عدیم ہاشمی فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا

یونس رضا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 19, 2008

  1. یونس رضا

    یونس رضا معطل

    مراسلے:
    1,732
    فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی
    جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا

    عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا
    آئنہ تو تھا مگر اس میں ترا چہرا نہ تھا

    آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے
    آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا

    یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں
    آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا

    یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی "عدیم"
    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کہیں آپ نے " نا " لکھا ہے اور کہیں " نہ "، اس کی کوئی خاص وجہ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. یونس رضا

    یونس رضا معطل

    مراسلے:
    1,732
    جی اس کی وجہ ہے " ہماری اردو ٹاپئپنگ"
     
  4. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس غزل میں لفظ بھی آگے پیچھے ہیں -کوشش رہے گی کہ یادداشت کے سہارے صحیح لکھ سکوں

    فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    خود چڑھارکھے تھے تن پر اجنبیت کے غلاف
    ورنہ کب ایک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا

    وہ کے خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی
    جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا

    عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا
    آئینہ تو تھا مگر اس میں تیرا چہرا نہ تھا

    آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیئے
    آج میں رویا تو میرا ساتھ وہ رویا نہ تھا

    یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں
    آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا

    سینکڑوں طوفان لفظوں کے دبے تھے زیر لب
    ایک پتھر تھا خموشی کا جو ہلتا نہ تھا

    یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی "عدیم"
    بھول جانے کی سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا۔


    (عدیم ہاشمی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  5. پیاسا

    پیاسا معطل

    مراسلے:
    179
    واہ جی واہ
     
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. عمران شناور

    عمران شناور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا --- عدیم ہاشمی

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    وہ کہ خوشبو کی طرح‌پھیلا تھا میرے چار سو
    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں
    آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا

    محفلِ اہلِ وفا میں‌ہر طرح کے لوگ تھے
    یا ترے جیسا نہیں تھا یا مرے جیسا نہ تھا

    آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے
    آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا

    یاد کرکے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا
    (عدیم ہاشمی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. آصف شفیع

    آصف شفیع محفلین

    مراسلے:
    501
    خوب کلام ہے۔ شکریہ۔
     
  9. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    وہ کہ خُوشبو کی طرح‌پھیلا تھا میرے چار سُو
    میں اُسے محسوس کر سکتا تھا، چُھو سکتا نہ تھا
    رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی
    جھانک کر دیکھا گلی میں، کوئی بھی آیا نہ تھا
    یہ سبھی ویرانیاں اُس کے جُدا ہونے سے تھیں
    آنکھ دُھندلائی ہوئی تھی، شہر دُھندلایا نہ تھا
    عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا
    آئینہ تو تھا مگر اُس میں تیرا چہرا نہ تھا
    میں تیری صورت لئے سارے زمانے میں پِھرا
    ساری دُنیا میں مگر کوئی تیرے جیسا نہ تھا
    خُود چڑھا رکھے تھے تن پر اَجنبیت کے غُلاف
    ورنہ کب اِک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
    سینکڑوں طوفان لفظوں کے دبے تھے زیرِ لب
    ایک پتھر خامشی کا تھا ، جو ہٹتا نہ تھا
    محفلِ اہلِ وفا میں‌ہر طرح کے لوگ تھے
    یا ترے جیسا نہیں تھا یا مرے جیسا نہ تھا
    آج اُس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے
    آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا
    یاد کرکے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا
    مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدیم
    ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
    عدیم ہاشمی
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب
    سینکڑوں طوفان لفظوں کے دبے تھے زیرِ لب
    ایک پتھر خامشی کا تھا ، جو ہٹتا نہ تھا
    ماشا اللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محفلِ اہلِ وفا میں‌ہر طرح کے لوگ تھے
    یا ترے جیسا نہیں تھا یا مرے جیسا نہ تھا
    بہت خوب انتخابِ کلام شیزان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    وارث بھائی پہلی پوسٹ میں جو کلام ہے۔ اس کی تصحیح فرما دیجئے
    بہت سے اشعار درست نہیں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,053
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی کر دیے ہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ
    بیحد خوبصورت غزل
     
  15. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    واہ۔کیا خوبصورت کلام ہے۔
     
  16. سید اِجلاؔل حسین

    سید اِجلاؔل حسین محفلین

    مراسلے:
    152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    واہ واہ!
    رجب علی صاحب نے اسی غزل کو کیا خوبصورتی سے گایا ہے۔۔۔ کسی کے پاس mp3 file ہو تو مہربانی فرمائیں۔ آج کل یہ خزانے سننے نصیب ہی نہی ہوتے!
     
  17. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اچھی شاعری کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ اسے بارہا پڑھو تب بھی باسی نہیں لگتی۔
     

اس صفحے کی تشہیر