وہ محفلیں، وہ مصر کے بازار کیا ہوئے
اے شہرِِ دل! ترے در و دیوار کیا ہوئے
ڈسنے لگی ہیں ہم کو زمانے کی رونقیں
ہم جرمِ عاشقی کے سزاوار کیا ہوئے
اتنی گریز پا تو نہ تھی عمرِ دوستی
اے خندہء خفی ترے اقرار کیا ہوئے
پھولوں نے بڑھ کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی
وارفتگی میں مائلِ گلزار کیا ہوئے
جن کا جمال...