کی بدولت بار بار تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ کیسے نکالا کہ ارتقا ہوا ہی نہیں؟
یہی ارتقا کی حقیقت ہے۔
 

آصف اثر

معطل
ارتقاء کے فلسفے کو کلی طور پر رد کر دینا درست نہیں۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ خدا نے انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا اور وہی ہر شے کا خالق ہے۔ هُوَ اللّٰهُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ‌ (سوره حشر)
He is God, the Creator, the Maker, the Designer
دنیا کے پہلے انسان کے قالب یا انسانی ڈھانچے کی تخلیق کا عمل، علمِ الہی میں ایک وقتِ معلوم تک ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد ہی ہوا ہو گا۔ پھر اللہ نے اپنے حکم سے اس میں روح پھونک دی۔ مزکورہ آیت میں " کُن " یہی امر ِ ربّی ہے۔ واللہ اعلم!!
سائنس اگر خدا کے وجود کی منکر ہے تو بھلے ہوتی رہے ۔ قرآن کو تو سائنس سے کوئی عداوت نہیں ۔ خدا تو خود کائنات میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ کوئی بھی شے خالی از حکمت پیدا نہیں کی گئی اور سائنس بھی منطقی استدلال مانگتی ہے۔ اگر خدا کی حکمت کی تشریح سائنس کر سکتی ہے اور تخلیق کی گتھیاں سلجھا سکتی ہے تو کیوں نہیں۔

ملاحظہ کیجیے۔
وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾ سورة النبأ 7۔ آیات
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ۔

ارتقا کے جھوٹ ہونے پر قرآنی آیات میں قطعیت کے مہر کے بعد بھی اگر آپ اس بات پر مُصر ہے کہ نہیں ارتقا ہی ہوا ہوگا تو میرے خیال میں آپ سے مزید بات کرنا بے سود ہے۔ کیوں کہ آپ قرآن کے قطعی نصوص کو اپنے مرضی کے مطابق لانا چاہتے ہیں اور یہ ممکن نہیں۔
 

آصف اثر

معطل
ارتقا پرستی الفاظ کے ہیر پھیر کا دوسرا نام بھی ہے۔ جس کے ذریعے وہ سادہ لوح افراد کو گھیرتے ہیں۔
انسانی ارتقا کی تاریخ نئی دریافت و تحقیق کی بدولت بار بار تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ کیسے نکالا کہ ارتقا ہوا ہی نہیں؟
اور چونکہ حالیہ جدید انسان کی ابتدا بھی افریقہ سے ہوئی۔ یوں اس نظریہ ارتقا کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نوع انسانوں کا قریب ترین جد تھا جب وہ چیمپنزیوں سے جدا ہوا۔
 

جاسم محمد

محفلین
ارتقا پرستی الفاظ کے ہیر پھیر کا دوسرا نام بھی ہے۔ جس کے ذریعے وہ سادہ لوح افراد کو گھیرتے ہیں۔
آپ کے فراہم کر دہ ربط سے؛
A skull found in China could re-write our entire understanding of human evolution
یعنی محققین نے ارتقا انسانی کا انکار نہیں کیا بلکہ اس کی تاریخ پر سوال اٹھایا ہے۔ سائنسی حلقوں میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پرانی تحقیق کو رد کر کے ہی نئی تحقیق سامنے آتی ہے اور سائنسی علوم کا دائرہ وسیع ہوتا جاتاہے۔
 

آصف اثر

معطل
آپ کے فراہم کر دہ ربط سے؛

یعنی محققین نے ارتقا انسانی کا انکار نہیں کیا بلکہ اس کی تاریخ پر سوال اٹھایا ہے۔ سائنسی حلقوں میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پرانی تحقیق کو رد کر کے ہی نئی تحقیق سامنے آتی ہے اور سائنسی علوم کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتاہے۔
لیکن پھر بھی ارتقا پرست ہر تحقیق کو درست ثابت کرنے پر قسمیں کھانے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ سائنسی حلقے نہیں ارتقا پرستوں کے حلقے ہیں جو عوام کو ہڈیوں سے بےوقوف بنانے میں دیر نہیں کرتے۔
 

آصف اثر

معطل
جب اسلام کی بات ہوتی ہے تو سائنس کا سخت ترین پیمانہ تلاش کرکے رکھا جاتاہے کہ جناب فلاں فلاں بات (ہمارے سائنسی) ”پیمانے“ پر پورا نہیں اترتی۔ کیوں کہ خدا کے اثبات کا ڈر لگا رہتاہے۔ لیکن ارتقا کے مفروضے کو تھیوری کا نام دے کر خود کو مطمئن کردیتے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
لیکن پھر بھی ارتقا پرست ہر تحقیق کو درست ثابت کرنے پر قسمیں کھانے کو تیار رہتے ہیں۔
نئی تحقیق کی افادیت اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر اس سے انسانی ارتقا کو بہتر سمجھنے میں مدد ملتی ہے تو تحقیق سے بیر کیوں؟ سائنسدان و محققین اس مصدقہ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ زمین پر موجود تمام حیات و انواع ارتقا کا نتیجہ ہیں۔ وہ کیسے ، کب، کہاں ہوا ہے اس پر نئی تحقیق کی بدولت اختلاف ہو سکتا ہے۔
 

