تخلیق یا ارتقاء

آصف اثر

معطل
رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ارتقا پرستوں کی جعلسازیاں دیکھیں:
23 اگست سے پہلے سائنٹفک تھیوری سے متعلق وکی پیڈیا کا تعارف
In certain cases, the less-accurate unmodified scientific theory can still be treated as a theory if it is useful (due to its sheer simplicity) as an approximation under specific conditions. A case in point is Newton's laws of motion, which can serve as an approximation to special relativity at velocities that are small relative to the speed of light.​
23 اگست کو ایک امریکی ارتقاپرست کے پھلجڑی:
That doesn’t mean that all theories can be fundamentally changed (for example, well established foundational scientific theories such as evolution, heliocentric theory, cell theory, theory of plate tectonics etc). In certain cases, the less-accurate unmodified scientific theory can still be treated as a theory if it is useful (due to its sheer simplicity) as an approximation under specific conditions. A case in point is Newton's laws of motion, which can serve as an approximation to special relativity at
velocities that are small relative to the speed of light​
 
آخری تدوین:

سین خے

محفلین
آپ بےشک کوشش کر لیں لیکن پہلے محفل پر تلاش کا صفحہ استعمال نہ کریں کہ مایوسی ہو گی

مجھے کچھ کچھ معلوم ہے کیونکہ بہرحال میں سائیلنٹ ریڈر رہی ہوں لیکن چونکہ آج تک اس پر زیادہ بات چیت نہیں کی ہے:blushing: تو تھوڑا تھوڑا سا شوق ہے۔ اب میں اپنا شوق تو پورا کروں گی نا ورنہ دکھ ہی رہ جائے گا :battingeyelashes:
 

آصف اثر

معطل
میں نے اب تک جتنی بات کی ہے سائنسی لحاظ سے ہی بات کی ہے اور مثالیں بھی دی ہیں۔ کہ یہ ایک اندازہ ہے مفروضہ ہے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کیسے بات کی جا سکتی ہے؟

لاکھوں ریسرچز ہیں۔ آپ خود بھی جانتے ہیں کہ سائنس میں ایک اسٹیٹمنٹ ایسے ہی کتابوں میں نہیں چھاپ دیا جاتا ہے اس کے پیچھے پوری ریسرچ ہوتی ہے، ناجانے کتنے تجربات ہوتے ہیں ان سے رزلٹ نکالا جاتا ہے۔ نتائج اخذ کرنے میں سائنسی کمیونٹی غلط ہو سکتی ہے۔ ثبوت آپ لوگوں نے بھی اب تک مخالفت میں نہیں دئیے ہیں۔ آپ اور دیگر افراد کا نتائج سے اختلاف معلوم ہو رہا ہے۔ ریسرچز تو موجود ہیں۔
آپ صرف ارتقا کے مفروضے کو سائنٹفک پروف کے ذریعے تھیوری ثابت کردے۔ بس اتنا خیال رکھیں کہ ویکی پیڈیا، اور ارتقا پرستوں کی کہانیاں سُنا کر میرا وقت ضائع نہ کریں۔
میرے بنیادی نوعیت کے سوالات کے جوابات تو ابھی تک نہیں ملے۔ کیوں کہ چندارتقا پرستوں کی بنائی گئی، میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی ”تھیوری“ اور سائنٹفک تھیوری میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
 

سین خے

محفلین
آپ صرف ارتقا کے مفروضے کو سائنٹفک پروف کے ذریعے تھیوری ثابت کردے۔ بس اتنا خیال رکھیں کہ ویکی پیڈیا، اور ارتقا پرستوں کی کہانیاں سُنا کر میرا وقت ضائع نہ کریں۔

میں نے تو اب تک کوئی بھی ویکیپیڈیا کا لنک یہاں شئیر نہیں کیا ہے۔ میں نے سائنٹفک پروف ہی دئیے ہیں لیکن اگر وہ آپ کے نزدیک سائنٹفک نہیں ہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے البتہ میں اس کا اقرار کر سکتی ہوں کہ اب تک جو بھی میں نے لکھا ہے بہت ہی کم لکھا ہے۔ لکھنے کا ارادہ ضرور ہے :)

دوسری بات کہ یہ پبلک فورم ہے۔ میں اپنی بات کہنے کا حق رکھتی ہوں۔ آپ کو اگر محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کا میری وجہ سے یہاں وقت برباد ہو رہا ہے تو آپ میرے مراسلے نہ پڑھیں :) آپ ارتقاء کی مخالفت میں مراسلے پوسٹ کرتے رہیں :)
 

آصف اثر

معطل
میں نے تو اب تک کوئی بھی ویکیپیڈیا کا لنک یہاں شئیر نہیں کیا ہے۔
میں نے آئندہ کے لحاظ سے خیال رکھنے کا کہا ہے۔
میں نے سائنٹفک پروف ہی دئیے ہیں لیکن اگر وہ آپ کے نزدیک سائنٹفک نہیں ہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے

کیا یہ آپ کے سائنٹفک پروف ہیں:
ڈاکٹر اسرار احمد God guided evolution کے قائل تھے۔ ان کی قرآن کی تفسیر کی ویڈیو لیکچرز یوٹیوب بر باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ سالوں ٹی وی پر مختلف چینلز پر بھی ان کی قرآن کی تفسیر کے پروگرامز آتے رہے ہیں۔ سی ڈیز بھی مل جاتی ہیں۔ جن افراد کو دلچسپی ہو تو ان کی قرآن کی تفسیر کے لیکچرز بھی سنئے گا۔ ایک بار ہی سہی۔

ایک مسلم پروفیسر کے ارتقاء پر خیالات

Why I teach evolution to Muslim students

اس آرٹیکل میں سے کچھ اقتباسات

Students in my classes often get a shock. I wear a hijab, so they know that I am a practising Muslim, yet they hear me endorsing evolution as a mechanism to explain diversity and the development of species, and citing Charles Darwin as a scientist who contributed to our understanding of the emergence and diversification of life on Earth. I am almost always the first Muslim they have met who says such things.

In teaching, I offer a detailed explanation of the natural evolution of plants and artificial breeding. Later, we discuss antibiotic resistance, influenza vaccines and the development of HIV drugs. After these discussions, most students are willing to accept evolution as a mechanism for the emergence of all species except humans.

ارتقاء صرف ایک میکینزم ہے۔ یہ صرف کسی ایک جاندار کے وجود میں آنے کو بیان نہیں کرتا ہے بلکہ یہ اب ایک بہت ہی وسیع فیلڈ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں تک انسان کے وجود کا تعلق ہے تو اس پر تو اب تک ریسرچ جاری ہے۔ ارتقاء صرف ڈارون کی تھیوری نہیں رہی ہے۔ خاص طور پر مائیکرو بائیولوجی تو گھوم ہی ارتقاء کے گرد رہی ہے۔ ارتقاء کی تعریف اب بہت وسیع ہو چکی ہے۔

جہاں تک مسلمان اساتذہ اور شاگروں کا ارتقاء کو پڑھنے اور سمجھنے کا تعلق ہے تو مجھے محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی خدا کا انکار صرف اس کو پڑھ کر کرتا ہوگا اور نہ ہی آج تک میرے دیکھنے میں کوئی ایسا آیا ہے۔ یہ ایک میکینزم ہے۔ بنانے والی ذات اللہ کی ہے۔ اس نے تخلیق کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا، اس عمل کو سمجھنے کے لئے ارتقاء کو پڑھا جاتا ہے۔

جہاں تک ارتقاء کے سمجھنے، پڑھے جانے اور اس پر ریسرچ کے فوائد کا تعلق ہے تو یہ دو آرٹیکلز کسی حد تک سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ genetics کی فیلڈ میں genetic diseases کے علاج دریافت کرنے کے لئے اس کا کیا کردار ہے۔

The Use of Animal Models in Studying Genetic Disease | Learn Science at Scitable

2004 Release: Scientists Compare Rat Genome

اس کا کردار صرف جنیٹکس کی فیلڈ میں ہی ختم نہیں ہو جاتا ہے۔ اس کا دائرہ کار بے انتہا وسیع ہو چکا ہے۔

میں خود بائیولوجسٹ نہیں ہوں۔ میں اس معاملے میں معلومات کے لئے اپنے گھر اور سوشل سرکل میں موجود بائیولوجسٹس اور ڈاکٹرز پر انحصار کرتی ہوں۔ البتہ میں اتنا کہہ بتا سکتی ہوں کہ پوری پوری کتابیں اس مفروضے پر موجود ہیں۔ آپ میری بات سے متفق ہونے یا نہ ہونے یا یقین کرنے یا نہ یقین کرنےکا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

جہاں تک آپ کے آخری سوال کا تعلق ہے تو جس کو خدا کو ماننا ہوگا وہ مانے گا اور جس کو نہیں ماننا ہوگا وہ نہیں مانے گا۔ میرے نزدیک اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

:) بھائی امپورٹڈ موجودات ہم پڑھنے پر اس لئے مجبور ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں کی اپنی کوئی ریسرچ نہیں ہے۔ سائنسی میدان میں ساری ریسرچ غیر مسلموں کی ہی ہے۔ آپ بے شک یقین نہ کریں پر ریسرچ اسی بنیاد پر ہی ہو رہی ہے اور وہ ریسرچ نتائج بھی دے رہی ہے۔ آپ این سی بی آئی پر ریسرچ پیپرز پڑھ لیجئے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی کتاب دیکھ لیں بائیولوجیکل سائنسز کی، ان میں بنیاد یہی ہے۔

ایک مثال آپ کو بہت آسان سی دینا چاہوں گی۔ جتنی بھی ڈرگز دیزائن کی جاتی ہیں ان کو پہلے چوہے پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ physiology اور genetically انسان سے ملتا جلتا ہے۔ اوسطاً 85% genomes چوہے اور انسان کے ملتے جلتے ہیں اور کچھ جینز ۹۹ فیصد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اس بنیاد پر چوہے پر کئے گئے ڈرگ ٹیسٹس بتاتے ہیں کہ کوئی ڈرگ کتنے فیصد کامیاب رہے گی انسان کے لئے۔ اسی طرح بندروں سے cell line بنتی ہے جس پر وائرس کو grow کر کے ریسرچ ہوتی ہے اور ویکسسین بنتی ہے اور دوائیں بنتی ہیں۔ انسانوں پر بہت بعد میں ٹرائل ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ارتقاء کی تعریف پر ہی چل رہا ہے۔ ارتقاء کی تعریف صرف ایک جاندار کو دوسرے جاندار میں تبدیل ہونے کے بارے میں نہیں بتاتی ہے بلکہ جانداروں میں مماثلت کو پڑھنے میں مدد دیتی ہے۔

دوسری بات اگر رد میں جو کتابیں آپ کے زیرِ مطالعہ ہیں ان کا لنک ضرور دیجئے گا۔ اور اگر ان کی بنیاد پر واقعی کوئی ریسرچ دنیا میں ہو رہی ہے اور وہ کامیاب ہے تو اس کے بارے میں بھی بتائیے گا :)
چوہوں والی بات پر بعد میں بات ہوگی۔

یہاں پر بھی کہیں کہیں ایسا سمجھا جاتا ہے :) ہر جگہ ارتقاء کو مان لیا جاتا ہے لیکن انسان کے بندر سے آنے پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔ اساتذہ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہمارا جو ایمان ہے وہ اپنی جگہ ہے لیکن آپ لوگ پڑھ لیجئے :) اور سب پڑھتے بھی ہیں اور باہر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی روانہ ہوتے ہیں۔ جو کتابوں میں درج ہے اسی کا ٹیسٹ ہوتا ہے جب آپ باہر جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہرحال کوئی چارہ ہے نہیں کیونکہ سیکھنا تو ان سے ہی پڑے گا جن کے یہاں زور و شور سے سائنسی ریسرچز ہو رہی ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ اسلئے چاہے کوئی دل ہی دل میں انسان کے معاملے میں ان تھیوریز سے انکار کرتا ہو لیکن پڑھنے پر مجبور ضرور ہے اور پڑھتا بھی ہے۔

میں نے میٹرک میں بائیولوجی ہی لی تھی۔ کتاب میں صرف دو یا تین پیرا تھے ارتقاء کے اوپر۔ دو لائنوں میں اساتذہ پڑھاتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔ باقی شہروں کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی کہ کتنا پڑھایا جاتا ہے۔

ابھی بہن سے پوچھا ہے کہ انٹر میں کتنا مواد تھا تو اس کا کہنا ہے ایک دو چیپٹرز تھے اور ان سے پیپر میں زیادہ سوالات آتے نہیں تھے تو اساتذہ زیادہ توجہ دیتے نہیں تھے۔

اصل میں تو جو افراد یونیورسٹی لیول پر بائیولوجیکل سائنسز پڑھتے ہیں تو ہی ارتقاء سے ٹھیک طرح متعارف ہوتے ہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
پھر تو آپ plate tectonics سے بھی منکر ہوں گے؟

تھیوری کا ترجمہ نظریہ صریحاً غلط ہے۔ سائنٹیفک تھیوری کے معنی خاص ہیں
نظریہ اور قانون میں فرق ہے؛ ہم تو سائنسی تناظر میں یہی پڑھتے چلے آئے۔ آپ مزید وضاحت کر دیجیے تو ہمیں خوشی ہو گی۔ نظریے کو تھیوری کہہ دینے سے شاید بات نہ بنے گی۔
 

آصف اثر

معطل
تھیوری مفروضے کا دوسرا نام بھی ہے۔
ذرا ایک دلچسپ تعریف مع مثال ملاحظہ کیجیے:
a supposition or a system of ideas intended to explain something, especially one based on general principles independent of the thing to be explained.
"Darwin's theory of evolution"​
اب Supposition کے معنی بھی:
a belief held without proof or certain knowledge; an assumption or hypothesis.​
کیا اب بھی کوئی شک باقی رہتا ہے۔
 
آخری تدوین:

سین خے

محفلین
میں نے آئندہ کے لحاظ سے خیال رکھنے کا کہا ہے۔


کیا یہ آپ کے سائنٹفک پروف ہیں:







چوہوں والی بات پر بعد میں بات ہوگی۔

میرا اب واقعی موڈ بن گیا تھا کہ میں آپ کو درجہ بندی دے ہی دوں لیکن خیر میرا دل ہے کہ یہ موضوع کچھ اور آگے چلے۔

اب یہ کرنا کافی مشکل ہے کہ میں اپنے ہر مراسلے کے لئے جواب دینے لگ جاوَں کہ کونسے مراسلے سائنٹفک تھے اور کونسے نہیں تھے۔ آپ کا جو دل چاہے سمجھئے۔ مہربانی آپ کی!
 

آصف اثر

معطل
میرا اب واقعی موڈ بن گیا تھا کہ میں آپ کو درجہ بندی دے ہی دوں لیکن خیر میرا دل ہے کہ یہ موضوع کچھ اور آگے چلے۔

اب یہ کرنا کافی مشکل ہے کہ میں اپنے ہر مراسلے کے لئے جواب دینے لگ جاوَں کہ کونسے مراسلے سائنٹفک تھے اور کونسے نہیں تھے۔ آپ کا جو دل چاہے سمجھئے۔ مہربانی آپ کی!
بِلا تبصرہ۔
 

جاسم محمد

محفلین
مسئلہ پھر وہی ہے کہ ایک نوع ”کب“ یعنی کِن حدود کو کراس کرکے دوسرے ”نوع“ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
یہ سوال بہت اہم اور کلیدی نوعیت کا ہے۔
بیالوجی یا علم حیاتیات میں نوع کی تعریف یہ ہے:
Capture.jpg

یعنی جو حیوانات آپس میں اولاد پیدا کر سکتے ہیں وہ ایک نوع ہیں۔ بیشک ان کی ظاہری رنگت، جسامت آپس میں نہ ملتی ہو۔
جب حیوانات کا ایک گروپ ارتقا کے مراحل سے گزر کر آپس میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو نئی نوع کا جنم ہوتا ہے۔
 

فہد اشرف

محفلین
لڑی یکطرفہ جا رہی ہے عنوان میں دو نظریات کا ذکر ہوا ہے دونوں پہ بات ہونی چاہیے بلکہ دونوں گروپ کو اپنے اپنے نظریے کے حق میں ثبوت فراہم کرنا چاہیے پھر انہیں ثبوت کے بنیاد پہ فیصلہ ہونا چاہیے۔
 
لڑی یکطرفہ جا رہی ہے عنوان میں دو نظریات کا ذکر ہوا ہے دونوں پہ بات ہونی چاہیے بلکہ دونوں گروپ کو اپنے اپنے نظریے کے حق میں ثبوت فراہم کرنا چاہیے پھر انہیں ثبوت کے بنیاد پہ فیصلہ ہونا چاہیے۔
دوسرے حضرات دوسری جگہوں پر مصروف عمل ہیں۔ :)
 

آصف اثر

معطل
بیالوجی یا علم حیاتیات میں نوع کی تعریف یہ ہے:
Capture.jpg

یعنی جو حیوانات آپس میں اولاد پیدا کر سکتے ہیں وہ ایک نوع ہیں۔ بیشک ان کی ظاہری رنگت، جسامت آپس میں نہ ملتی ہو۔
جب حیوانات کا ایک گروپ ارتقا کے مراحل سے گزر کر آپس میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو نئی نوع کا جنم ہوتا ہے۔
آپ کے الفاظ میں:
جو جاندار آپس میں Sexual Reproduction کرسکے تو وہ ایک ہی اسپیشئز ہوں گے، مگر یہی اصول خود ڈاروِن کے جیوسپیزا نے ہی تھوڑ دیا ہے۔۔۔!
ڈاروِن کے چار میں سے دو اسپیشئز Geospiza fortis اور Geospiza scandens تیسرے اسپیشئز Geospiza magnirostris کے ساتھ Interbreed کرسکتے ہیں۔ یہاں تو ڈاروِن ہی غلط ہوگیا۔
اسی طرح بیکٹیریا آپس میں تولد ہی نہیں کرسکتے بلکہ وہ غیرجنسی تولید Asexual Reproduction کے ذریعے نسل بڑھاتے ہیں۔ اب آپ بتائیں ارتقا کے مفروضے کو کس بحراعظم میں پھینکنا چاہیے۔
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
انسان کا پوٹینشل یا ممکنہ صلاحیت یا پھر ایک اور طرح سے کہا جائے تو شعوری قوت اس قدر زیادہ ہے کہ دوسرے جاندار یا حیوانات اس کے آس پاس بھی نہیں پھٹک سکتے۔ دیگر جانداروں کے پاس سوچنے سمجھنے کی اس ناقابل یقین اور حیرت انگیز صلاحیت کا عشرِ عشیر بھی موجود نہیں ہے اور جو کچھ دیگر جانداروں کو اُن کی فطری جبلتوں سے ہٹ کر 'سکھایا'جا رہا ہے، وہ بھی انسانی کمال ہے۔ ہم اگر اس بنیاد پر انسان کے معاملے کو الگ دیکھیں تو اس میں بظاہر اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ سائنس دان جس روش پر گامزن ہیں، ان کو اس سے ہٹانا بھی غلط ہے۔ وہ اپنے انداز سے کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف ہیں تاہم ایک نظریے کی بنیاد پر انسان کو کُلی طور پر حیوانوں کی صف میں کھڑا کرنا بھی انتہاپسندانہ روش معلوم ہوتی ہے۔ انسان اپنے 'حیوانی'وجود کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اور اس بناء پر اسے امتیازی مقام حاصل ہے جس کی طرف مذاہب واضح اشارے فراہم کرتے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انسان ہزاروں سالوں سے گھوڑے اور گدھے کے ملاپ سے بچے پیدا کرتا آ رہاہے۔ جو کہ بظاہر الگ انواع ہیں۔
مسئلہ وہی ہے کہ یہ نئی نسل آگے سے بھانجھ ہوتی ہے۔ ماہرین حیاتیات کے نزدیک نئی نوع وہ ہے جو اپنی سابقہ نسلوں سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ آگے سے خود اولاد بھی پیدا کر سکے۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انسان ہزاروں سالوں سے گھوڑے اور گدھے کے ملاپ سے بچے پیدا کرتا آ رہاہے۔ جو کہ بظاہر الگ انواع ہیں۔
مسئلہ وہی ہے کہ یہ نئی نسل آگے سے بھانجھ ہوتی ہے۔ ماہرین حیاتیات کے نزدیک نئی نوع وہی ہے جو اپنی سابقہ نسلوں سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ آگے سے خود اولاد بھی پیدا کر سکے۔
گویا 'نئی'نوع والا معاملہ 'فی الوقت' ڈانواں ڈول ہے اور اس میں 'تشکیک'کا عنصر پایا جاتاہے یعنی کہ سائنس کی رُو سے بھی اس ذیل میں حتمیت اور قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
 
Top