طارق شاہ

محفلین

غنیمت ہے جہانِ عاشقی میں ذات دونوں کی
کہ نامِ جور قائم تم سے ہے رسمِ وفا مجھ سے

حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین

دل میں اِک بُوند لہو کی نہیں ، رونا کیسا
اب ٹپکتا نہیں آنکھوں سے گُلستاں کوئی

اب اِسے ہوش کہوں یا کہ جنُوں ، اے اصغر
مجھ کو ہر تار میں مِلتا ہے ، گریباں کوئی

اصغرگونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین

اُس کی نِگاہِ ناز نے چھیڑا کُچھ اِس طرح
اب تک اُچھل رہی ہے رگِ جانِ آرزُو

اُس نَو بہارِ ناز کی صُورت کی ہُو بَہُو
تصویر ایک ہے ، تہِ دامانِ آرزُو

اصغرگونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین

مِلیں بھی وہ ، تو کیونکرآرزُو برآئی گی دِل کی !
نہ ہوگا خُود خیال اُن کو ، نہ ہوگی اِلتجا مُجھ سے

حسرت موہانی
 

طارق شاہ

محفلین

میرے سمیت زمیں پر کوئی چاروں اَور نہیں
خاموشی ہے ، تنہائی ہے ، اور خُدا کی ذات

کبھی کبھی فرزانے پن کو اچھا لگتا ہے !
جان بُوجھ کر سر ٹکرانا دیواروں کے سات


شہزاداحمد
 

طارق شاہ

محفلین

اِک خیالِ خام میں مسحُور کر رکھّا مجھے
خود پرستی نے ، جہاں سے دُور کر رکھّا مجھے

تِیرگِی اطراف میں بے حد تھی لیکن ، اے منیر !
سِحرِ غم نے اُس میں مثلِ نُور کر رکھّا مجھے

منیر نیازی
 

طارق شاہ

محفلین

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نِکلتے
ہم چاند اُٹھائے ہُوئے پانی سے نِکلتے

مُہلت ہی نہ دی گردشِ افلاک نے ہم کو
کیا سِلسِلۂ نقل مکانی سے نِکلتے

شاید کہ سلیم امن کی صُورت نظر آتی
ہم لوگ اگر شعلہ بیانی سے نکلتے

سلیم کوثر
 

طارق شاہ

محفلین

سبھی کا دُھوپ سے بچنے کو سرنہیں ہوتا
ہر آدمی کے مُقدّر میں ، گھر نہیں ہوتا

میں اُس مکان میں رہتا ہُوں اور زندہ ہُوں
وسیم ! جس میں ہَوا کا گُزر نہیں ہوتا

وسیم بریلوی
 

طارق شاہ

محفلین

کبھی ہم سے یُوں بھی خطاب ہو ، نہ آپ ہو، نہ جناب ہو
کوئی نام لے کے پُکار لو ، کہ ہمارا نام کوئی تو ہو

باقر زیدی

 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

یہ اکیلا پَن، اُجاڑ گھر ، یہاں یار کوئی ، نہ آشنا !
کوئی ساتھ ہو تو مزہ بھی ہے ، کہ شریک جام کوئی تو ہو

باقر زیدی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

سفر عزیز ہَوا کو، مگر عزیز ہمیں !
مثالِ نکہتِ گُل اُس کا ہم سفر رہنا

وزیرآغا
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

کِس کام کی بَھلا وہ دِکھاوے کی زندگی
وعدے کیے کسی سے ، گُزاری کِسی کے ساتھ

اَوروں پہ بے وفائی کا اِلزام کیا دھریں !
اپنی ہی نبھ سکی نہ بہت دن کِسی کے ساتھ

وسیم پریلوی
 

طارق شاہ

محفلین

عالم جنُون خیز ہے ، دمساز بھی نہیں !
اِک ہم نفس تو کیا ، کوئی آواز بھی نہیں

وہ خامشی بَپا ہے مِری مُشتِ خاک میں
اِک شور حشْر سا بھی ہے، آواز بھی نہیں

شفیق خلش
 
Top