عدیم ہاشمی

  1. شیزان

    عدیم ہاشمی اچھی ہے دوستوں سے شِکایت کبھی کبھی

    اچھی ہے دوستوں سے شِکایت کبھی کبھی بڑھتی ہے اِس طرح بھی محبت کبھی کبھی پہچان ہو گئی کئی لوگوں کی اِس طرح آئی ہے کام یُوں بھی ضرُورت کبھی کبھی ہوتے ہیں قُربتوں میں بھی محشر کئی بپَا آتی ہے وصل میں بھی قیامت کبھی کبھی پھر ایک بےپناہ سی شِدت کے واسطے قُربان ہم نے کی تری قُربت کبھی کبھی یُوں...
  2. شیزان

    عدیم ہاشمی شامِل تھا یہ سِتم بھی کسی کے نصاب میں

    شامِل تھا یہ سِتم بھی کسی کے نصاب میں تِتلی ملی حنُوط پُرانی کتاب میں دیکھوں گا کِس طرح سے کسی کو عذاب میں سب کے گناہ ڈال دے میرے حساب میں پھر بے وفا کو بحرِ محبت سمجھ لیا پھر دل کی ناؤ ڈُوب گئی ہے سرَاب میں پہلے گلاب اُس میں دِکھائی دیا مجھے اب وہ مجھے دِکھائی دیا ہے گلاب میں وہ رنگِ آتشیں،...
  3. شیزان

    عدیم ہاشمی کون بدلے گا تغزّل کی فضا میرے بعد

    کون بدلے گا تغزّل کی فضا میرے بعد کون آندھی میں جلائے گا دِیا میرے بعد مجھ سے بہتر تو ہوئے شعلہ نوا میرے بعد میرے جیسا نہ کوئی اور ہوا میرے بعد کون ہونٹوں سے کرئے گا تری راہوں کو سلام کون چُومے گا یہ نقشِ کفِ پا میرے بعد کون بن جائے گا مہتاب ِبرہنہ پہ گھٹا کون ڈھانپے گا تجھے مثلِ قبا میرے بعد...
  4. شیزان

    عدیم ہاشمی نہ کوئی رنگ نہ ہاتھوں میں حنا میرے بعد

    نہ کوئی رنگ نہ ہاتھوں میں حنا میرے بعد وہ مکمل ہی سیہ پوش ہُوا میرے بعد لےکے جاتا رہا ہر شام وہ پھُول اور چراغ بس یہی اُس نے کیا، جتنا جیا میرے بعد روز جا کر وہ سمندر کے کنارے چُپ چاپ ناؤ کاغذ کی بہاتا ہی رہا میرے بعد اُس کے ہونٹوں سے مرا نام نکل جاتا تھا جس نے اپنایا اُسے ،چھوڑدیا میرے بعد...
  5. دل پاکستانی

    عدیم ہاشمی کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے - عدیم ہاشمی

    کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے عین ممکن ہے اسے خود ہی خیال آجائے ہجر کی شام بھی سینے سے لگا لیتا ہوں کیا خبر یونہی کبھی شامِ وصال آ جائے گھر اسی واسطے جنگل میں بدل ڈالا ہے شاید ایسے ہی ادھر میرا غزال آ جائے دھنک ابھرے سرِ افلاک کڑی دھوپ میں بھی دشتِ وحشت میں اگر تیرا خیال آ جائے...
  6. ب

    عدیم ہاشمی اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا - عدیم ہاشمی

    اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا الٹ جاتی ہے صورت آئینے میں دکھائے گا حقیقت آئینہ کیا بہت نزدیک آتے جا رہے ہو بچھڑ جانے کا سودا کر لیا کیا بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا تہی...
  7. ب

    عدیم ہاشمی راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عدیم ہاشمی

    راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے اس نے پوچھا تو ہے اتنا، ترا حال اچھا ہے ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے ترے آنےسے کوئ ہوش رہے یانہ رہے اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئ اسے دے دے کوئ اچھی سی...
  8. ب

    عدیم ہاشمی ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے۔۔۔۔۔۔۔۔عدیم ہاشمی

    ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے گھر کے آنسو تھے مگر بر سر بازار گرے ہم ہی آنہوں سے نہیں ہار کے ناچار گرے آندھیاں جب بھی چلی ہیں کئ اشجار گرے پھر وہی خواب ، وہی طوفاں وہی دو آوازیں جیسے در پہلے گرے بعد میں دیوار گرے ایسی آواز سے دل ٹوٹ کے سینے میں گرا جیسے منجد ھار میں بھونچال سے کہسار...
  9. فاروقی

    آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آکر

    آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آکر تنہا تو تڑپنے سے بچا لے کوئی آکر صحرا میں اُگا ہوں کہ مری چھاؤں کوئی پائے ہلتا ہوں کہ پتوں کی ہوا لے کوئی آکر بِکتا تو نہیں ہوں، نہ مرے دام بہت ہیں رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا لے کوئی آکر کشتی ہوں مجھے کوئی کنارے سے تو کھولے طوفاں کے ہی کرجائے حوا لے...
  10. م

    اتنا قریب ہو گیا ، اتنے رقیب ہو گئے

    کٹ ہی گئی جدائی بھی، کب یہ ہوا کہ مر گئے تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے تُو بھی کچھ اور اور ہے، میں بھی کچھ اور اور ہوں جانے وہ تُو کدھر گیا، جانے وہ ہم کدھر گئے راہوں میں ہی ملے تھے، ہم راہیں نصیب بن گئیں تُو بھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے وہ بھی غبارِ خاک تھا،...
  11. ی

    عدیم ہاشمی فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا آئنہ تو...
  12. عمر سیف

    اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا ۔۔۔

    اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھی محفلیں میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار شام کا جھونگا، چمکتا شہر میلا کر گیا چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس میں...
  13. نوید ملک

    عدیم ہاشمی کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے - عدیم ہاشمی

    کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تیرے بھی دن گزر گئے ، میرے بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور،اور ہے ہم بھی کچھ اوراور ہیں جانے وہ تو کدھر گیا، جانے وہ ہم کدھر گئے راہوں میں ملے تھے ہم ، راہیں نصیب بن گئیں تو بھی نہ اپنے گھر گیا، ہم بھی نہ اپنے گھر گئے وہ بھی غبارِ خاک تھا، ہم بھی غبارِ...
Top