شکیب جلالی

  1. فرخ منظور

    شکیب جلالی بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں ۔ شکیب جلالی

    بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں آغوشِ حادثات میں پائی ہے پرورش جو برق پھونک دے وہ مرا آشیاں نہیں کیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگ ہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں گھبرائیے نہ گردشِ ایام سے ہنوز ترتیبِ فصل‌ِ گل ہے یہ دورِ خزاں نہیں کچھ برق...
  2. محمد تابش صدیقی

    شکیب جلالی نظم٭ یاد

    یاد ٭ رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے ناگہاں سنگِ سرخ کی سِل پر آئینہ گر کے پاش پاش ہوا اور ننھی نکیلی کرچوں کی ایک بوچھاڑ دل کو چیر گئی ٭٭٭ شکیبؔ جلالی
  3. فرحان محمد خان

    نظم: شکیب جلالی کے لیے - بیدل حیدری

    شکیب جلالی کے لیے خود کشی جرم سہی ، جرم بھی سنگین سہی لیکن اُفتاد کی حد بھی تو کوئی ہوتی ہے مرثیہ کیوں نہ لکھوں میں ترے مرنے پہ شکیب خود کشی تو نے نہیں روحِ ادب نے کی ہے منظرِ عام پہ کھلتے ہی تری موت کا راز کئی مجھ جیسے ادب دوست پریشاں ہوں گے جب تری موت کی تاریخ لکھی جائے گی کانپ جائے گا...
  4. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی نظم : مُجرم - شکیب جلالی

    مُجرم یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے جس کے فُٹ پاتھ فقیروں سے اَٹے رہتے ہیں خَستہ کپڑوں میں یہ لپٹے ہوئے مریل ڈھانچے یہ بھکاری کے جنھیں دیکھ کے گِھن آتی ہے ہڈّیاں جسم کی نکلی ہوئی پچکے ہوئے گال میلے سر میں جوئیں ، اعضاء سے ٹپکتا ہوا کوڑھ رُوح بیمار ، بدن سست نگاہیں پامال ہاتھ پھیلائے...
  5. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی نظم : خانہ بدوش - شکیب جلالی

    خانہ بدوش یہ جنگل کی آہو یہ صحرا کے راہی تصنّح کے باغی دلوں کے سپاہی فقیری لبادے تو اندازِ شاہی یہ اکھڑ ، یہ انمول یہ بانگے سجیلے یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے مصائب سے کھیلے حوادث کے پالے ہیں روشن جبیں ، گو ہیں پاؤں میں چھالے یہ پیتے ہیں ہنس ہنس کے تلخی کے پیالے کہ جیسے کوئی مَدھ بھرا...
  6. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی دھوپ کہیں ہے، چھاؤں کہیں ہے -شکیب جلالی

    دھوپ کہیں ہے، چھاؤں کہیں ہے کوئی بھی لذت عام نہیں ہے یوں بیٹھے ہیں تھکے مسافر جیسے منزل یہیں کہیں ہے گردشِ دوراں ، توبہ! توبہ! ہم کو خدا بھی یاد نہیں ہے جس کو چاہا ، حسن میں ڈھالا تجھ سے میری آنکھ حسیں ہے اُن کی کوئی بات سناؤ جن کا مجھ سے میل نہیں ہے دوست ہیں دل میں، ذہن میں دشمن کوئی بھی...
  7. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے - شکیب جلالی

    زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے بغیرِ شکایت مصائب میں جی لے حوادث کی زد میں بڑے جا رہے ہیں مری آرزوؤں کے نازک قبیلے وہ ساتھی جسے غم سے نسبت نہیں ہے الم کو کریدے نہ زخموں کو چھیلے غرور و محبت میں تفریق دیکھو یہ سونے کی وادی یہ مٹی کے ٹیلے ہمیں دل کی ہر بات سچ سچ بتا دو بناؤ نہ باتیں ،...
  8. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا - شکیب جلالی

    رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا میرا ہر فقرہ مکمّل داستاں ہو جائے گا دھیرے دھیرے اجنبیت ختم ہو ہی جائے گی رہتے رہتے یہ قفس بھی آشیاں ہو جائے گا ہم نے حاصل کرنے چاہا تھا خلوصِ جاوداں کیا خبر تھی کوئی ہم سے بدگماں ہو جائے گا فطرتِ انساں میں ہونا چاہئے ذوقِ عمل خاک کے ذرّے سے پیدا...
  9. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں - شکیب جلالی

    میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے مصروف ہوں ابھی عمل انعکاس میں دھوکے...
  10. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی خوابِ گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا -شکیب جلالی

    خوابِ گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا آمدِ صبح شب اندام پہ رونا آیا دل کا مفہوم اشاروں سے اجاگر نہ ہوا بے کسئِ گلۂ خام پہ رونا آیا کبھی الفت سی جھلکتی ہے کبھی نفرت سی اے تعلق ترے ابہام پہ رونا آیا مری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیں جانے کیوں آج اسی نام پہ رونا آیا...
  11. فرحان محمد خان

