اردو ادب

  1. کاشفی

    کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے - باقی احمد پوری

    غزل (باقی احمد پوری) کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے ضمیروں کی صدا پر بھی، نہ تم نکلے، نہ ہم نکلے کرم کی ایک یہ صورت بھی ہوسکتی ہے، مقتل میں تری تلوار بھی چلتی رہے اور خوں بھی کم نکلے نہ میں واعظ، نہ میں زاہد، مریضِ عشق ہوں ساقی! مجھے کیا عذر پینے میں، اگر سینے سے غم نکلے محبت میں یہ...
  2. کاشفی

    تعلق میں گماں کیا کیا نہیں ہے - شوق انصاری

    غزل (شوق انصاری - فیصل آباد، پاکستان) تعلق میں گماں کیا کیا نہیں ہے جسے اپنا کہیں اپنا نہیں ہے خزاں کا روپ ہے مفلس کا چہرہ کسی موسم میں بھی کھلتا نہیں ہے چمن کی خستہ حالی کہہ رہی ہے چمن کا پاسباں اچھا نہیں ہے نبھی ہے وقت سے جیسے نبھالی انا کو بیچ کر کھایا نہیں ہے شرافت کے نقابوں کو ہٹا دو...
  3. کاشفی

    جو گھر بھی ہے، ہم صورتِ مقتل ہے، ذرا چل - اعجاز صدیقی

    غزل (اعجاز صدیقی) جو گھر بھی ہے، ہم صورتِ مقتل ہے، ذرا چل کھٹکائیں شہیدوں کے دریچوں کو، ہوا چل اک دوڑ میں ہر منظر ہستی ہے چلا چل چلنے کی سکت جتنی ہے، اس سے بھی سِوا چل ہو مصلحت آمیز کہ نا مصلحت آمیز جیسا بھی ہو، ہر رنگ تعلق کو نبھا چل رُکنا ہے، تو اک بھیٹر کو ہمراہ لگا لے چلنا ہے، تو بے ہم...
  4. کاشفی

    زباں، اظہار، لہجہ بھول جاؤں - حامد اقبال صدیقی

    غزل (حامد اقبال صدیقی، ممبئی) زباں، اظہار، لہجہ بھول جاؤں مرے معبود کیا کیا بھول جاؤں بکھر جاؤں زمیں سے آسماں تک پھر ایسا ہو، سمٹنا بھول جاؤں میں تیرا نام اتنی بار لکھوں کہ اپنا نام لکھنا بھول جاؤں تری پرچھائیں تو لے آؤں گھر تک کہیں اپنا ہی سایہ بھول جاؤں تری آواز تو پہچان لوں گا یہ ممکن ہے...
  5. کاشفی

    سلام: کیوں خلش اہل جہاں کو ہے - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام کیوں خلش اہلِ جہاں کو ہے (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  6. کاشفی

    کیا چیز ہے اسلام بغیر شبیرؑ - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    کیا چیز ہے اسلام بغیر شبیرؑ (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  7. کاشفی

    نام، شکل اور سیرت سب ہی مرتضیٰ کی ہے - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    منقبت نام، شکل اور سیرت سب ہی مرتضیٰ کی ہے ( پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  8. کاشفی

    اے چاند کربلا کے تونے تو دیکھے ہونگے - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام اے چاند کربلا کے تونے تو دیکھے ہونگے اُترے تھے اس زمیں پر عرشِ بریں کے تارے (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  9. کاشفی

    پانچ اماموں کا رہا بن کے سہارا عباسؑ - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام پانچ اماموں کا رہا بن کے سہارا عباسؑ (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  10. کاشفی

    مجھے کوئی غم نہیں ہے مگر اے حُسین تیرا - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام مجھے کوئی غم نہیں ہے مگر اے حُسین تیرا (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  11. کاشفی

