اعتبار ساجد کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا (اقبال ساجد)

نیرنگ خیال

لائبریرین
کل شب دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا
یہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا

یہ فوج نکلتی تھی کہاں خانۂِ دِل سے
یادوں کو نہایت ہی قرینے سے نکالا

میں خون بہا کر بھی ہوا باغ میں رُسوا
اُس گُل نے مگر کام پسینے سے نکالا

ٹھہرے ہیں زر و سیم کے حقدار تماشائی
اور مارِ سیہ ہم نے دفینے سے نکالا

یہ سوچ کے ساحل پہ سفر ختم نہ ہو جائے
باہر نہ کبھی پاؤں سفینے سے نکالا​
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
شکریہ عمر بھائی :)

پہلا شعر تو کافی عرصے پہلے پڑھا تھا جو ازبر بھی لیکن مکمل غزل بھی لاجواب ہے - شکریہ نشیلے
جی یہ شعر ایک بار منے نے بھی محفل پر کسی گپ شپ کے دھاگے میں تحریر کیا تھا۔ میں نے پہلی بار وہاں پڑھا تھا۔۔۔ :)
شکریہ مرزا بھائی :)

اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت
خود ہی دسمبر کو خود پر طاری کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔
مرشدددددددددد
ہیں۔۔۔۔ :eek:
اس کا دسمبر سے کیا تعلق ہو گیا۔۔۔۔ :rolleyes:
 

محمد وارث

لائبریرین
پہلا شعر بہت معروف ہے اور بہت پسند بھی کیا جاتا ہے، پڑھنے میں بھی بہت اچھا لگتا ہے، قافیہ بھی دل لبھاتا ہے، لیکن مجھے ہمیشہ سے اس پر تحفظات رہے ہیں۔

شاعر نے اپنے سینے کو مدینے سے تشبیہ دی ہے اور آوارہ دل کو کافر کہہ کر اِس مدینے سے نکال دیا ہے، لیکن سینے کو مدینے سے تشبیہ دینے کی وجہ کیا ہے؟ یعنی وجہ شبہ کیا ہے۔ دل ہی کی وجہ سے تو سینے کی ادبی وقعت ہے، دل کے بغیر کونسی چیز اور ہے جس کی وجہ سے سینے کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے؟ اور اگر دل کی وجہ سے اہمیت ہے تو پھر اس دل کے بغیر سینہ وہ سینہ نہ رہا جس کو یہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

آوارہ دل کو شاعر اگر نیک چلن بنا لیتا یعنی خواہشاتِ نفسانی اگر شاعر دل سے نکال دیتا (جو اس شعر کا شاید اصل مقصد ہے) تو بہتر بات بن جاتی۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
پہلا شعر بہت معروف ہے اور بہت پسند بھی کیا جاتا ہے، پڑھنے میں بھی بہت اچھا لگتا ہے، قافیہ بھی دل لبھاتا ہے، لیکن مجھے ہمیشہ سے اس پر تحفظات رہے ہیں۔

شاعر نے اپنے سینے کو مدینے سے تشبیہ دی ہے اور آوارہ دل کو کافر کہہ کر اِس مدینے سے نکال دیا ہے، لیکن سینے کو مدینے سے تشبیہ دینے کی وجہ کیا ہے؟ یعنی وجہ شبہ کیا ہے۔ دل ہی کی وجہ سے تو سینے کی ادبی وقعت ہے، دل کے بغیر کونسی چیز اور ہے جس کی وجہ سے سینے کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے؟ اور اگر دل کی وجہ سے اہمیت ہے تو پھر اس دل کے بغیر سینہ وہ سینہ نہ رہا جس کو یہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

آوارہ دل کو شاعر اگر نیک چلن بنا لیتا یعنی خواہشاتِ نفسانی اگر شاعر دل سے نکال دیتا (جو اس شعر کا شاید اصل مقصد ہے) تو بہتر بات بن جاتی۔
متفق وارث بھائی۔ مجھے اس کا یہ شعر سب سے زیادہ پسند ہے۔

میں خون بہا کر بھی ہوا باغ میں رُسوا
اُس گُل نے مگر کام پسینے سے نکالا
 
Top