آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آکر

فاروقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 30, 2008

  1. فاروقی

    فاروقی معطل

    مراسلے:
    1,748
    آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آکر
    تنہا تو تڑپنے سے بچا لے کوئی آکر

    صحرا میں اُگا ہوں کہ مری چھاؤں کوئی پائے
    ہلتا ہوں کہ پتوں کی ہوا لے کوئی آکر

    بِکتا تو نہیں ہوں، نہ مرے دام بہت ہیں
    رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا لے کوئی آکر

    کشتی ہوں مجھے کوئی کنارے سے تو کھولے
    طوفاں کے ہی کرجائے حوا لے کوئی آکر

    میرے کسی احسان کا بدلہ نہ چکائے
    اپنی ہی وفاؤں کا صلہ لے کوئی آکر

    اتنا تو ہو، پتھرائے ہوئے اشک پگھل جائیں
    اپنا ہی مجھے درد سنا لے کوئی آکر

    گر جائیں نہ جاگی ہوئی راتیں مرے سرسے
    تھوڑا سا تو یہ بوجھ اٹھا لے کوئی آکر

    سر کو نہ عدیم آکے کوئی شخص سنبھالے
    دیوار ہی کو گرنے سے بچا لے کوئی آکر

    (عدیم ہاشمی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,173
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ فاروق صاحب، عدیم ہاشمی کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیئے!
     

اس صفحے کی تشہیر