سیما علی

لائبریرین
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
 

سیما علی

لائبریرین
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
 

سیما علی

لائبریرین
ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا
دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غمگسار تھا، نہ رہا
 
گھر کے دالان! سدا وسعتیں آباد کہ تم
ایک کونے کی اذیت کو کہاں سمجھو گے
سینکڑوں لوگ میسر ہیں رفاقت کے لیے
تم '
نہ ہونے' کی اذیت کو کہاں سمجھو گے

کومل جوئیہ
 
Top