کاشفی

محفلین
رنگ لاتا ہے لہو دوستوں مظلوموں کا، حال ہر حال میں ظالم کا برا ہوتا ہے
آپ ہر دور کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں، ظلم جب حد سے گزرتا ہے فنا ہوتا ہے

(منظر بھوپالی)
 

جاسمن

لائبریرین
میں جب چھوٹی تھی تو اکثر کھلونے ٹوٹ جاتے تھے‎.‎میرے رونے په ماں آ کر کھلونے جوڑ جاتی تھی‎ ‎‏ ‏‎ ..................................................‎‏ سنا هے ماں سے بھی زیاده تجھے الفت هے بندوں سے. تو آ کے جوڑ دے یا رب،میں خود کو توڑ بیٹھی هوں
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

مجھ کو یہ آرزُو، وہ اُٹھائیں نقاب خود !
اُن کو یہ اِنتظار، تقاضا کرے کوئی

مجاز لکھنوی
(اسرار الحق مجاز)
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

تمھیں دانِستہ محفِل میں جو دیکھا ہو تو مُجرم ہُوں !
نَظر آخِر نَظر ہے، بے اِرادہ اُٹھ گئی ہوگی

سیماب اکبر آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

بجا کہ اُس بیوفا کے در پر، کبھی نہ جائیں گے آپ، اختر!
خطا مُعاف آپ یہ تو کہیے، کہ دِل پہ کُچھ اِختیار بھی ہے

اختر شیرانی
 

کاشفی

محفلین
آگے بڑھنا ہے تو آوازیں سنی جاتی نہیں
راستہ دینے کا مطلب ہے کہ خود پیچھے رہو

(وسیم بریلوی)
 
Top