اقبال ساجد

  1. فرحان محمد خان

    غزل : کیا سوچتا ہے ، یاد کا سورج طلوع کر - اقبال ساجد

    غزل کیا سوچتا ہے ، یاد کا سورج طلوع کر چوپال بھر چکی ہے ، کہانی شروع کر آئے نہ حرف خود ہی ترے سرد و گرم پر دریافت تو نہ اسکا محلِ وقوع کر دربارِ شاہ وقت کے آداب بھی تو سیکھ سجدہ تو کرنا بعد میں ، پہلے رکوع کر تفتیش اپنے ہاتھ میں لے ، اپنے قتل کی خود ہی تلاش شہر میں جائے وقوع کر ساجدؔ...
  2. فرحان محمد خان

    غزل : بدن پر مَیل اور چہرے پہ گردِ راہ کا رہنا - اقبال ساجد

    غزل بدن پر مَیل اور چہرے پہ گردِ راہ کا رہنا کوئی رہنا یہاں ہے شخصِ بے تنخواہ کا رہنا کسی دن اپنی حیثیت گنوا بیٹھے گا ساحل بھی سمندر کے قریب اچھا نہیں ہے چاہ کا رہنا مرا سینہ بھی گویا وادیِ تاریک ٹھہرا ہے کہ اس بستی میں رہنا یے دلِ گُمراہ کا رہنا کئی برسوں کے بعد آخر فلک نیچے اُتر آیا...
  3. فرحان محمد خان

    غزل : کل کو جاری قتل کا فرمان بھی ہو جائے گا - اقبال ساجد

    غزل کل کو جاری قتل کا فرمان بھی ہو جائے گا دستخط تو ہو چکے ، اعلان بھی ہو جائے گا غیر کے کالے سمندر میں گرا دے گا کوئی میں اگر دریا ہوں ، وہ ڈھلوان بھی ہو جائے گا شب سیاہی بھی مری قسمت میں لکھی جائے گی اور طلوعِ صبح کا اعلان بھی ہو جائے گا رفتہ رفتہ حسرتوں کی آگ بھی برفائے گی آنسوؤں کا...
  4. فرحان محمد خان

    غزل : سنا احوال تیرے شہر کے معیار کیسے ہیں ؟ - اقبال ساجد

    غزل سنا احوال تیرے شہر کے معیار کیسے ہیں ؟ مکیں کیسے ہیں اس کے اور در و دیوار کیسے ہیں ؟ جہاں رہتا ہے تُو اس خاک کی تاثیر کیسی ہے ؟ پھلوں کا ذائقہ کیسا ہے اور اشجار کیسے ہیں ؟ اُبھر کر سامنے آتے ہیں یا چھپتے ہیں نظروں سے کہانی گھومتی جن پہ وہ کردار کیسے ہیں ؟ وہاں مزدور کی اُجرات ادھوری...
  5. فرحان محمد خان

    غزل : خوشی کے جشن میں رنج و ملال جیت گیا - اقبال ساجد

    غزل خوشی کے جشن میں رنج و ملال جیت گیا ہمارے چہرے کا ہر خدوخال جیت گیا حسین چہروں میں کس کا کمال جیت گیا یہ کون صاحبِ حسن و جمال جیت گیا نظر ملا نہ سکا مجھ سے وہ سرِ مسند پھر اس برس مرا جاہ و جلال جیت گیا مری دلیل سے بڑھ کر کوئی دلیل نہ تھی میں دے کے خود وہاں اپنی مثال جیت گیا شکست کھا...
  6. فرحان محمد خان

    غزل : میں بھوک پہنوں ، میں بھوک اوڑھوں ، میں بھوک دیکھوں ، میں پیاس لکّھوں - اقبال ساجد

    غزل میں بھوک پہنوں ، میں بھوک اوڑھوں ، میں بھوک دیکھوں ، میں پیاس لکّھوں برہنہ جسموں کے واسطے میں خیال کاتُوں کپاس لکّھوں سسک سسک کر جو مر رہے ہیں ، میں اُن میں شامل ہوں اور پھر بھی کسی کے دل میں اُمید بوؤں ، کسی آنکھوں میں آس لکّھوں لہو کے قطرے بدن کے طائر ، ہر ایک خواہش ہے شاخ میری کسی...
  7. فرحان محمد خان

    غزل : پتہ کیسے چلے دنیا کو ، قصرِ دل کے جلنے کا - اقبال ساجد

    غزل پتہ کیسے چلے دنیا کو ، قصرِ دل کے جلنے کا دھوئیں کو راستہ ملتا نہیں باہر نکلنے کا بتا پھولوں کی مسند سے اتر کے تجھ پہ کیا گزری؟ مرا کیا میں تو عادی ہو گیا کانٹوں پہ چلنے کا مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکن اداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا چڑھے گا زہر خوشبو کا اسے آہستہ...
  8. فرحان محمد خان

    غزل : جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں - اقبال ساجد

    غزل جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں دِکھاوے کے لئے خُوشحالیاں لکھتے ہیں کاغذ پر ہم اس دھرتی پہ ورنہ رزق کے چکّر میں رہتے ہیں ضرورت ہی لئے پھرتی ہے ہم کو دربدر ورنہ!! ہم اُن میں سے نہیں جو جستجوئے زر میں رہتے ہیں لہو سے جو اُٹھائی تھیں وہ...
  9. فرحان محمد خان

    غزل : ٹوٹیں گی جب طنابیں ، رہ جائیں گے سُکڑ کے - اقبال ساجد

    غزل ٹوٹیں گی جب طنابیں ، رہ جائیں گے سُکڑ کے کھنچ کر بڑے ہوئے ہیں ، یہ آدمی ربڑ کے ٹانگوں سے بانس باندھے ، شوقِ قد آوری میں بونے بھی راستوں میں چلنے لگے اکڑ کے یہ خواہشیں کہ جیسے آوارہ لڑکیاں ہوں ارماں ہیں شہرِ دل میں یا بدقماش لڑکے جذبے نکل گئے تھے سنیے کو کوٹھڑی سے مفرور قیدیوں کو ،...
  10. فرحان محمد خان

    غزل : دنیا کی کیا مجال ، چمن سے نکال دے - اقبال ساجد

    غزل دنیا کی کیا مجال ، چمن سے نکال دے مجھ کو حدودِ ملکِ سخن سے نکال دے طاقت تو ہے عدو میں مگر حوصلہ نہیں ورنہ مری زبان دہن سے نکال دے کیا سوچتا ہے ، کاٹ رگ و پے کی رسیاں اب خون کا عذاب بدن سے نکال دے ہاتھوں کو خود صلیب بنا ، اپنے واسطے موقع ہے زندگی کو گُھٹن سے نکال دے سورج کو سب کے...
  11. فرحان محمد خان

    غزل : کسی بھی شاخ سے خیرات گھر لے کر نہیں آئے - اقبال ساجد

    غزل کسی بھی شاخ سے خیرات گھر لے کر نہیں آئے گئے تھے باغ میں لیکن ثمر لے کر نہیں آئے ہم اپنے کاغذی پھولوں کی خاطر مفت کی خوشبو چمن میں لا تو سکتے تھے مگر لے کر نہیں آئے ہمارے شب زدوں کو قرض کی عادت نہ پڑ جائے اُجالوں کے نگر یوں سحر لے کر نہیں آئے مسافر تو مسافت کی نشانی ساتھ لائے ہیں...
  12. فرحان محمد خان

    غزل : کمانِ شب سے سحرکار تیر چھوڑ گیا - اقبال ساجد

    غزل کمانِ شب سے سحرکار تیر چھوڑ گیا ستارہ ٹوٹ کے روشن لکیر چھوڑ گیا اب اس میں زہر ملاؤ کہ تم مٹھاس پیو پہاڑ کاٹ کے وہ جوئے شیر چھوڑ گیا یہ اور بات کہ اس پر کوئی چلے نہ چلے لکیر چھوڑنے والا لکیر چھوڑ گیا پھر آج شہر کی سب سے بڑی حویلی میں تمام دن کی کمائی فقیر چھوڑ گیا زمین سنگ پہ وہ آئینہ...
  13. فرحان محمد خان

    غزل : چپکے سے آ کے دھیان کی زنجیر کھینچ لے - اقبال ساجد

    غزل چپکے سے آ کے دھیان کی زنجیر کھینچ لے خوابوں کی چھت سے وہم کے شہتیر کھینچ لے چُپ کس لئے ہے اینٹ کا پتھر سے دے جواب؟ حق چاہئے تو میان سے شمشیر کھینچ لے مظلوم ہے تو پیش ہو دربارِ وقت میں انصاف چاہتا ہے تو زنجیر کھینچ لے گھونٹیں نہ خواہشوں کا گلا کیوں دلوں میں لوگ؟ جب ہاتھ ہی دعاؤں سے تاثیر...
  14. فرحان محمد خان

