اتنا قریب ہو گیا ، اتنے رقیب ہو گئے

مون نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 28, 2008

  1. مون

    مون محفلین

    مراسلے:
    117
    کٹ ہی گئی جدائی بھی، کب یہ ہوا کہ مر گئے
    تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے


    تُو بھی کچھ اور اور ہے، میں بھی کچھ اور اور ہوں
    جانے وہ تُو کدھر گیا، جانے وہ ہم کدھر گئے


    راہوں میں ہی ملے تھے، ہم راہیں نصیب بن گئیں
    تُو بھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے


    وہ بھی غبارِ خاک تھا، ہم بھی غبارِ خاک تھے
    وہ بھی کہیں بکھر گیا ہم بھی کہیں بکھر گئے


    کوئی کنارِ آبجو بیٹھا ہوا ہے سرنگوں
    کشتی کدھر چلی گئی جانے کہاں بھنور گئے


    تیرے لئے چلے تھے ہم، تیرے لئے ٹھہر گئے
    تُو نے کہا تو جی اُٹھے،تُو نے کہا تو مر گئے


    وقت ہی کچھ جُدائی کا اتنا طویل ہو گیا
    دل میں تیرے فراق کے جتنے تھے زخم بھر گئے


    اتنا قریب ہو گیا ، اتنے رقیب ہو گئے
    وہ بھی "عدیم"ڈر گیا، ہم بھی "عدیم" ڈر گئے
     
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,873
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ مون! میرا خیال ہے یہ عدیم ہاشمی کی غزل ہے جیسا کہ مقطع سے بھی سراغ ملتا ہے-
     
  3. مون

    مون محفلین

    مراسلے:
    117
    شکریہ سخنور۔۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے لیکن میرے پاس شاعر کا نام نہیں وجود تھا سو لکھ نہیں سکا۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,173
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ مون صاحب، خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیئے
     
  5. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    انتہائی خوبصورت کلام شیئر کیا ہے مون صاحب۔ بہت شکریہ
     
  6. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت خوب مون ۔۔:clapp:
     
  7. مون

    مون محفلین

    مراسلے:
    117
    پسندیدگی کیلئے آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔:)
     

اس صفحے کی تشہیر