    سلام "دلوں میں درد سا اٹھا، لیا جو نامِ حسینؓ " - شکیب جلالی

    دلوں میں درد سا اٹھا، لیا جو نامِ حسینؓ مثالِ برق ترپنے لگے غلامِ حسینؓ لبِ فرات جو پیاسے رہے امامِ حسینؓ خدا نے بھر دیا آبِ بقا سے جامِ حسینؓ رضا و صبر میں ان کا جواب کیا ہوگا کہ جب بھی تیر لگا، ہنس دیے امامِ حسینؓ غرور تیرگیِ شب کو توڑنے کے لیے تمام رات دہکتے رہے خیامِ حسینؓ فنا کا...
  12. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے-شکیب جلالی

    اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے اجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے اُس کو مذکور کہیں شکوہ محسن میں نہیں میری خودار روایات سے دُکھ پہنچا ہے دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص ایک انساں کو تری ذات سے دُکھ پہنچا ہے احتراماً مرے ہونٹوں پہ مسلط تھا سکوت اُن کے بڑھتے ہوئے شبہات سے دُکھ...
  13. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا-شکیب جلالی

    ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں پہنچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون پتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا اب کون جائے...
  14. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں - شکیب جلالی

    عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں پیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں سر پٹک کر درِ زنداں پہ صبا نے یہ کہا ہے دریچہ، نہ کوئی روزنِ دیوار یہاں عہدو پیمانِ وفا، پیار کے نازک بندھن توڑ دیتی ہے زرو سیم کی جھنکار یہاں ننگ و ناموس کے بکتے ہُوئے انمول رتن لب و رُخسار کے سجتے ہُوئے بازار یہاں سر خئی...
  15. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی ساغرِ چشم سے سرشار نظر آتے ہیں -شکیب جلالی

    شکیب کی ایک غزل ساغر صدیقی کی زمین میں ساغرِ چشم سے سرشار نظر آتے ہیں بہکے بہکے جو یہ مے خوار نظر آتے ہیں کُلفتیں آج بھی قائم ہیں قَفَس کی شاید گُلستاں حاملِ افکار نظر آتے ہیں جن پہ بےلوث محبت بھی بجا ناز کرے ایسے نایاب ہی کردار نظر آتے ہیں خود ہی آتی ہے مسرّت انہیں مژدہ دینے جو ہو اک غم کے...
  16. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی بے خودی سی ہے بے خودی توبہ

    بے خودی سی ہے بے خودی توبہ سر بہ سجدہ ہے آگہی توبہ ذہن و دل پہ ہے بارشِ انوار پی ہے مے یا کہ چاندنی توبہ دکھ کا احساس ہے نہ فکرِ نشاط پینے والوں کی آگہی توبہ ان کا غم ہے بہت عزیز مجھے چھوڑی تھی میں نے مے کشی توبہ اک جہاں بن گیا مرا دشمن آپ کا لطفِ ظاہری توبہ ہے تمہی سے شکستِ...
  17. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی غم کی تصویر بن گیا ہوں میں

    غم کی تصویر بن گیا ہوں میں ان کی توقیر بن گیا ہوں میں خوابِ پنہاں تھے آپ کے جلوے جن کی تعبیر بن گیا ہوں میں آج ہستی ہے کیوں تبسم ریز کس کی تقدیر بن گیا ہوں میں آپ چُھپ چُھپ کے مسکراتے ہیں وجہِ تشہیر بن گیا ہوں میں جو بھی ہے ہم خیال ہے میرا حسنِ تحریر بن گیا ہوں میں اب دعاؤں کو ہے مری حاجت...
  18. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی زعمِ وفا بھی ہے ہمیں عشقِ بُتاں کے ساتھ

    زعمِ وفا بھی ہے ہمیں عشقِ بُتاں کے ساتھ اُبھریں گے کیا ڈوبے ہیں سنگِ گراں کے ساتھ تنہائیوں کے کیف سے نا آشنا نہیں وابستگی ضرور ہے بزمِ جہاں کے ساتھ اے چشم تر سفینہِ دل کی تھی کیا بساط ساحل نشیں بھی بہہ گئےسیلِ رواں کے ساتھ ان ساعتوں کی یاد سے مہکا ہوا ہے دل گزری تھیں جو کسی نگہِ گُل فشاں کے...
  19. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے

    جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے ہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار ، یاد ہے پھر پھول توڑنے کو بڑھاتے ہو اپنا ہاتھ وہ ڈالیوں میں سانپ کی پُھنکار، یاد ہے وہ بے وفا کہ جس کو بھلانے کے واسطے خود سے رہا ہوں برسرِپیکار، یاد ہے اب کون ہے جو وقت کو زنجیر کر سکے سایوں سے ڈھلتی دھوپ کی تکرار یاد ہے...
  20. فرحان محمد خان

    شکیب جلالی محبت میں زباں کی بے زبانی اب بھی ہوتی ہے

    محبت میں زباں کی بے زبانی اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے سرِ محفل وہ کوئی بات بھی مجھ سے نہیں کرتے مگر تنہائہوں میں گُل فِشانی اب بھی ہوتی ہے چُھپاؤ لاکھ بے چینی کو خاموشی کے پردے میں تمہارے رُخ سے دل کی ترجمانی اب بھی ہوتی ہے ہمارا حال چُھپ کر پوچھتا تھا کوئی پہلے...
Top