درد کو لذت ملی، زخموں کو گہرائی ملی
عشق کی محفل میں یوں ہم کو پذیرائی ملی
وحشتِ دل کا تو شاید سوچ لیتے کچھ علاج
آرزو تو دل سے بڑھ کر ہم کو سودائی ملی
بے مروت موسموں کا کرب نازل ہو گیا
جب بھی پھولوں سے ہمیں بوئے شناسائی ملی
رازِ دل اپنی زباں پر تو کبھی آیا نہ تھا
جب ملی تیرے حوالے سے ہی...