طارق شاہ

محفلین

افسوس، زمانے کا عجب طور ہُوا
کیوں چراغِ کہن ! نیا یہ دَور ہُوا

گردش کب تک ، نِکل چلو جلد انیس !
اب یاں کی زمیں اور ، فلک اور ہُوا

میر انیس
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

کِس عہد میں تبدیل نہیں دَور ہُوا
گہ عدل ، گہے ظُلم ، گہے جور ہُوا

الله وہی ہے، تُو نہ مُضطر ہو دبیر !
کیا غم ، جو زمیں اور فلک اور ہُوا

مرزا دبیر
 

طارق شاہ

محفلین

شطِ رنجِ دو رنگی سے ، ہیں ششدر بندے
آوارہ ہیں شہر شہر ، در در بندے

اے بندہ نواز! ہے تعجب کا محل
تو مالکِ ملک اور بے گھر بندے

مرزا دبیر
 

طارق شاہ

محفلین

جان قربان کون کرتا ہے
اپنا نقصان کون کرتا ہے

اپنی اپنی ضرورتیں ہیں میاں !
ورنہ احسان کون کرتا ہے

سجاد ہاشمی
 

اوشو

لائبریرین
زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من
 

طارق شاہ

محفلین

غم ہے یا خوشی ہے تُو
میری زندگی ہے تُو

آفتوں کے دَور میں
چین کی گھڑی ہے تُو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تُو

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تُو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تُو

ناصر اِس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تُو

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین


پتّھر کا وہ شہر بھی کیا تھا
شہر کے نیچے شہر بسا تھا

پیڑ بھی پتّھر، پُھول بھی پتّھر
پتّا پتّا پتّھر کا تھا

چاند بھی پتّھر، جھیل بھی پتّھر
پانی بھی پتّھر لگتا تھا

لوگ بھی سارے پتّھر کے تھے
رنگ بھی اُن کا پتّھر سا تھا

پتّھر کا اِک سانپ سُنہرا
کالے پتّھر سے لِپٹا تھا

پتّھر کی اندھی گلیوں میں
میں تجھے ساتھ لِیے پھرتا تھا

گونگی وادی گُونج اُٹھتی تھی
جب کوئی پتّھر گِرتا تھا

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین


دل سے پیہم خیال کہتا ہے
اِتنی شیریں ہے زندگی اِس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل

فیض احمد فیض
 

طارق شاہ

محفلین

فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
لُطف یہ ہے ، کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی

شہر میں ہمدمِ دیرِینہ بہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مِرے کام نہ آیا کوئی

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

کیا خبر کون سی خوشی کے لیے
دل یونہی دن گنوائے جاتا ہے

رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصر
تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

کسی جلسے میں اِک لیڈر نے یہ اعلان فرمایا
ہمارے منتری آنے کو ہیں بیدار ہو جاؤ

یکایک فلم کا نغمہ کہیں سے گونج اُٹھا تھا
"وطن کی آبرو خطرے میں ہے ہوشیار ہو جاؤ"

پاپولر میرٹھی
 

طارق شاہ

محفلین

اپنی زوجہ کے تعارف میں کہا اک شخص نے
دِل سے اِن کا مُعترف ہُوں ، زبانی ہی نہیں

چائے بھی اچھی بناتی ہیں میری بیگم ، مگر
منہ بنانے میں تو ، اِن کا کوئی ثانی ہی نہیں

انورمسعود
 

طارق شاہ

محفلین

دل کے ماروں کا نہ کرغم ، کہ یہ اندوہ نصیب
درد بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

شان الحق حقی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

کردِیا چُپ واقعاتِ دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی ، گویائی بہت

ہم نہ کہتے تھے ، کہ حالی چُپ رہو
راست گوئی میں ہے رُسوائی بہت

الطاف حُسین حالی
 
Top