    جو بچپنے میں رکھے سر پہ خاک پائے حسینؑ - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام جو بچپنے میں رکھے سر پہ خاک پائے حسینؑ (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  12. کاشفی

    علویؑ و جعفریؑ ہیں یہ عونؑ یہ محمدؑ - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    سلام علویؑ و جعفریؑ ہیں یہ عونؑ یہ محمدؑ (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  13. کاشفی

    منظر بھوپالی رنگ رنگ کے سانپ ہماری دلّی میں - منظر بھوپالی

    گیت (منظر بھوپالی) رنگ رنگ کے سانپ ہماری دلّی میں ملیں گے زہروں کے بیوپاری دلّی میں کیسے کیسے لوگ ہماری دلّی میں اَٹل بہاری اور بُخاری دلّی میں
  14. کاشفی

    یہ رمضان ہے برکتوں کا مہینہ - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    یہ رمضان ہے برکتوں کا مہینہ ( پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  15. کاشفی

    پنجتن سے وابسطہ اُلفتوں کا کیا کہنا - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    منقبت ( پروفیسر سبطِ جعفر شہید) پنجتن سے وابسطہ اُلفتوں کا کیا کہنا اِن کے دشمنوں کے لیئے نفرتوں کا کیا کہنا آل کی مودت ہی اجر ہے رسالت کا سرورِ دو عالم سے قربتوں کا کیا کہنا
  16. کاشفی

    حیدر ہی نبرد آزما ہر بار نہ ہوتے - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    منقبت (پروفیسر سبطِ جعفر شہید) حیدر ہی نبرد آزما ہر بار نہ ہوتے گر لشکرِ اسلام میں فرار نہ ہوتے بدر و اُحد و خندق و خیبر، شبِ ہجرت کیا ہوتا اگر حیدر کرار نہ ہوتے جاں بیچ کے سوئے تھے علی یوں شبِ ہجرت دشمن نہ جگاتے تو وہ بیدار نہ ہوتے دینِ شہ لولاک بھلا کیسے پنپتا گر عطرت و اصحابِ وفادار نہ...
  17. کاشفی

    کرم ہو خدایا - پروفیسر سبطِ جعفر شہید

    کرم ہو خدایا (پروفیسر سبطِ جعفر شہید)
  18. کاشفی

    تیری آنکھوں میں رہوں - شبینا ادیب

    گیت (شبینا ادیب) تیری آنکھوں میں رہوں روشنی بن کر تیرے گھر کے چراغوں میں رہوں تیرا وعدہ بھی نہ سیاسی ہو اب فضاؤں میں نہ اُداسی ہو چھو کے قدموں کو ہر خوشی گزرے کاش اب یوں ہی زندگی گزرے میں تیرے ساتھ تیرے دن تیری راتوں میں رہوں پیار یہ میرا تجھ سے کہتا ہے دل کی دھڑکن میں تو ہی رہتا ہے گیت میں...
  19. کاشفی

    کسی نیزے پہ کوئی سر نہیں ہے - ملِک زادہ جاوید

    غزل (ملِک زادہ جاوید) کسی نیزے پہ کوئی سر نہیں ہے شجاعت سے بھرا لشکر نہیں ہے پُرانے لوگ اُکساتے ہیں ورنہ نئی نسلوں میں بالکل شر نہیں ہے سبھی گملے اُٹھا لایا ہوں گھر میں مجھے اب موسموں کا ڈر نہیں ہے بہت کچھ تجھ میں ہے جاوید لیکن تو اپنے باپ سے بہتر نہیں ہے
  20. کاشفی

    جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں - ملِک زادہ جاوید

    غزل (ملِک زادہ جاوید) جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں ذرا سے نام اور تشہیر پاکر ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں سنبھل کر گفتگو کرنا بزرگو! کہ اب بچے پلٹ کر بولتے ہیں کچھ اپنی زندگی میں مر چکے ہیں کچھ ایسے ہیں...
Top