ظہیر کاشمیری عشق کی محفل میں یوں ہم کو پذیرائی ملی

یاز نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2017

  1. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    درد کو لذت ملی، زخموں کو گہرائی ملی
    عشق کی محفل میں یوں ہم کو پذیرائی ملی

    وحشتِ دل کا تو شاید سوچ لیتے کچھ علاج
    آرزو تو دل سے بڑھ کر ہم کو سودائی ملی

    بے مروت موسموں کا کرب نازل ہو گیا
    جب بھی پھولوں سے ہمیں بوئے شناسائی ملی

    رازِ دل اپنی زباں پر تو کبھی آیا نہ تھا
    جب ملی تیرے حوالے سے ہی رُسوائی ملی

    ہم کو ساری عمر کی اختر شماری کے عوض
    کچھ ملا تو بس یہی راتوں کی تنہائی ملی

    دشتِ وحشت سے گزر جانا کوئی آساں نہیں
    ہر مسافر کو یہاں سے آبلہ پائی ملی

    ربط باہم تم سے کم کم تھا پر اس کے باوجود
    آرزوؤں کو سکوں، خوابوں کو رعنائی ملی

    کس طرح اس شخص کو بے مہر یا قاتل کہیں
    جاں بلب امید کو جس سے مسیحائی ملی
    (ظہیر کاشمیری)
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 29, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 1
  2. ایازوسیر

    ایازوسیر محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    خوبصورت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب
    یہ غالباً اس طرح ہے.
    وحشتِ دل کا تو شاید سوچ لیتے کچھ علاج
     
    • متفق متفق × 1
  4. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بالکل درست اصلاح فرمائی ہے جناب۔ ہم نے ابھی کلیاتِ ظہیر سے چیک کیا ہے اور واقعی ہماری کتابت میں ہی غلطی تھی۔
    بہت شکریہ و نوازش۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر