فرقان احمد

محفلین
اس لڑی میں آپ ہمیں اپنے پسندیدہ ملی نغموں کے بارے میں بتلا پائیں گے۔ زیادہ بہتر یہی ہے کہ نغمے کے ساتھ ساتھ اس کے بول بھی لکھ دیے جائیں تاکہ جو کوئی گنگنانا چاہے، تو اسے آسانی رہے۔ :)

لیجیے، ہم آغاز کیے دیتے ہیں۔

اے میرے پیارے وطن
اے وطن پیارے وطن

تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پرنُور
عزم میرا ہے قوی، میرے ارادے ہیں غیور
میری ہستی میں انا ہے، میری مستی میں شعور
جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
اے میرے پیارے وطن

تو دل افروز بہاروں کا تر و تازہ چمن
تو مہکتے ہوئے پھولوں کا سہانا گلشن
تو نواریز انادل کا بہاریں مسکن
رنگ و آہنگ سے معمور ترے کوہ و دمن
اے میرے پیارے وطن

میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار
میرا سینہ تیری حُرمت کا ہے سنگین حصار
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہء تن
اے میرے پیارے وطن

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن
اے میرے پیارے وطن
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا

یہ دُھوپ اِس کی ،یہ چھاؤں اِس کی ہماری دولت
ہماری دولت
یہ خاکِ پاک اِس کی اپنی عِزّت ہے اپنی عظمت
ہے اپنی عظمت
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا

وقار اِس کا کبھی نا کم ہو
یہ سبز پرچم تمام عالم میں مُحترم ہو
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا

وطن سے ہم ہیں، وطن ہے ہم سے
خیال رکھنا
خیال رکھنا
چلو مِلا کر قدم قدم سے
خیال رکھنا
خیال رکھنا
 

یوسف سلطان

محفلین
جب ہم نے خدا کا نام لیا ، اس نے ہمیں انعام دیا
میرا انعام پاکستان
پاکستان ، پاکستان
میرا پیغام پاکستان
پاکستان ، پاکستان
محبت امن ہے اور اس کا ہے پیغام پاکستان
خدا کی خاص رحمت ہے ، بزرگوں کی بشارت ہے
کئی نسلوں کی قربانی ، کئی نسلوں کی محنت ہے
اثاثہ ہے جیالوں کا ، شہیدوں کی امانت ہے
تعاون ہی تعاون ہے ، محبت ہی محبت ہے
جبھی تاریخ نے رکھا ہے اس کا نام پاکستان
اندھیروں کو مٹائے گا ، اُجالا بن کے چھائے گا
یہ خطہ انقلابی ہے ، نئی دنیا بنائے گا
اگر اللہ نے چاہا زمانہ وہ بھی آئے گا
جہاں تک وقت جائے گا اسے آگے ہی پائے گا
ندا قائد کی ہے ، اقبال کا انعام پاکستان
پاکستان پاکستان
پاکستان پاکستان
میرا انعام پاکستان
میرا پیغام پاکستان
محبت امن ہے اور اس کا ہے پیغام پاکستان
 
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں

اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو

یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
 

با ادب

محفلین
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے، قدم قدم آباد

تیرا ہر اِک ذرّہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دَم سے شان ہماری تُجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دُنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تُجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تُجھے، قدم قدم آباد

دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا قدم قدم پر گِیت رے
بستی بستی تیرا چرچا نگر نگر اے مِیت رے
جب تک ہے یہ دُنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تُجھے، قدم قدم آباد

تیری پیاری سج دھج کی ہم اتنی شان بڑھائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گُن گائیں
جب تک ہے یہ دُنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تُجھے، قدم قدم آباد
 

با ادب

محفلین
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے

کتنی حسیں پیار کی یہ زمیں ہے
اس کا زمانے میں ثانی نہیں ہے
پیارا ہے اپنی دھرتی کا چہرہ
دنیا کے ہر دلربا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

اپنے وطن کی وہ آب و ہوا ہے
سب کے لئے جو پیامِ شفا ہے
سب روگ اپنے روح و بدن کے
مٹتے ہیں اس کی صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

ہم نے کسی کی طرف کم ہی دیکھا
چمکائی خود اپنے ہاتھوں کی ریکھا
ہم کو وطن کی لُو بھی ہے پیاری
غیروں کی بادِ صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے
 
اے وطن کے سجیلے جوانوں
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں
اے وطن کے سجیلے جوانوں
سرفروشی ہے ایماں تمہارا
جُرائتوں کے پرِستار ہو تم
جو حِفاظت کرے سرحدوں کی
وہ فَلک بوس دیوار ہو تم
اے شجاعت کے زِندہ نِشانوں
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں
اے وطن کے سجیلے جوانوں
بیویوں، مائوں، بہنوں کی نظریں
تُم کو دیکھیں تو یوں جَگمَگائیں
جَیسے خاموشیوں کی زباں سے
دے رہی ہوں وہ تُم کو دعائیں
قوم کے اے جَری پاسبانوں
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں
اے وطن کے سجیلے جوانوں
تُم پہ جو کچھ لِکھا شاعروں نے
اُس میں شامِل ہیں آواز میری
اُڑ کر پہنچوں گے تُم جَس اُفَق پر
ساتھ جائے گی پرواز میری
چاند تاروں کے اے راز دانوں
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں
اے وطن کے سجیلے جوانوں
شاعر: جمیل الدین عالی
 
آخری تدوین:
ویسے تو ملی نغمے تو سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔لیکن اس کی کیا بات ہے ۔یہ بادشاہ ہے۔
پاک سر زمین شاد باد ۔۔۔ کشور حسین شاد باد
تونشان عزم عالی شان ۔۔۔ ارض پاکستان
مرکز یقین شاد باد۔
پاک سر زمین کا نظام ۔۔۔ قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت ۔۔۔ پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد۔
پرچم ستارہ و ہلال ۔۔۔ رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال ۔۔۔ جان استقبال
سایہء خدائے ذو الجلال۔
حفیظ جالندھری۔
 
یہ وطن تمہارا ہے
تم ہو پاسپان اس کے
یہ چمن تمہارا ہے
تم ہو نغمہ خواں اس کے
یہ وطن تمہارا ہے
تم ہو پاسپان اس کے

اس چمن کے پھولوں پر
رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر زرہ
آفتاب تم سے ہے
یہ فضاء تمہاری ہے
بحرو بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ سارے
رہگزر تمہارے ہیں
یہ وطن تمہارا ہے
تم ہو پاسپان اس کے

اس زمین کی مٹی میں
خون ہے شہیدوں کا
ارض پاک مرکز ہے
قوم کی امیدی کا
نظم وضبط کو اپنا
میر کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں
اپنا آپ پہچانو
یہ وطن تمہارا ہے
تم ہو پاسباں اس کے۔
 

فرقان احمد

محفلین
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن

ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ

ﺗﯿﺮﺍ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺫﺭﮦ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﺎﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ

ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﭘﯿﺎﺭ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﺍ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﮔﯿﺖ ﺭﮮ
ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﭘﯿﺎﺭ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﺍ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﮔﯿﺖ ﺭﮮ
ﺑﺴﺘﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮕﺮ ﻧﮕﺮ ﺍﮮ ﻣﯿﺖ ﺭﮮ
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺳﺞ ﺩﮬﺞ ﮐﯽ ﮨﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﺷﺎﻥ ﺑﮍﮬﺎﺋﯿﮟ
ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺴﻠﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﮯ ﮔﻦ ﮔﺎﺋﯿﮟ
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﺠﮭﮯ
 

La Alma

لائبریرین
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے
میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے
میرے مزدور اس دور کے کوہ کن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

میرے فوجی جواں جراتوں کے نشاں
میرے اہلِ قلم عظمتوں کی زباں
میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

میری سرحد پہ پہرہ ہے ایمان کا
میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا
میرا اک اک سپاہی ہے خیبر شکن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

میرے دہقاں یونہی ہل چلاتے رہیں
میری مٹی کو سونا بناتے رہیں
گیت گاتے رہیں میرے شعلہ بدن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن​
 

محمد وارث

لائبریرین
ایک اور

لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ جس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح
کہنے کو ناتواں ہے محمد علی جناح
:)
 

فرقان احمد

محفلین
ایک اور

لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ جس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح
کہنے کو ناتواں ہے محمد علی جناح
:)

ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح

صد شکر پھر ہے گرمِ سفر اپنا کارواں
اور میرِ کارواں ہے، محمد علی جناح

بیدار مغز، ناظم اسلامیانِ ہند
ہے کون؟ بے گُماں ہے، محمد علی جناح

تصویرِ عزم، جانِ وفا، روحِ حُریت
ہے کون؟ بے گماں ہے محمد علی جناح

رکھتا ہے دل میں تاب و تواں نو کروڑ کی
کہنے کو ناتواں ہے، محمد علی جناح

رگ رگ میں اِس کی ولولہ ہے حُبِ قوم کا
پیری میں بھی جواں ہے، محمد علی جناح

لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ جس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح

ملت ہوئی ہے زندہ پھر اس کی پکار سے
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناح

غیروں کے دل بھی سینے کے اندر دہل گئے
مظلُوم کی فُغاں ہے محمد علی جناح

اے قوم! اپنے قائد اعظم کی قدر کر
اِسلام کا نشاں ہے محمد علی جناح

عمر دراز پائے، مسلماں کی ہے دعا
ملت کا ترجماں ہے محمد علی جناح
 
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا
یہ دُھوپ اِس کی ،یہ چھاؤں اِس کی ہماری دولت
ہماری دولت
یہ خاکِ پاک اِس کی اپنی عِزّت ہے اپنی عظمت
ہے اپنی عظمت
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا
وقار اِس کا کبھی نا کم ہو
یہ سبز پرچم تمام عالم میں مُحترم ہو
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا
خیال رکھنا
وطن سے ہم ہیں، وطن ہے ہم سے
خیال رکھنا
خیال رکھنا
چلو مِلا کر قدم قدم سے
خیال رکھنا
خیال رکھنا
 

یوسف سلطان

محفلین
تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو
اس سے تیری آبرو ہے اس سے میری آبرو
اس سے تیرا نام ہے اس سے میری پہچان ہے

اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

اک دیارِ نورونگہت وادئی مہران ہے
نور آنکھوں کا میری خاکِ بلوچستان ہے
دل ہے سرحد کی زمین، پنجاب جسم و جان ہے

اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

یہ میرے قائد کی جیتی جاگتی تصویر ہے
شاعرِ مشرق کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے
یہ وطن پیارا وطن سرمایائے ایمان ہے

اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے
 
images

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
ایک چمن کے پھول ہیں سارے ، ایک گگن کے تارے
ایک گگن کے تارے
ایک سمندر میں گرتے ہیں سب دریاؤں کے دھارے
سب دریاؤں کے دھارے
جدا جدا ہیں لہریں ، سرگم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
ایک ہی کشتی کے ہیں مسافر اک منزل کے راہی
اک منزل کے راہی
اپنی آن پہ مٹنے والے ہم جانباز سپاہی
ہم جانباز سپاہی
بند مٹھی کی صورت قوم ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
پاک وطن کی عزت ہم کو اپنی جان سے پیاری
اپنی جان سے پیاری
اپنی شان ہے اس کے دم سے ، یہ ہے آن ہماری
یہ ہے آن ہماری
اپنے وطن میں پھول اور شبنم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں
 

سید عمران

محفلین
یہ چاند تارے کا جھلملاتا نیارا پرچم
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
عطائے رب کریم پرچم

ہماری عظمت کا پاسباں ہے
ہماری ملت کا ترجماں ہے
ہمارے احساس کا بیاں ہے
ہماری رفعت کا آسماں ہے
عظیم ملت عظیم پرچم
عطائے رب کریم پرچم

فضا میں نغمے لُٹا رہا ہے
شعور ِ ملت جگا رہا ہے
دل و نظر میں سما رہا ہے
تمام عالم پہ چھا رہا ہے
برنگِ موجِ نسیم پرچم
عطائے رب کریم پرچم

یہی نشانِ حشم ہمارا
یہی ہے ابر کرم ہمارا
یہ جاں ہماری، یہ دم ہمارا
رہے گا اُونچا علَم ہمارا
علَم ہمارا عظیم پرچم
عطائے رب کریم پرچم
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان

ایسی زمین اور آسماں
ان کے سوا جانا کہاں
بڑھتی رہے یہ روشنی
چلتا رہے یہ کارواں
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان

دل دل سے ملتے ہیں تو پیار کا چہرا بنتا ہے
چہرہ بنتا ہے
پھول اک لڑی میں پروئیں تو پھر سہرا بنتا ہے
چہرہ بنتا ہے
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان

گھر اپنا تو سب کو جی جان سے پیارا لگتا ہے
تارا لگتا ہے
ہم کو بھی اپنے ہر ارمان سے پیارا لگتا ہے
تارا لگتا ہے
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان

(نثار ناسک)
 
Top