اردو شاعری

  1. طارق شاہ

    شاذ تمکنت شاؔذ تمکنت :::::: زادِ سفر کو چھوڑ کے تنہا نِکل گیا :::::: Shaz Tamkanat

    غزل زادِ سفر کو چھوڑ کے تنہا نِکل گیا مَین کیا وطن سے نِکلا کہ کانٹا نِکل گیا بہتر یہی تھا اپنی ہی چَوکھٹ پہ رَوکتے اب کیا پُکارتے ہو، کہ جو نِکلا نِکل گیا ہم چل پڑے کہ منزلِ جاناں قرِیب ہے سستائے ایک لمحہ کو، رستہ نِکل گیا کُچھ لوگ تھے جو دشت کو آباد کرگئے اِک ہم ہیں، جن کے ہاتھ سے صحرا...
  2. طارق شاہ

    عبدلحلیم شرؔر :::::: کیا سہل سمجھے ہو کہِیں دھبّا چھٹا نہ ہو :::::: Abdul Halim Sharar

    غزل عبدالحلیم شرؔر کیا سہل سمجھے ہو کہِیں دھبّا چھٹا نہ ہو ظالم یہ میرا خُون ہے رنگِ حِنا نہ ہو یا رب! مجھے ہے داغِ تمنّا بہت عزِیز پہلوُ سے دِل جُدا ہو ،مگر یہ جُدا نہ ہو راہیں نکالتا ہے یہی سوز و ساز کی ! پہلوُ میں دِل نہ ہو ،تو کوئی حوصلہ نہ ہو تم اور وفا کرو، یہ نہ مانُوں گا میں کبھی...
  3. طارق شاہ

    عبدالعزیز فطرتؔ ::::::اپنی ناکام تمنّاؤں کا ماتم نہ کرو :::::: Abdul Aziz Fitrat

    غزل اپنی ناکام تمنّاؤں کا ماتم نہ کرو تھم گیا دَور ِمئے ناب تو کُچھ غم نہ کرو اور بھی کتنے طرِیقے ہیں بیانِ غم کے مُسکراتی ہُوئی آنکھوں کو تو پُر نم نہ کرو ہاں یہ شمشِیر حوادِث ہو تو کُچھ بات بھی ہے گردنیں طوقِ غُلامی کے لیے خَم نہ کرو تم تو ہو رِند تمھیں محفل ِجم سے کیا کام بزم ِجم ہو گئی...
  4. طارق شاہ

    بشیر بدر :::::: آنسوؤں سے دُھلی خوشی کی طرح :::::: Dr. Bashir Badr

    غزل آنسوؤں سے دُھلی خوشی کی طرح رشتے ہوتے ہیں شاعری کی طرح دُور ہوکر بھی ہُوں اُسی کی طرح چاند سے دُور چاندنی کی طرح خوبصورت، اُداس، خوفزدہ وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح جب کبھی بادلوں میں گھِرتا ہے چاند لگتا ہے آدمی کی طرح ہم خُدا بن کے آئیں گے ورنہ! ہم سے مِل جاؤ آدمی کی طرح سب نظر...
  5. راحیل فاروق

    مار ڈالا تری محبت نے

    مار ڈالا تری محبت نے جان لے لی وفورِ نعمت نے کتنے جذبوں کے سر خرید لیے دل کی دنیا میں غم کی دولت نے خون کا رنگ آنکھ میں پکڑا عشق کی بےنشان عظمت نے جب نہ سمجھا تو سب غلط سمجھا دل کو کافر کیا ہدایت نے کیوں عزازیلِ وقت کیا گزری کیا دیا آپ کو عبادت نے عشق افسانوی ہی اچھا تھا دلکشی چھین لی حقیقت...
  6. طارق شاہ

    باؔقر زیدی ::::: خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ::::: Baquer Zaidi

    نظم اللہ جمیلُ و یحبُ الجمال (اللہ حَسِین ہے اور حُسن سے محبّت کرتا ہے) خالقِ حُسنِ کائنات ہے وہ خالقِ کُلِّ ممکنات ہے وہ خالقِ کائناتِ حُسن ہی حُسن اُس کی ذات و صِفات حُسن ہی حُسن حُسن سے مُنکشف نمودِ خُدا حُسن ہی حُسن ہے وجودِ خُدا سر بَسر حُسنِ نُورِ ذات ہے وہ صاحبِ مظہَرِ صِفات ہے وہ...
  7. عاطف ملک

    برائے اصلاح: مخمل کے بستروں میں سکوں کی طلب تجھے

    استادِ محترم جناب الف عین ،دیگر اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں یہ اشعار اصلاح و تنقید کیلیے پیش کر رہا ہوں۔ کہتا ہے اپنے دل سے نکالوں میں اب تجھے! دانستہ اپنے دل میں بسایا ہی کب تجھے؟ میں خود کو خود میں ڈھونڈ نہیں پایا آج تک حیرت ہے! مجھ میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں سب تجھے واقف نہیں جو حسن کی...
  8. طارق شاہ

    اعجاز رحمانی ::::: راہ دُشوار جس قدر ہوگی::::: Ejaz Rehmani

    غزل راہ دُشوار جس قدر ہوگی جُستُجو اور مُعتبر ہوگی آدمی آدمی پہ ہنستا ہے اور کیا ذِلَّتِ بشر ہوگی پتّھروں پر بھی حرف آئے گا جب کوئی شاخ بے ثمر ہوگی جاگ کر بھی نہ لوگ جاگیں گے زندگی خواب میں بسر ہوگی حُسن بڑھ جائےگا تکلّم کا جس قدر بات مُختصر ہوگی اعجاز رحمانی
  9. راحیل فاروق

    منزلِ عشق تک نہ چاہ نہ راہ

    منزلِ عشق تک نہ چاہ نہ راہ چل مگر کار ساز ہے اللہ وہ پڑے ہیں لغت دھرے کے دھرے کر گئی کام بے زبانئِ آہ ! اہلِ دل زلزلوں کی زد میں جیے تمھیں لرزا گئی فقط افواہ ٭ نہ ہوا چین لمحہ بھر کو نصیب دل ہے دنیا میں...
  10. عاطف ملک

    برائے تنقید: رہبرِ نے سوز پیچھے جو گیا

    محترم الف عین اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں اصلاح کیلیے پیشِ کر رہا ہوں۔ "رہبرِ نے سوز" پیچھے جو گیا خود فریبی کے بھنور میں کھو گیا جس کا منصب اشرف المخلوق تھا نفس پرور ہو کے اسفل ہو گیا کھل اٹھیں کلیاں، خزائیں چھٹ گئیں جس جگہ اس شوخ کا پرتو گیا عقل سے پوچھا دلِ نادان نے تُو تو عاقل تھی، تجھے...
  11. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::: بے اعتناعی کی بڑھتی ہُوئی سی یہ تابی :::::: Shafiq Khalish

    غزل بے اعتناعی کی بڑھتی ہُوئی سی یہ تابی کہیں نہ جھونک دے ہم کو بجنگِ اعصابی گئی نظر سے نہ رُخ کی تِری وہ مہتابی لیے ہُوں وصل کی دِل میں وہ اب بھی بیتابی مَیں پُھول بن کے اگر بُت سے اِک لِپٹ بھی گیا زیادہ دِن تو میّسر رہی نہ شادابی مِری نمُود و نمائش ہے خاک ہی سے ، مگر سکُھا کے خاک...
  12. ملک محمد اسد

    غزل بعنوان "پاگل" برائے اصلاح و تنقیدی جائزہ

    ایک غزل احباب کی خدمت میں تم نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کے بارے پاگل ننگے پاوں ہیں اور تلوار کے دھارے، پاگل اس قدر تیرگی میں کیسے ٹھکانہ ڈھونڈیں؟ کون دیتا ہے فقیروں کو سہارے پاگل عمر بھر کون بھلا ساتھ تمہارا دیتا؟ تم تو بھولے ہو، دیوانے ہو، بیچارے پاگل نقد ڈھونڈے سے جہاں نیند میسر نہ ہوں واں...
  13. طارق شاہ

    ناصر کاظمی : ::::: پردے میں ہر آواز کے شامِل تو وہی ہے ::::::Nasir Kazmi

    غزل پردے میں ہر آواز کے شامِل تو وہی ہے ہم لا کھ بدل جائیں، مگر دِل تو وہی ہے موضوعِ سُخن ہے وہی افسانۂ شِیرِیں ! محِفل ہو کوئی، رَونَقِ محِفل تو وہی ہے محسُوس جو ہوتا ہے، دِکھائی نہیں دیتا دِل اور نظر میں حدِ فاصِل تو وہی ہے ہر چند تِرے لُطف سے محرُوم نہیں ہم لیکن دلِ بیتاب کی مُشکل تو وہی...
  14. فہد اشرف

