اردو شاعری

  1. عاطف سعد

    زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

  2. عاطف سعد

    اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا

  3. عاطف سعد

    انسان کے بکھرے ہوئے اجزائے انا دیکھ

  4. عاطف سعد

    زندگی تجھ کو اگر وجد میں لاؤں واپس

  5. عاطف سعد

    کچھ رقص کر

  6. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::جگنُو کوئی سِتاروں کی محفِل میں کھو گیا:::::: Dr. Bashir Badr

    غزل بشیر بدرؔ جگنُو کوئی سِتاروں کی محفِل میں کھو گیا اِتنا نہ کر ملال، جو ہونا تھا ہو گیا پروردِگار! جانتا ہے تُو دِلوں کے حال مَیں جی نہ پاؤں گا، جو اُسے کُچھ بھی ہو گیا اب دیکھ کر اُسے، نہیں دھڑکے گا میرا دِل کہنا کہ، یہ سبق بھی مجھے یاد ہو گیا بادل اُٹھا تھا سب کو رُلانے کے واسطے آنچل...
  7. طارق شاہ

    شکیل بدایونی :::: عبرت آموزِ محبّت یُوں ہُوا جاتا ہے دِل - Shakeel Badayuni

    غزل شکیلؔ بدایونی عبرت آموزِ محبّت، یُوں ہُوا جاتا ہے دِل دیکھتی جاتی ہے دُنیا، ڈُوبتا جاتا ہے دِل شاہدِ نظّارۂ عالَم ہُوا جاتا ہے دِل آنکھ، جوکُچھ دیکھتی ہے، دیکھتا جاتا ہے دِل حضرتِ ناصح! بَجا ترغیبِ خُود داری، مگر اِس طَرِیقے سے کہِیں، قابُو میں آجاتا ہے دِل حشر تک وہ اپنی دُنیا کو لئے...
  8. عاطف سعد

    ابھی تو کھال ادھڑنی ہے اس تماشے میں

  9. طارق شاہ

    مرزا حامدؔ لکھنوی::::: تدبیرِ سکُونِ دِلِ ناکام نہیں ہے :::::Mirza -Hamid -Lakhnavi

    غزل مرزا حامدؔ لکھنوی تدبیرِ سکُونِ دِلِ ناکام نہیں ہے تیروں کی زبانی کوئی پیغام نہیں ہے اب کوئی علاجِ دِلِ ناکام نہیں ہے آرام کا کیا ذکر ، کہ آرام نہیں ہے سہما ہُوا دِل، دیتا ہے یہ کہہ کے ٹہوکے ! ہو جس کی سَحَر خیر سے ، وہ شام نہیں ہے شورِیدہ سَرِی پُوچھ نہ تدبِیرِ رہائی اب کام یہ...
  10. طارق شاہ

    کشور ناہؔید:::::نہ کوئی ربط، بجُز خامشی و نفرت کے:::::Kishwar -Naheed

    غزل کشور ناہیؔد نہ کوئی ربط، بجُز خامشی و نفرت کے مِلیں گے اب تو خلاصے یہی محبّت کے مَیں قیدِ جِسم میں رُسوا، تُو قید میں میری بَدن پہ داغ لیے قیدِ بے صعوبت کے عجیب بات، گریباں پہ ہاتھ اُن کا ہے جو، توشہ گیرِ تمنّا تھےحرفِ غیرت کے بس اب تو حرفِ ندامت کو ثبتِ دائم دے صَبا صفت تھے رسالے غَمِ...
  11. طارق شاہ

    کشور ناہؔید:::::سنبھل ہی لیں گے، مُسلسل تباہ ہوں تو سہی:::::Kishwar -Naheed

    کشور ناہؔید سنبھل ہی لیں گے، مُسلسل تباہ ہوں تو سہی عذابِ زِیست میں رشکِ گناہ ہوں تو سہی کہِیں تو ساحِلِ نایافت کا نِشاں ہوگا جلاکے خود کو تقاضائے آہ ہوں تو سہی مجال کیا ، کہ نہ منزِل بنے نشانِ وفا سفِیرِ خود نگراں، گردِ راہ ہوں تو سہی صدا بدشت بنے گی نہ یہ لہُو کی تپِش لہُو کے چھینٹے مگر...
  12. عاطف ملک

    دو جہاں میں اس کی وقعت ہو گئی

    خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی زمین میں ایک کاوش اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔امید ہے رائے سے آگاہ کریں گے۔ دو جہاں میں اس کی وقعت ہو گئی ایک تجھ سے جس کو نسبت ہو گئی بے خودی میں ایسی حالت ہو گئی جو کہا تیری ہی مدحت ہو گئی منکشف ہم پر حقیقت ہو گئی جس کا تُو اس کی یہ خلقت ہو گئی ہر...
  13. عاطف ملک

    اوڑھ لیں سب گلوں نے قبائیں نئی، کونپلوں پر عجب اک نکھار آگیا

    طویل بحر میں کی گئی ایک کوشش پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں،اس امید پر کہ شاید کوئی شعر احباب کو پسند آ جائے۔ اوڑھ لیں سب گلوں نے قبائیں نئی، کونپلوں پر عجب اک نکھار آ گیا بلبلوں نے خوشی کے ترانے پڑھے،جب چمن میں وہ جانِ بہار آ گیا اک گھڑی کو نظر آپ سے کیا لڑی،مجھ کو واللہ سدھ بدھ نہ کوئی رہی لوگ...
  14. عاطف ملک

    درد پیہم ہے کوئی ساعتِ راحت ہی نہیں

    ایک اور کاوش اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔امید ہے اپنی رائےسے آگاہ کریں گے۔ درد پیہم ہے کوئی ساعتِ راحت ہی نہیں میرے ہونٹوں پہ مگر حرفِ شکایت ہی نہیں کوئی خواہش نہیں دل میں کوئی حسرت ہی نہیں زندگی ایسی کہ جینے کی ضرورت ہی نہیں میں تجھے چاند جو کہتا ہوں تو سچ کہتا ہوں بخدا یوں بھی...
  15. عاطف ملک

    ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں

    ایک کاوش استادِ محترم ،دیگر اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔امید ہے احباب اپنی رائے سے نوازیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں منزلیں کیا ملیں جب راہ گزر ہے ہی نہیں سب نے سمجھایا مگر مجھ پہ اثر ہے ہی نہیں جز ترے کوئی مرے پیشِ نظر ہے ہی نہیں اپنی آنکھوں میں جلا رکھے ہیں امید...
  16. طارق شاہ

    اکبر الہ آبادی :::::دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں::::::::::Akbar -Allahabadi

    غزل اکبؔر الٰہ آبادی دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں سینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہے مُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں ہنگامۂ محشر کا تو مقصوُد ہے معلُوم دہلی میں یہ دربار ہے، معلوم نہیں کیوں جِس سے دِلِ رنجُور کو ،پہونچی ہے اذِیّت...
  17. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::کوئی دستور، یا رواج تو ہو:::::Shafiq-Khalish

    غزل کوئی دستور، یا رواج تو ہو عشقِ افزوں کا کوئی باج تو ہو کچھ طبیعت میں امتزاج تو ہو روزِ فردا کا اُن کی، آج تو ہو مُنتظر روز و شب رہیں کب تک! ماسوا، ہم کو کام کاج تو ہو بس اُمید اور آس کب تک یُوں! حاصِل اِس عِشق سے خراج تو ہو دِل تسلّی سے خوش رہے کب تک محض وعدوں کا کُچھ علاج تو ہو ہم نہ...
  18. طارق شاہ

    بشیر بدر ::::::نَظر سے گُفتگُو، خاموش لَب تمُھاری طرح:::::: Dr. Bashir Badr

    غزلِ بشیر بدر نَظر سے گُفتگُو، خاموش لَب تمھاری طرح غزل نے سِیکھے ہیں انداز سب تمھاری طرح جو پیاس تیز ہو تو ریت بھی ہے چادرِ آب دِکھائی دُور سے دیتے ہیں سب تمھاری طرح بُلا رہا ہے زمانہ، مگر ترستا ہُوں کوئی پُکارے مُجھے بے سَبَب تمھاری طرح ہَوا کی طرح مَیں بیتاب ہُوں، کہ شاخِ گُلاب لہکتی ہے...
  19. طارق شاہ

    صفیؔ لکھنوی:::::ذرّے ذرّے میں ہے جلوہ تِری یکتائ کا:::::Safi- Lakhnavi

    غزل صفؔی لکھنوی ذرّے ذرّے میں ہے جلوہ تِری یکتائ کا دِلِ اِنساں میں، جو ہو شوق شناسائ کا موت ہی قصد نہ کرتی جو مسیحائ کا کون پُرساں تھا مَرِیضِ شَبِ تنہائ کا میری خوشبُو سے ہیں، آزاد ہَوائیں لبریز عطرِ دامن ہُوں قبائے گُلِ صحرائ کا تا سَحر چشمِ تصوُّر میں رہی اِک تصوِیر دِل سے ممنُون ہُوں...
  20. عاطف ملک

    لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی

    لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی دیکھو مزاج پرسی ذرا میرے یار کی نکلی جو آج آہ دلِ دل فگار کی پہنچے گی گونج عرش تلک اس پکار کی تو پاس ہو تو سال ہے خوشیوں کی اک گھڑی اور دور ہو تو پل ہے صدی اضطرار کی جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی پہچان لیں جو حق کو تو دیتے...
Top