آپ نے جو شعر لکھا ہے اس کا دوسرا مصرع درست نہیں ہے، تلاش کرنے پر مجھے یہ شعر اس طرح سے ملا ہے اور یہ مولانا رومی کی مثنوی کا شعر ہے
ترکِ دنیا گیر تا سلطاں شَوَی
ورنہ گر چرخے تو، سرگرداں شوی
مفہوم کچھ یوں ہے کہ ترکِ دنیا اختیار کر تا کہ تو سلطان یا بادشاہ بن جائے وگرنہ تیرا آسمان یعنی تو...