غزل : کیا سوچتا ہے ، یاد کا سورج طلوع کر - اقبال ساجد

غزل
کیا سوچتا ہے ، یاد کا سورج طلوع کر
چوپال بھر چکی ہے ، کہانی شروع کر

آئے نہ حرف خود ہی ترے سرد و گرم پر
دریافت تو نہ اسکا محلِ وقوع کر

دربارِ شاہ وقت کے آداب بھی تو سیکھ
سجدہ تو کرنا بعد میں ، پہلے رکوع کر

تفتیش اپنے ہاتھ میں لے ، اپنے قتل کی
خود ہی تلاش شہر میں جائے وقوع کر

ساجدؔ بچھا کے بوریا دل کا نماز میں
ظاہر طریقِ حُسنِ خضوع و حُشوع کر
اقبال ساجد
 
Top