تخلیق یا ارتقاء

نبیل نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 25, 2005

  1. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,612
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    دنیا بھر کے سائنس کے نصابوں میں نظریہ ارتقاء کے اسباق شامل ہیں۔ یہ نظریہ چارلس ڈارون کی تحقیق پر مبنی ہے جس کی تشریح کی رو سے زندگی کی تمام شکلیں کسی نہ کسی بنیادی حیاتی اکائی کے ارتقاء سے وجود میں آئی ہیں۔ اس طرح انسان جوکہ ارتقاء کی تکمیل ہے، غالباً بن مانس کی جینز کی mutation کے نتیجے میں بنا ہے۔ نظریہ ارتقاء اپنے آغاز سے ہی تنازعے کا شکار ہے اور اسی وقت سے نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق (creationism) کے ماننے والوں میں نظریاتی جنگ جاری ہے۔ اگر آج کے دور میں medieval زمانے کے گرجا کا راج ہوتا تو اس نے گیلیلیو کی طرح کب کا ڈارون کو ٹھکانے بھی لگا دیا ہوتا۔ لیکن آج کے دور میں کلیسا کو کونے میں لگا کر نصاب میں نظریہ ارتقاء کے اسباق پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود تخلیق کے ماننے والوں نے ارتقاء کے خلاف اپنی جنگ ہمیشہ جاری رکھی ہے۔ نظریہ تخلیق، یعنی یہ کہ زندگی کی ہر شکل اپنی مکمل صورت میں پیدا کی گئی، اگرچہ آسمانی کتب کے متن سے مطابقت رکھتا ہے لیکن اسے سائنس سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک نظریہ ارتقاء بھی سائنس کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ سائنسدانوں کا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ انسان اور بن مانس کے DNA میں بہت ہی معمولی فرق ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے کی ریسرچ کے مطابق انسان اور بن مانس کے DNA ایک دوسرے سے 80 فیصد مختلف ہیں۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ کی ایک عدالت نے جب فیصلہ دیا کہ سکولوں کے نصاب میں ارتقاء کے ساتھ ساتھ متبادل نظریے کے طور پر ذہین ڈیزائن کا نظریہ ( Intelligent Design Theory) نہیں پڑھایا جا سکتا تو میری توجہ اس نظریے کی جانب مبذول ہوئی۔ ذہین ڈیزائن کے نظریہ کے مطابق ا س کائنات کے کئی پہلو ایک اعلی و ارفع ہستی کا پتا دیتے ہیں کیونکہ اس قدر پیچیدہ اور منظم جزئیات کسی خودکار ارتقاء کے مکینزم کے تحت وجود میں نہیں آسکتی۔ اگرچہ ذہین ڈیزائن کے ماننے والوں کے نزدیک یہ نظریہ بھی سائنٹفک بنیادوں پر قائم ہے لیکن سائنسی کمیونٹی اسے نظریہ تخلیق کی ہی ایک کیموفلاجڈ شکل مانتے ہیں۔

    نظریہ جو بھی ٹھیک ہو، ہم تو وہی پڑھتے رہیں گے جو ہمارے نصاب میں شامل کر دیا جائے گا۔

    متعلقہ روابط:

    Intelligent Design
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,788
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    نظریہ ارتقاء واقعی ایک فریب ہے اور ارتقاء پسندوں نے اسے ایک سائنسی تسلیم شدہ نظریہ بنانے کے لیے کئی ایک جعل سازیاں بھی کیں جو کہ آن دی ریکارڈ ہیں پھر بھی جب تک اس کا متبادل سامنے نہیں آجاتا ہم اسے ٹھیک کہنے پر مجبور ہیں(سائنسی لحاظ سے)۔ اگرچہ ذہین ڈیزائن کا نظریہ موجود ہے مگر اس کے حامیوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ نظریہ ارتقاء کو جھوٹا ثابت کیا جائے اور بس۔ مگر اس طریقہ سے متبادل تو نہیں وجود میں آسکتا۔
    اس ضمن میں جدید مسلم سکالرز میں سے ایک ترکی کے ہارون یحیٰی ہیں جن کاسانئس کے میدان میں آنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ نظریہ ارتقاء جھوٹا ہے ان کی ہر کتاب کے ساتھ(تقریبًا) نظریہ ارتقاء کے رد کا ضمیمہ شامل ہوتا ہے ۔ تاہم انھوں نے اور بھی کئی اطراف قابل قدر کام کیا ہے جیسے تباہ شدہ اقوام بارے تحقیقات جنکا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    637
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بھائی ڈارون کے اپنے الفاظ ہیں کہ اگر ارتقائی منازل کے درمیانی ثبوت حاصل نہ ہوں تو سب کچھ غلط ہے ۔ ۔ ۔

    رہی بات ۔ ۔ ۔ ذہین ڈیزائن کی تھیوری کی تو ۔ ۔ ۔ وہ اصل سائنس کی ماہیت کو بدل نہیں سکتی ۔ ۔ ۔ جیسے اگر زمین پر ایک اصول ہے تو وہ ہی اصول پلوٹو پر بھی ہو گا ۔ ۔ ۔
     
