سید شیرازی

محفلین
یہ بھی ممکن ہےکسی روز نہ پہچانوں اُسے
وہ جو ہربارنیا بھیس بدل لیتا ہے
بارہا مُجھ سے کہا تھا مرے یاروں نے وصی
عِشق دریا ہے جو بچوں کو نگل لیتا ہے

وصی شاہ
 

طارق شاہ

محفلین
جب اُس پری جمال کا زانوں ہو زیرِ سر
کیا آرزوئے تختِ سلیماں کرے کوئی

ڈر ہے بِکھر نہ جائے در و بَستِ زندگی
زُلفوں کو اِس طرح نہ پریشاں کرے کوئی



حُسین انجُم
 

طارق شاہ

محفلین
جب کلمہ گو بھی کفر کے فتوے کی زد پہ ہو
کافر کو کِس غرض سے مسلماں کرے کوئی

جب سر بُریدگی ہو علامت حیات کی
کیونکر نہ پیرویِ شہیداں کرے کوئی



حُسین انجُم
 

طارق شاہ

محفلین
کب تک کوئی طوفان اُٹھانے کے نہیں ہم
بے صرفہ تو اب جان سے جانے کے نہیں ہم

معلوم ہے خمیازۂ حسرت ہمیں، یعنی
کھو بیٹھیں گے خود کو تمہیں پانے کے نہیں ہم

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
 

طارق شاہ

محفلین
ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی

اللہ کرے، میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی

ابنِ انشا
 

طارق شاہ

محفلین
دل بستگی اُس کوچے میں ایسی ہے بشر کی
دیوانہ بھی، پھر جانبِ صحرا نہیں جاتا

داغ دہلوی
 

طارق شاہ

محفلین
مُدّت سے تو دِلوں کی مُلاقات بھی گئی
ظاہر کا پاس تھا، سو مدارات بھی گئی

پِھرتے ہیں میر خوار کوئی پُوچھتا نہیں
اِس عاشقی میں عزّتِ سادات بھی گئی

میر تقی میر
 

طارق شاہ

محفلین
یہ اصل زندگی ہے، یہ جانِ حیات ہے
حُسنِ مذاق، شورشِ سَودا کہیں جسے

اِس ہولِ دل سے گرم روِ عرصۂ وجُود
میرا ہی کچُھ غُبار ہے، دُنیا کہیں جسے

اصغر گونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین
ہجومِ شوق میں اب کیا کہوں میں، کیا نہ کہوں
مجھے تو خود بھی نہیں اپنا مُدّعا معلوم

معاملہ نگہِ ناز سے ہے اَے اصغر
بہانۂ الم و حیلۂ قضا معلوم

اصغر گونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین
بشر ہُوں میں فرشتہ کیوں بنوں؟ جیسا ہوں اچّھا ہُوں
بغاوت اپنی فطرت سے، نصیبِ دشمناں، کیوں ہو

یاس یگانہ چنگیزی
 

طارق شاہ

محفلین
دوڑتے پھرتے تھے جلوے اُن کے موج نُور میں
دُور سے ہم رازِ شمعِ انجمن دیکھا کئے

اصغر گونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن!
اب شہرمیں تیرے، کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین
دیوارِ شب اور عکسِ رُخ یار سامنے
پھر دل کے آئینے سے لہو پُھوٹنے لگا

پھر وضع احتیاط سے دُھندلا گئی نظر
پھر ضبطِ آرزو سے بدن ٹوٹنے لگا

فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین
سورج نِکلا، رنگ رچے
کرنوں کے قدموں کے تلے

سُوکھی گھاس پہ کِھلتے ہوئے
پیلے پیلے پُھول ہنْسے

مجید امجد
 

طارق شاہ

محفلین
بڑے سلیقے سے دُنیا نے میرے دل کو دیئے
وہ گاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکہ بھی

مجید امجد
 
Top