    بشیر بدر محفلِ مےکشاں کوچۂ دلبراں

    محفلِ مےکشاں کوچۂ دلبراں ہر جگہ ہو لیے اب چلیں دل کہاں مصلحت چاہتی ہے کہ منزل ملے اور دل ڈھونڈتا ہے کوئی کارواں چاندنی بھی مری طرح حیرت میں ہے چھپ گیا کوئی آواز دے کر کہاں جانی پہچانی ہے ہر ادا، ہر نظر ہاں، مگر یہ نہیں یاد دیکھا کہاں رات یوں غم نے پھر دل میں آواز دی جیسے صحرا کی مسجد میں شب...
  15. ملک محمد اسد

    چند عروض، برائے اصلاح و تنقیدی جائزہ

    میں جب بچہ تھا تو اکثر کھلونے ٹوٹ جاتے تھے میرے رونے پہ ماں آکر کھلونے جوڑ دیتی تھی سنا ہے ماں سے بھی بڑھ کر تجھے الفت ہے بندوں سے تو آ کے جوڑ دے یا رب میں خود کو توڑ بیٹھا ہوں از قلم : ملک محمد اسد
  16. کاشفی

    فراق زندگی درد کی کہانی ہے - فراق گورکھپوری

    غزل (فراق گورکھپوری) زندگی درد کی کہانی ہے چشمِ انجم میں بھی تو پانی ہے بے نیازانہ سن لیا غمِ دل مہربانی ہے مہربانی ہے وہ بھلا میری بات کیا مانے اس نے اپنی بھی بات مانی ہے شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ ساز یا ترا شعلۂ جوانی ہے وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو گاہ گل گاہ رات رانی ہے بن کے معصوم...
  17. طارق شاہ

    محشؔر بدایونی :::: نشہ ہے، جہل ہے، شر ہے، اِجارہ داری ہے::::: Mehshar Badayuni

    غزل نشہ ہے، جہل ہے، شر ہے، اِجارہ داری ہے ہماری جنگ، کئی مورچوں پہ جاری ہے سَمیٹ رکّھا ہے جس نے تعیش دُنیا کے سُکونِ دِل کا تو ، وہ شخص بھی بِھکاری ہے یہ پُوچھنے کا تو حق ہے سب اہلِ خِدمت کو! ہمارے دُکھ ہیں، خوشی کیوں نہیں ہماری ہے اُس اِنتظار کا اب موت تو نہیں ہے جواز جس اِنتظار میں، اِک...
  18. راحیل فاروق

    عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

    تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟ خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟ لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟ مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟ کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟...
  19. راحیل فاروق

    میر دل کی کچھ تقصیر نہیں ہے آنکھیں اس سے لگ پڑیاں

    دل کی کچھ تقصیر نہیں ہے آنکھیں اس سے لگ پڑیاں مار رکھا سو ان نے مجھ کو کس ظالم سے جا لڑیاں ایک نگہ میں مر جاتا ہے عاشقِ کوچکِ دل اس کا زہر بھری کیا کام آتی ہیں گو وے آنکھیں ہوں بڑیاں عقدے داغ دل کے شاید دست قدرت کھولے گا ناخن سے تدبیر کے میری کھلتی نہیں یہ گل جھڑیاں نحس تھے کیا وے وقت و...
  20. طارق شاہ

    فیض احمد فیضؔ :::::ہم تو مجبور تھے اُس دِل سے کہ جس میں ہر دَم ::::: Faiz Ahmad Faiz

    ہم تو مجبور تھے اُس دِل سے ! ہم تو مجبور تھے اُس دِل سے کہ جس میں ہر دَم گردِشِ خُوں سے وہ کُہرام بَپا رہتا ہے جیسے رِندانِ بَلا نَوش جو مِل بیٹھیں بَہم میکدے میں سفرِِجام بَپا رہتا ہے سَوزِ خاطِر کو مِلا جب بھی سہارا کوئی داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی مرہَمِ یاس سے ما ئل بہ شِفا ہونے لگا...
Top