    غزل : کبھی مصروفِ آزادی بھی یہ ہونے نہیں دیتے - اقبال ساجد

    غزل کبھی مصروفِ آزادی بھی یہ ہونے نہیں دیتے مرے بچّے مجھے فٹ پاتھ پر سونے نہیں دیتے ہنر جب جانتا ہوں میں دلوں کو کاشت کرنے کا یہ کیسے لوگ ہیں جو بیج بھی بونے نہیں دیتے جوانی جاگتی ہے جن میں کچھ ایسے بھی چہرے ہیں جو دن کو سوتے ہیں وہ رات کو سونے نہیں دیتے میں آخر اپنی آنکھیں جیب میں رکھ...
  15. فرحان محمد خان

    غزل : تقدیسِ ہُنر تُو مری تکمیل تو کر جا - اقبال ساجد

    غزل تقدیسِ ہُنر تُو مری تکمیل تو کر جا آ ، آخری آیت کی طرح دل میں اُتر جا یا رب ہو مرا دینِ غزل اور افق گیر ہر لحظہ بُلند اس کا زمانے میں ہو در جا یہ دُھوپ ہے وہ جس نے کبھی شاخ نہ دیکھی چرچا ہے مری فکرِ سحر خیز کا ہر جا کیا جانئے کیا بات ہے ذہنوں کے افق پر بجلی نہیں چمکی ابھی بادل نہیں...
  16. فرحان محمد خان

    غزل : سورج ہوں زندگی کی رَمق چھوڑ جاؤں گا - اقبال ساجد

    غزل سورج ہوں زندگی کی رَمق چھوڑ جاؤں گا میں ڈوب بھی گیا تو شَفق چھوڑ جاؤں گا تاریخ کربلائے سخن! دیکھنا کہ میں خونِ جگر سے لکھ کے ورق چھوڑ جاؤں گا اِک روشنی کی موت مروں گا زمین پر جینے کا اس جہان میں حق چھوڑ جاؤں گا روئیں گے میری یاد میں مہر و مہ و نجوم ان آئنوں میں عکسِ قَلق چھوڑ جاؤں...
  17. فرحان محمد خان

    غزل : کُھلتے ہیں جُستجو کے یہ دَر ، کس کے واسطے ؟ -اقبال ساجد

    کُھلتے ہیں جُستجو کے یہ دَر ، کس کے واسطے ؟ نکلی حصارِ شب سے سحر ، کس کے واسطے ؟ خوابیدہ بستیوں میں نہ جائے شعاعِ مَہر کس کس کا کھٹکھٹائے گی در ، کس کے واسطے ؟ چُنتے ہیں گلستانِ اُفق سے ، گُلِ شفق مہتاب خُو ستارہ نظر ، کس کے واسطے ؟ یہ کون پانیوں کے سفر پہ نکل پڑا ؟ پڑتے ہیں موج موج بھنور ،...
  18. فرحان محمد خان

    غزل : نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں - اقبال ساجد

    غزل نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں فراقؔ و فیضؔ و ندیمؔ و فرازؔ کچھ بھی نہیں نہ ان کا لہجہ نیا ہے ، نہ ان کی سو چ نئی یہ فکر گر نظریہ طراز کچھ بھی نہیں لکھیں اُصول مگر اپنی مُنفعت کے لئے کُھلا یہ راز کہ یہ نعرہ باز کچھ بھی نہیں غزل لکھے جو فقط اس لئے کہ گائی جائے میری نظر میں تو وہ...
  19. نیرنگ خیال

    اعتبار ساجد کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا (اقبال ساجد)

    کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا یہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا یہ فوج نکلتی تھی کہاں خانۂِ دِل سے یادوں کو نہایت ہی قرینے سے نکالا میں خون بہا کر بھی ہوا باغ میں رُسوا اُس گُل نے مگر کام پسینے سے نکالا ٹھہرے ہیں زر و سیم کے حقدار تماشائی اور مارِ سیہ ہم نے دفینے سے نکالا یہ سوچ کے...
Top