سین خے

محفلین
ڈاکٹر اسرار احمد God guided evolution کے قائل تھے۔ ان کی قرآن کی تفسیر کی ویڈیو لیکچرز یوٹیوب بر باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ سالوں ٹی وی پر مختلف چینلز پر بھی ان کی قرآن کی تفسیر کے پروگرامز آتے رہے ہیں۔ سی ڈیز بھی مل جاتی ہیں۔ جن افراد کو دلچسپی ہو تو ان کی قرآن کی تفسیر کے لیکچرز بھی سنئے گا۔ ایک بار ہی سہی۔
 

سین خے

محفلین
ایک مسلم پروفیسر کے ارتقاء پر خیالات

Why I teach evolution to Muslim students

اس آرٹیکل میں سے کچھ اقتباسات

Students in my classes often get a shock. I wear a hijab, so they know that I am a practising Muslim, yet they hear me endorsing evolution as a mechanism to explain diversity and the development of species, and citing Charles Darwin as a scientist who contributed to our understanding of the emergence and diversification of life on Earth. I am almost always the first Muslim they have met who says such things.

In teaching, I offer a detailed explanation of the natural evolution of plants and artificial breeding. Later, we discuss antibiotic resistance, influenza vaccines and the development of HIV drugs. After these discussions, most students are willing to accept evolution as a mechanism for the emergence of all species except humans.

ارتقاء صرف ایک میکینزم ہے۔ یہ صرف کسی ایک جاندار کے وجود میں آنے کو بیان نہیں کرتا ہے بلکہ یہ اب ایک بہت ہی وسیع فیلڈ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں تک انسان کے وجود کا تعلق ہے تو اس پر تو اب تک ریسرچ جاری ہے۔ ارتقاء صرف ڈارون کی تھیوری نہیں رہی ہے۔ خاص طور پر مائیکرو بائیولوجی تو گھوم ہی ارتقاء کے گرد رہی ہے۔ ارتقاء کی تعریف اب بہت وسیع ہو چکی ہے۔

جہاں تک مسلمان اساتذہ اور شاگروں کا ارتقاء کو پڑھنے اور سمجھنے کا تعلق ہے تو مجھے محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی خدا کا انکار صرف اس کو پڑھ کر کرتا ہوگا اور نہ ہی آج تک میرے دیکھنے میں کوئی ایسا آیا ہے۔ یہ ایک میکینزم ہے۔ بنانے والی ذات اللہ کی ہے۔ اس نے تخلیق کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا، اس عمل کو سمجھنے کے لئے ارتقاء کو پڑھا جاتا ہے۔

جہاں تک ارتقاء کے سمجھنے، پڑھے جانے اور اس پر ریسرچ کے فوائد کا تعلق ہے تو یہ دو آرٹیکلز کسی حد تک سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ genetics کی فیلڈ میں genetic diseases کے علاج دریافت کرنے کے لئے اس کا کیا کردار ہے۔

The Use of Animal Models in Studying Genetic Disease | Learn Science at Scitable

2004 Release: Scientists Compare Rat Genome

اس کا کردار صرف جنیٹکس کی فیلڈ میں ہی ختم نہیں ہو جاتا ہے۔ اس کا دائرہ کار بے انتہا وسیع ہو چکا ہے۔
 

آصف اثر

معطل
ایک مسلم پروفیسر کے ارتقاء پر خیالات

Why I teach evolution to Muslim students

اس آرٹیکل میں سے کچھ اقتباسات

Students in my classes often get a shock. I wear a hijab, so they know that I am a practising Muslim, yet they hear me endorsing evolution as a mechanism to explain diversity and the development of species, and citing Charles Darwin as a scientist who contributed to our understanding of the emergence and diversification of life on Earth. I am almost always the first Muslim they have met who says such things.

In teaching, I offer a detailed explanation of the natural evolution of plants and artificial breeding. Later, we discuss antibiotic resistance, influenza vaccines and the development of HIV drugs. After these discussions, most students are willing to accept evolution as a mechanism for the emergence of all species except humans.
1۔ کسی ارتقا پرست کا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کو ارتقاپرستی سکھاتی ہے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مسلمانوں کو ورغلانے کے یہ کچھ ٹیکنیکس استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر یہاں موجود ارتقاپرستوں میں سے کوئی ٹیچنگ سے وابستہ ہوجائے تو کیا وہ یہ کہے گا کہ میں طلباء کو تخلیق پرستی سکھاتاہوں؟
2۔ عین ممکن ہے انہوں نے صرف ارتقاپرستی کے حق میں لکھے گئے مضامین پڑھے ہیں۔
3۔ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ ارتقا کی بنیاد اسپیشئز پر ہے اور اسپیشئز کی تعریف ہی نہیں ہے۔ لہذا بنیاد کے بغیر عمارت کھڑی کرنا فرض تو کیا جاسکتا ہے (مفروضہ)، حقیقت نہیں ہوسکتا۔

4۔ ملحدین کا ارتقا پر ایمان لانا عین منطقی ہے کیوں کہ خدا کے انکار کے بعد اُن کو موجودات کی کوئی نہ کوئی توجیہہ درکار ہوتی ہے چاہے وہ ارتقا جیسا مفروضہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن مسلمانوں کے لیے قرآن کے واضح احکامات سے مفر ممکن نہیں۔
 
آخری تدوین:
Top