  4. T NAZ malik

    T NAZ malik محفلین

    مراسلے:
    9
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    ڈارون نے ایک غیر تصدیق شدہ مفروضہ پیش کیا تھا اس نے وہی لکھا جو اس کی سوچ تھی
    اب ایک انسان کی سوچ حقیقت تو نہیں بن سکتی
    جب کے ہمیں اللہ تعالی نے قرآن میں سب باتوں کا جواب دیا ہے اور ہم ایک انسان کی سوچ کو لے کر 2 سو سال سے بحث کیے جا رہے ہیں
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  5. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,788
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    لگ بھگ 13 برس پرانی تحریر سے اعلانِ برأت تو نہیں، البتہ ارتقاء کی مذہب کی بنیاد پر مخالفت ایک سعیِ لاحاصل ہے۔ اور ہارون یحیٰی، یہ حضرت حسیناؤں کے جلو میں ٹی وی پروگرام کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ شواہد کے لیے گوگل پر تلاش کی جا سکتی ہے۔ ان کی قابلیت اپنی جگہ، لیکن ان کے خیالات پر اعتبار کم ہوتا ہے اب۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    34,705
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    دلچسپ
     
    • متفق متفق × 1
  7. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    آصف اثر
    جاسم محمد
    دیکھو بھائیو! کہاں سے آپ لوگوں کے لیے لڑی ڈھونڈھ لایا ہوں۔
    اب یہاں لڑیاں کرو!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  8. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,099
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    معطلی کی طرف پہلا قدم مبارک ہو :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 8
  9. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    کیسے بھیا؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,099
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہاں آپ زیک کے مشوروں پر بآسانی عمل کرسکیں گے۔ :)
     
  11. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    پھر یہ "ارتقا" کی نہیں بلکہ "تنزلی" کی لڑی ہوئی۔:-(
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,021
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    "لاادری"!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  13. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بن مانس اور انسان کے ڈی این اے کی 80، 90 فیصد یکسانیت والی کہانیاں اب دم تھوڑ چکی ہیں۔ صرف 2٪ ڈی این اےکی بنیاد پر انسان کو بن مانس کا رشتہ دار کہنا ناواقفیت پر دلالت کرتاہے۔ باقی 98 فیصد ”ڈارک ڈی این اے“ کے متعلق ہمیں چند باتوں کے ماسوا کچھ علم نہیں۔
    جن احباب کے خیال میں صرف مذہب کی بنیاد پر ارتقا کی مخالفت درست نہیں تو صرف مذہب دشمنی کی بنیاد پر ارتقا کی حمایت بھی اسی زمرے کی پیداوار ہے۔ ارتقا کے مفروضے کو تخلیق پرستی کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    کوئی بھی مسلمان قرآن کی ان آیات کے بعد خود کو بندر کا رشتہ دار کہلانے پر ذرا برابر یقین نہیں رکھ سکتا۔
    لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ (4)
    بے شک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے۔ سورۃ التین

    وَمَا
    خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56)
    اور میں نے جن اور انسان کو تخلیق کیا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔

    خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (14)
    اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

    وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (15)
    اور اس نے جنوں کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔


     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    34,705
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    محفل پر تیرہ سال ان مباحث سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستانی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حیاتیات کی تعلیم کا انتہائی برا حال ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  15. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    وَقَالُوٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا (49)
    اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے پھر نئے بن کر اٹھیں گے۔

    قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا
    کہا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے تخلیق کیا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جن ممالک میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ڈاروِن جیسے پروفیسر اسٹوڈنٹس کو حیاتیات اور ارتقا میں فرق نہ سمجھا سکتے ہوں وہاں جہالت کتنی عروج پر ہوگی۔
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  17. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    شکر ہے پاکستان مغرب کی جہالتِ عُظمیٰ سے فی الحال محفوظ ہے۔ الحمدللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا
    اور اپنی بہت سی مخلوق-ات پر انہیں فضیلت عطا کی۔

    وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَۖ
    ور ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  19. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    گو اس کا اختیار ہر ایک کے پاس ہے، منفی ریٹنگ سے دل کا غبار تو نکالا جا سکتا ہے لیکن نہ تو اس سے اپنی بات مضبوط ہوتی ہے اور نہ دوسرے کا نقطۂ نظر کمزور پڑتا ہے۔ اچھی علمی بحث کے لیے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے پر توجہ مرکوز رہے تو ارتقائی بحث ہو سکتی ہے۔ دلچسپ موضوع ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ یہ کسی تعصب کی نذر نہ ہو جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • متفق متفق × 5
  20. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    اس بات کی خوشی ہے کہ میری رائے سے آپ متفق ہیں۔
    لیکن پیارے بھائی، جو بات میں بتانا چاہ رہا ہوں آپ اس کے برعکس کس پیرائے میں اس کا اظہار کر رہے ہیں؟
    آپ اچھے بھلے سمجھدار اور باعلم انسان ہیں، آپ خود ہی بتائیے کائنات کے خالق کے اس بے مثال تخلیقی شاہکار، انسان، کا کیا یہ مقام ہونا چاہیے؟ تہذیب و شائستگی کے آداب ملاحظہ رکھیں اور اپنے نقطہ نظر کے اعلی ترین ابلاغ پر اپنی توانائیاں صرف کریں۔ اور آپ اپنی انتہائی کوشش بھی کر دیکھیں تو تمام انسانوں کو ایک نقطے پر جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ اختلافِ رائے انسانیت کا حسن ہے اس کی قدر کریں۔
    میری باتوں کو تنقید کے بجائے مودبانہ گزارشات سمجھیں۔ بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر